@hoalexx2: Quần Jean Nam Dáng Suông Ống Rộng #quanjeans

Lệ Hoa Đây
Lệ Hoa Đây
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 03 November 2026 07:11:24 GMT
226
7
0
3

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @hoalexx2, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ ملک، یہ سرزمین، یہ اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے، یہ قوم کے ہاتھ میں امانت ہے اور آپ جانتے ہیں کہ امانت کے لیے دیانت چاہیے اور دیانت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اس سرزمین کی حفاظت، اس سرزمین کی خوشحالی اور ترقی کے لیے کوشاں رہیں۔ بدقسمتی سے ایک طویل عرصے سے قبائلی علاقوں کو جسے فاٹا کہا جاتا ہے یا کہا جاتا تھا یا اب دوبارہ ہو گیا ہے اس کو تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں۔ ہمارا ایک سیاسی موقف تھا اور ہے، اسی نظر سے دیکھا جائے، ہم بات کرتے ہیں دلیل کے ساتھ اور پھر ہم پاکستانی ہیں، ہم اس خطے کے فرزند ہیں، ہمارے ذہن میں کچھ شکوک آتے ہیں، ہمارے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں، حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ہمارے ان سوالات کا جواب دے، ہمارے ان خدشات کو دور کرے، ہماری تشفی کرے، لیکن سیاسی ماحول کو الزام تراشیوں اور کردار کشیوں سے پراگندہ کر دیا جاتا ہے۔ ہم اختلاف رائے کرنے والے لوگ ہیں۔ یہی فاٹا جس کے اس صوبے کے ساتھ انضمام کی ختم کرنے کی تجویزیں آ رہی ہیں مجھے اعلیٰ سطحی حکومتی شخصیات نے براہ راست کہا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا، مجھے اس ملک کے نظام اور اس نظام کے چلانے والوں نے براہ راست کہا ہے کہ ہم انضمام کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس کی سابقہ پوزیشن کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت تو آپ نے ہم پر الزامات لگائے، اس وقت آپ نے ہمیں کیا جوابات دیئے، اور یہ بھی مجھے علم ہے کہ کل بھی تم نے انضمام کا فیصلہ کس بڑی قوت کے کہنے پر کیا تھا اور آج تم پھر فاٹا کے علاقوں کو وفاق کے زیر انتظام لانے کے لیے کس بڑی طاقت کے مفاد کے لیے کر رہے ہو اسے کہتے ہیں غلامانہ ذہنیت، نوکری کرو ذرا شائستگی کے ساتھ تو کرو، اپنی قوم کو بیچتے ہو، اس وقت فاٹا کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ تھا، فاٹا کے عوام کے سیاسی اور آئینی مستقبل کا مسئلہ تھا، تو ہم نے اس حوالے سے رائے دی تھی کہ ابھی حالات ایسے نہیں ہیں، آج تک اس انضمام کے ترمیم کے دس سال پورے ہو رہے ہیں بندوبستی نظام نہیں آسکا، پٹواری آج تک نہیں جا سکا، قانون گو نہیں جا سکا، چھ سات پشتوں کی پرانی وہ جائدادیں جو قوموں کی ملکیت تھی تم اس کی تقسیم نہیں کر سکے، تم وہاں پر پولیس منظم نہیں کر سکے، تمہارا ڈپٹی کمشنر وہاں پر حیران و پریشان بیٹھا ہے کہ میں کروں تو کیا کروں، آج مسئلہ سیاسی نہیں، آج مسئلہ آئینی نہیں، آج مسئلہ فاٹا کے وسائل کا ہے اور فاٹا کی معیشت کا ہے۔ لہذا سمجھنا چاہیے کہ اس وقت مدنظر کیا تھا اور آج مدنظر کیا ہے، اس وقت کی صورتحال کو اس وقت کی صورتحال میں دیکھا جائے اور آج کی صورتحال کا تجزیہ آج کی صورتحال میں کیا جائے۔ اور یہ مجھے معلوم ہے، میں ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کر رہا ہوں اور کہتا رہا ہوں اور گورنر راج لگنے سے پہلے اور ایمرجنسی لگنے سے پہلے میں کہتا رہا ہوں کہ قبائلی علاقوں میں معدنی ذخائر کا مسئلہ ہے، معدنی ذخائر کے حوالے سے ہم پوری دنیا کی یہاں سرمایہ کاری کرنے کے اصول سے اختلاف نہیں کر رہے، ملٹی نیشنل کمپنیاں آتی ہیں وہ سرمایہ کاری کرتی ہیں، امریکہ بھی بے نیاز نہیں اس سے، روس بھی بے نیاز نہیں، چین بھی بے نیاز نہیں، برطانیہ اور فرانس بھی بے نیاز نہیں اور ہم تو پچھلے درجے کے لوگ ہیں ہم تو محتاج ہیں کہ یہاں پر کوئی سرمایہ کاری کرے، پاکستان میں پیسہ آئے، پاکستان میں ترقیاتی کام ہوں۔ اب مجھے بتایا جائے کہ چین کی سرمایہ کاری جو سی پیک کے حوالے سے تھی اور سی پیک کسی سڑک کا نام نہیں ہے، وہ ایک پیکج ہے اس کے اندر صنعتی علاقے ہیں، ان صنعتی علاقوں کے لیے بجلی کی کھپت میں اضافہ کرنے کا مسئلہ ہے، بجلی گر بنانے کا مسئلہ ہے، آج کی جو بجلی ہے اور اس بجلی کو اٹھانے کے لیے جو آپ کے پاس ٹرانسمشن لائن ہے آپ نے کئی گنا اس سے بجلی بڑھانی ہوگی، اس کے لئے بجلی گر بنانے کا عمل شروع ہوا، جگہ طے ہوئی، صنعتی علاقے طے ہوئے، آج آپ نے چین کو مایوس کر دیا ہے، ان کی سرمایہ کاری کو راستے میں روک دیا ہے اور جب ایک چین مایوس ہوگا تو دوسری دنیا بھی آپ کے ملک میں سرمایہ کاری کے لیے نہیں آئے گی اور اس کی جگہ کون لے رہا ہے؟ اس کی جگہ امریکہ لے رہا ہے، یہ بات خود امریکی بھی میرے سامنے کر چکے ہیں اور ہمارے بڑے محترم؛ بکسے میں یہاں کے پتھروں کے خوبصورت خوبصورت پتھر لے جا کر وہاں کے دفتر میں بھی پیش کر چکے ہیں اور یہاں جو ان کی اس وقت سفیر ہیں وہ بھی اپنے انٹرویو میں کہہ چکی ہیں۔ تو جب ہم اپنے ملکی ذخائر کو اس طرح بیچتے ہیں تو پھر یہ بات واضح ہے، یہ پاکستانی سیاستدان ان کو میں جانتا ہوں، ان کی ترجیحات کو میں جانتا ہوں، اس قسم کے تمام معاملات میں پہلے وہ اپنے حصے کا تعین کرتے ہیں اس کے بعد پھر ملک کے لئے سوچتے ہیں وہ بھی بعد میں پہلے آقاؤں کے مفادات کے لئے سوچتے ہیںاب اگر اس میں میری تشویش ہے، اگر اس میں میرا سوال ہے، #breaking
یہ ملک، یہ سرزمین، یہ اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے، یہ قوم کے ہاتھ میں امانت ہے اور آپ جانتے ہیں کہ امانت کے لیے دیانت چاہیے اور دیانت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اس سرزمین کی حفاظت، اس سرزمین کی خوشحالی اور ترقی کے لیے کوشاں رہیں۔ بدقسمتی سے ایک طویل عرصے سے قبائلی علاقوں کو جسے فاٹا کہا جاتا ہے یا کہا جاتا تھا یا اب دوبارہ ہو گیا ہے اس کو تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں۔ ہمارا ایک سیاسی موقف تھا اور ہے، اسی نظر سے دیکھا جائے، ہم بات کرتے ہیں دلیل کے ساتھ اور پھر ہم پاکستانی ہیں، ہم اس خطے کے فرزند ہیں، ہمارے ذہن میں کچھ شکوک آتے ہیں، ہمارے ذہن میں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں، حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ہمارے ان سوالات کا جواب دے، ہمارے ان خدشات کو دور کرے، ہماری تشفی کرے، لیکن سیاسی ماحول کو الزام تراشیوں اور کردار کشیوں سے پراگندہ کر دیا جاتا ہے۔ ہم اختلاف رائے کرنے والے لوگ ہیں۔ یہی فاٹا جس کے اس صوبے کے ساتھ انضمام کی ختم کرنے کی تجویزیں آ رہی ہیں مجھے اعلیٰ سطحی حکومتی شخصیات نے براہ راست کہا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا، مجھے اس ملک کے نظام اور اس نظام کے چلانے والوں نے براہ راست کہا ہے کہ ہم انضمام کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس کی سابقہ پوزیشن کو بحال کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت تو آپ نے ہم پر الزامات لگائے، اس وقت آپ نے ہمیں کیا جوابات دیئے، اور یہ بھی مجھے علم ہے کہ کل بھی تم نے انضمام کا فیصلہ کس بڑی قوت کے کہنے پر کیا تھا اور آج تم پھر فاٹا کے علاقوں کو وفاق کے زیر انتظام لانے کے لیے کس بڑی طاقت کے مفاد کے لیے کر رہے ہو اسے کہتے ہیں غلامانہ ذہنیت، نوکری کرو ذرا شائستگی کے ساتھ تو کرو، اپنی قوم کو بیچتے ہو، اس وقت فاٹا کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ تھا، فاٹا کے عوام کے سیاسی اور آئینی مستقبل کا مسئلہ تھا، تو ہم نے اس حوالے سے رائے دی تھی کہ ابھی حالات ایسے نہیں ہیں، آج تک اس انضمام کے ترمیم کے دس سال پورے ہو رہے ہیں بندوبستی نظام نہیں آسکا، پٹواری آج تک نہیں جا سکا، قانون گو نہیں جا سکا، چھ سات پشتوں کی پرانی وہ جائدادیں جو قوموں کی ملکیت تھی تم اس کی تقسیم نہیں کر سکے، تم وہاں پر پولیس منظم نہیں کر سکے، تمہارا ڈپٹی کمشنر وہاں پر حیران و پریشان بیٹھا ہے کہ میں کروں تو کیا کروں، آج مسئلہ سیاسی نہیں، آج مسئلہ آئینی نہیں، آج مسئلہ فاٹا کے وسائل کا ہے اور فاٹا کی معیشت کا ہے۔ لہذا سمجھنا چاہیے کہ اس وقت مدنظر کیا تھا اور آج مدنظر کیا ہے، اس وقت کی صورتحال کو اس وقت کی صورتحال میں دیکھا جائے اور آج کی صورتحال کا تجزیہ آج کی صورتحال میں کیا جائے۔ اور یہ مجھے معلوم ہے، میں ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کر رہا ہوں اور کہتا رہا ہوں اور گورنر راج لگنے سے پہلے اور ایمرجنسی لگنے سے پہلے میں کہتا رہا ہوں کہ قبائلی علاقوں میں معدنی ذخائر کا مسئلہ ہے، معدنی ذخائر کے حوالے سے ہم پوری دنیا کی یہاں سرمایہ کاری کرنے کے اصول سے اختلاف نہیں کر رہے، ملٹی نیشنل کمپنیاں آتی ہیں وہ سرمایہ کاری کرتی ہیں، امریکہ بھی بے نیاز نہیں اس سے، روس بھی بے نیاز نہیں، چین بھی بے نیاز نہیں، برطانیہ اور فرانس بھی بے نیاز نہیں اور ہم تو پچھلے درجے کے لوگ ہیں ہم تو محتاج ہیں کہ یہاں پر کوئی سرمایہ کاری کرے، پاکستان میں پیسہ آئے، پاکستان میں ترقیاتی کام ہوں۔ اب مجھے بتایا جائے کہ چین کی سرمایہ کاری جو سی پیک کے حوالے سے تھی اور سی پیک کسی سڑک کا نام نہیں ہے، وہ ایک پیکج ہے اس کے اندر صنعتی علاقے ہیں، ان صنعتی علاقوں کے لیے بجلی کی کھپت میں اضافہ کرنے کا مسئلہ ہے، بجلی گر بنانے کا مسئلہ ہے، آج کی جو بجلی ہے اور اس بجلی کو اٹھانے کے لیے جو آپ کے پاس ٹرانسمشن لائن ہے آپ نے کئی گنا اس سے بجلی بڑھانی ہوگی، اس کے لئے بجلی گر بنانے کا عمل شروع ہوا، جگہ طے ہوئی، صنعتی علاقے طے ہوئے، آج آپ نے چین کو مایوس کر دیا ہے، ان کی سرمایہ کاری کو راستے میں روک دیا ہے اور جب ایک چین مایوس ہوگا تو دوسری دنیا بھی آپ کے ملک میں سرمایہ کاری کے لیے نہیں آئے گی اور اس کی جگہ کون لے رہا ہے؟ اس کی جگہ امریکہ لے رہا ہے، یہ بات خود امریکی بھی میرے سامنے کر چکے ہیں اور ہمارے بڑے محترم؛ بکسے میں یہاں کے پتھروں کے خوبصورت خوبصورت پتھر لے جا کر وہاں کے دفتر میں بھی پیش کر چکے ہیں اور یہاں جو ان کی اس وقت سفیر ہیں وہ بھی اپنے انٹرویو میں کہہ چکی ہیں۔ تو جب ہم اپنے ملکی ذخائر کو اس طرح بیچتے ہیں تو پھر یہ بات واضح ہے، یہ پاکستانی سیاستدان ان کو میں جانتا ہوں، ان کی ترجیحات کو میں جانتا ہوں، اس قسم کے تمام معاملات میں پہلے وہ اپنے حصے کا تعین کرتے ہیں اس کے بعد پھر ملک کے لئے سوچتے ہیں وہ بھی بعد میں پہلے آقاؤں کے مفادات کے لئے سوچتے ہیںاب اگر اس میں میری تشویش ہے، اگر اس میں میرا سوال ہے، #breaking

About