@gloriamedina_1: French Linen Curtains #linencurtains #curtains #homedecor #tiktokshopblackfriday #tiktokshopcybermonday

Gloria Castro
Gloria Castro
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 03 November 2026 02:08:13 GMT
31
3
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @gloriamedina_1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#ایک ماہ کی مہلت زندگی میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر عام سے دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے اندر جدائی کا ایک ایسا درد چھپا ہوتا ہے جسے صرف محسوس کرنے والا ہی سمجھ سکتا ہے۔ ایک دن ایک بیٹا اپنے بوڑھے باپ کے پاس آیا اور بڑے اطمینان سے کہنے لگا: بیٹا: ابا جان! میں انگلینڈ جا رہا ہوں۔ کچھ حالات ایسے ہیں کہ مجھے وہاں جانا پڑ رہا ہے۔ ان شاء اللہ ڈیڑھ سال بعد واپس آؤں گا، پھر آپ سے ملاقات ہوگی۔ باپ نے بیٹے کی بات سنی تو کچھ دیر خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی اتر آئی۔ پھر دھیمی آواز میں بولا: باپ: بیٹا! تم ڈیڑھ سال کی بات کر رہے ہو، مگر مجھے تو لگتا ہے کہ میں ایک مہینہ بھی نہیں رہ سکوں گا۔ بیٹا یہ سن کر حیران ہوا اور کہنے لگا: بیٹا: ابا جان! آپ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ آپ کو لمبی عمر دے۔ ان شاء اللہ جب میں واپس آؤں گا تو آپ میرے استقبال کے لیے دروازے پر کھڑے ہوں گے۔ باپ نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بیٹے کی طرف دیکھا۔ شاید وہ مسکراہٹ اپنے آنسو چھپانے کی آخری کوشش تھی۔ وہ دل ہی دل میں جانتا تھا کہ عمر کی شام ڈھل چکی ہے۔ جسم ساتھ چھوڑ رہا ہے، سانسوں کا بھروسا نہیں رہا اور زندگی کی کتاب کے آخری صفحات باقی ہیں۔ شاید وہ اپنے بیٹے کو یہ بتانا نہیں چاہتا تھا کہ اس کے پاس اب ڈیڑھ سال تو کیا، شاید چند ہفتے بھی نہ ہوں۔ اس بوڑھے باپ کے دل میں کتنے ارمان ہوں گے۔ وہ چاہتا ہوگا کہ بیٹا کچھ دن اور اس کے پاس بیٹھے، اس کے ساتھ دو باتیں کرے، اس کے ہاتھ دبائے، اس کی پیشانی چومے اور کبھی اس کے پاس بیٹھ کر اس کا حال بھی پوچھ لے۔ باپ کو دولت نہیں چاہیے تھی، نہ کسی مہنگے تحفے کی خواہش تھی۔ اسے صرف اپنے بیٹے کا ساتھ چاہیے تھا۔ وہ چند لمحے چاہتا تھا جن میں اسے یہ احساس ہو کہ اس کی اولاد ابھی اس کے قریب ہے، وہ تنہا نہیں ہے۔ لیکن بیٹے کے سامنے مستقبل کے منصوبے تھے، جبکہ باپ کے سامنے شاید زندگی کی آخری گھڑیاں تھیں۔ یہی تو زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم اپنے پیاروں سے ملاقات کو کل، پرسوں اور اگلے سال پر چھوڑ دیتے ہیں، مگر ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس کتنا وقت باقی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ باپ ہمیشہ موجود رہے گا، اس کی دعائیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، اس کے گھر کا دروازہ ہمیشہ ہمارے لیے کھلا رہے گا۔ مگر ایک دن وہ دروازہ کھلا تو ہوگا، لیکن وہاں سے آواز دینے والا باپ نہیں ہوگا۔ پھر انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔ وہی کمرہ، وہی چارپائی، وہی عینک، وہی تسبیح اور وہی جگہ جہاں بیٹھ کر باپ بیٹے کا انتظار کیا کرتا تھا۔ اور پھر دل میں ایک سوال بار بار اٹھتا ہے: کاش! میں کچھ دن اور اس کے پاس بیٹھ جاتا۔ کاش! اس کی باتیں سن لیتا۔ کاش! اس کے ہاتھ چوم لیتا۔ کاش! اس کی زندگی میں اسے اتنا وقت دے دیتا جتنا وہ مجھ سے مانگ رہا تھا۔ میرے عزیزو! والدین کی زندگی میں ہماری موجودگی کسی عید، کسی تہوار یا کسی بڑے تحفے کی محتاج نہیں ہوتی۔ انہیں ہماری چند گھڑیاں، ہماری محبت، ہماری توجہ اور ہمارا ساتھ چاہیے۔ اگر آپ کے والد زندہ ہیں تو ان کے پاس بیٹھیں۔ ان کی باتیں سنیں، خواہ وہی باتیں بار بار کیوں نہ دہراتے ہوں۔ ان کی خاموشی کو سمجھیں، ان کے چہرے کی تھکن پڑھیں اور ان کے ہاتھوں کو تھام کر انہیں احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے آج بھی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ کیونکہ اولاد کے لیے ڈیڑھ سال کا انتظار شاید معمولی بات ہو، مگر ایک بوڑھے باپ کے لیے شاید ایک مہینہ بھی پوری زندگی کے برابر ہو۔ یاد رکھیے! باپ کے انتقال کے بعد اس کی قبر پر جتنے بھی آنسو بہا لیں، وہ چند لمحے واپس نہیں آ سکتے جو اس نے زندگی میں آپ کے انتظار میں گزارے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہر زندہ والد کو صحت، سلامتی اور عافیت عطا فرمائے اور جن کے والد اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
#ایک ماہ کی مہلت زندگی میں بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر عام سے دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے اندر جدائی کا ایک ایسا درد چھپا ہوتا ہے جسے صرف محسوس کرنے والا ہی سمجھ سکتا ہے۔ ایک دن ایک بیٹا اپنے بوڑھے باپ کے پاس آیا اور بڑے اطمینان سے کہنے لگا: بیٹا: ابا جان! میں انگلینڈ جا رہا ہوں۔ کچھ حالات ایسے ہیں کہ مجھے وہاں جانا پڑ رہا ہے۔ ان شاء اللہ ڈیڑھ سال بعد واپس آؤں گا، پھر آپ سے ملاقات ہوگی۔ باپ نے بیٹے کی بات سنی تو کچھ دیر خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی اتر آئی۔ پھر دھیمی آواز میں بولا: باپ: بیٹا! تم ڈیڑھ سال کی بات کر رہے ہو، مگر مجھے تو لگتا ہے کہ میں ایک مہینہ بھی نہیں رہ سکوں گا۔ بیٹا یہ سن کر حیران ہوا اور کہنے لگا: بیٹا: ابا جان! آپ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ آپ کو لمبی عمر دے۔ ان شاء اللہ جب میں واپس آؤں گا تو آپ میرے استقبال کے لیے دروازے پر کھڑے ہوں گے۔ باپ نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بیٹے کی طرف دیکھا۔ شاید وہ مسکراہٹ اپنے آنسو چھپانے کی آخری کوشش تھی۔ وہ دل ہی دل میں جانتا تھا کہ عمر کی شام ڈھل چکی ہے۔ جسم ساتھ چھوڑ رہا ہے، سانسوں کا بھروسا نہیں رہا اور زندگی کی کتاب کے آخری صفحات باقی ہیں۔ شاید وہ اپنے بیٹے کو یہ بتانا نہیں چاہتا تھا کہ اس کے پاس اب ڈیڑھ سال تو کیا، شاید چند ہفتے بھی نہ ہوں۔ اس بوڑھے باپ کے دل میں کتنے ارمان ہوں گے۔ وہ چاہتا ہوگا کہ بیٹا کچھ دن اور اس کے پاس بیٹھے، اس کے ساتھ دو باتیں کرے، اس کے ہاتھ دبائے، اس کی پیشانی چومے اور کبھی اس کے پاس بیٹھ کر اس کا حال بھی پوچھ لے۔ باپ کو دولت نہیں چاہیے تھی، نہ کسی مہنگے تحفے کی خواہش تھی۔ اسے صرف اپنے بیٹے کا ساتھ چاہیے تھا۔ وہ چند لمحے چاہتا تھا جن میں اسے یہ احساس ہو کہ اس کی اولاد ابھی اس کے قریب ہے، وہ تنہا نہیں ہے۔ لیکن بیٹے کے سامنے مستقبل کے منصوبے تھے، جبکہ باپ کے سامنے شاید زندگی کی آخری گھڑیاں تھیں۔ یہی تو زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم اپنے پیاروں سے ملاقات کو کل، پرسوں اور اگلے سال پر چھوڑ دیتے ہیں، مگر ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے پاس کتنا وقت باقی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ باپ ہمیشہ موجود رہے گا، اس کی دعائیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، اس کے گھر کا دروازہ ہمیشہ ہمارے لیے کھلا رہے گا۔ مگر ایک دن وہ دروازہ کھلا تو ہوگا، لیکن وہاں سے آواز دینے والا باپ نہیں ہوگا۔ پھر انسان کے پاس صرف یادیں رہ جاتی ہیں۔ وہی کمرہ، وہی چارپائی، وہی عینک، وہی تسبیح اور وہی جگہ جہاں بیٹھ کر باپ بیٹے کا انتظار کیا کرتا تھا۔ اور پھر دل میں ایک سوال بار بار اٹھتا ہے: کاش! میں کچھ دن اور اس کے پاس بیٹھ جاتا۔ کاش! اس کی باتیں سن لیتا۔ کاش! اس کے ہاتھ چوم لیتا۔ کاش! اس کی زندگی میں اسے اتنا وقت دے دیتا جتنا وہ مجھ سے مانگ رہا تھا۔ میرے عزیزو! والدین کی زندگی میں ہماری موجودگی کسی عید، کسی تہوار یا کسی بڑے تحفے کی محتاج نہیں ہوتی۔ انہیں ہماری چند گھڑیاں، ہماری محبت، ہماری توجہ اور ہمارا ساتھ چاہیے۔ اگر آپ کے والد زندہ ہیں تو ان کے پاس بیٹھیں۔ ان کی باتیں سنیں، خواہ وہی باتیں بار بار کیوں نہ دہراتے ہوں۔ ان کی خاموشی کو سمجھیں، ان کے چہرے کی تھکن پڑھیں اور ان کے ہاتھوں کو تھام کر انہیں احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے آج بھی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ کیونکہ اولاد کے لیے ڈیڑھ سال کا انتظار شاید معمولی بات ہو، مگر ایک بوڑھے باپ کے لیے شاید ایک مہینہ بھی پوری زندگی کے برابر ہو۔ یاد رکھیے! باپ کے انتقال کے بعد اس کی قبر پر جتنے بھی آنسو بہا لیں، وہ چند لمحے واپس نہیں آ سکتے جو اس نے زندگی میں آپ کے انتظار میں گزارے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہر زندہ والد کو صحت، سلامتی اور عافیت عطا فرمائے اور جن کے والد اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

About