@changaffiliate: săn nè mấy bà #tonerpad #medicube #mundauden

Chang Chăm Chỉ
Chang Chăm Chỉ
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 03 November 2026 13:23:52 GMT
186
2
0
5

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @changaffiliate, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

عشقِ الٰہی محض ایک جذبے چند آنسوؤں یا زبان سے ادا کیے گئے الفاظ کا نام نہیں بلکہ یہ دل کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان کا باطن اپنے خالق کی محبت سے منور ہونے لگتا ہے۔ یہ وہ سفر ہے جہاں انسان دنیا کی محبتوں سے بھاگتا نہیں بلکہ ہر محبت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کرنا سیکھ لیتا ہے۔ عشقِ الٰہی کی ابتدا اُس وقت ہوتی ہے جب انسان اپنے دل کے اندر جھانکنا شروع کرتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ جس سکون کو وہ زمانے بھر کی چیزوں میں تلاش کرتا رہا وہ سکون تو اپنے رب کے قرب، اس کی یاد اور اس کی اطاعت میں پوشیدہ ہے۔ عاشقِ الٰہی کی پہچان کیا ہے؟ عاشقِ الٰہی وہ نہیں جو صرف تنہائی میں آنسو بہائے بلکہ وہ ہے جو لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اپنے کردار کو پاکیزہ رکھے۔ جس کی زبان ذکرِ الٰہی سے تر ہو جس کا دل تکبر سے خالی ہو جس کے ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے اور جس کی نیت میں اپنی ذات کی نمائش کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا مقدم ہو۔ وہ جانتا ہے کہ عبادت صرف سجدے کا نام نہیں، بلکہ کسی کا دل نہ دکھانا کسی مظلوم کا سہارا بننا کسی بھوکے کو کھانا کھلانا اور اپنے نفس کی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کرنا بھی بندگی کے تقاضے ہیں۔ عشقِ الٰہی اور فنا فی اللہ کا سفر تصوف کی زبان میں فنا فی اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی خود پسندی، تکبر، خواہشاتِ نفس اور انانیت کو مٹا کر اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اللہ میں ضم ہو جاتا ہے بلکہ اس کی اپنی مرضی پر اللہ کے حکم کو فوقیت حاصل ہو جاتی ہے۔ جب دل میں عشقِ الٰہی کی شمع روشن ہوتی ہے تو انسان کے اندر ایک انقلاب برپا ہونے لگتا ہے۔ اس کی نگاہ بدلتی ہے سوچ بدلتی ہے، ترجیحات بدلتی ہیں۔ وہ ہر معاملے میں یہ سوچنے لگتا ہے کہ میرا رب مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ پھر اسے لوگوں کی تعریف کی طلب کم ہونے لگتی ہے شہرت کی خواہش بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے اور دل میں اخلاص کی طلب بڑھنے لگتی ہے۔ عشقِ الٰہی کا اصل راستہ یہ راستہ شریعت سے شروع ہوتا ہے اور شریعت ہی کی پابندی میں آگے بڑھتا ہے۔ - قرآنِ کریم کو سمجھ کر پڑھنا اور اس پر عمل کرنا۔ - نماز کو محض فرض نہیں بلکہ اپنے رب سے ملاقات کا ذریعہ سمجھنا۔ - کثرت سے ذکر و درود شریف کا اہتمام کرنا۔ - سچی توبہ اور نفس کی اصلاح کرنا۔ - مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔ - ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر توکل اور اس کی رضا پر راضی رہنا۔ یاد رکھیے! روحانیت کا کمال عجیب و غریب کیفیات، خوابوں، کشف یا کرامات میں نہیں، بلکہ بندے کے اخلاق، عاجزی، تقویٰ اور اطاعت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں! جب انسان اللہ سے محبت کرنا سیکھ لیتا ہے تو دنیا اس کے لیے ختم نہیں ہوتی، بلکہ دنیا کو دیکھنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ وہ خوشی میں شکر ادا کرتا ہے، غم میں صبر کرتا ہے، محرومی میں مایوس نہیں ہوتا اور آزمائش میں اپنے رب سے بدگمان نہیں ہوتا۔ اس کا دل جان لیتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، میری خاموش دعاؤں کو بھی جانتا ہے اور میرے دل کے ان زخموں سے بھی واقف ہے جنہیں میں کسی کے سامنے بیان نہیں کر سکتا۔ عشقِ الٰہی کی انتہا یہ ہے کہ بندہ اپنی ہر سانس، ہر عمل اور ہر خواہش کو اپنے رب کی رضا کے تابع کرنے کی کوشش کرے۔ نہ دنیا کی محبت دل پر غالب ہو، نہ نفس کی خواہش بندگی سے دور کرے؛ بس دل میں اللہ کی محبت ہو، زبان پر اس کا ذکر ہو اور زندگی میں اس کی اطاعت ہو۔ اے اللہ! ہمیں اپنی سچی محبت، اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کی سچی محبت اور ایسی بندگی عطا فرما جس میں اخلاص ہو، عاجزی ہو اور تیری رضا شامل ہو۔ آمین یا رب العالمین! #islamic #روح_اور_روحانیت_کاسفر  #foryoupage #foryou #sufism
عشقِ الٰہی محض ایک جذبے چند آنسوؤں یا زبان سے ادا کیے گئے الفاظ کا نام نہیں بلکہ یہ دل کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان کا باطن اپنے خالق کی محبت سے منور ہونے لگتا ہے۔ یہ وہ سفر ہے جہاں انسان دنیا کی محبتوں سے بھاگتا نہیں بلکہ ہر محبت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کرنا سیکھ لیتا ہے۔ عشقِ الٰہی کی ابتدا اُس وقت ہوتی ہے جب انسان اپنے دل کے اندر جھانکنا شروع کرتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ جس سکون کو وہ زمانے بھر کی چیزوں میں تلاش کرتا رہا وہ سکون تو اپنے رب کے قرب، اس کی یاد اور اس کی اطاعت میں پوشیدہ ہے۔ عاشقِ الٰہی کی پہچان کیا ہے؟ عاشقِ الٰہی وہ نہیں جو صرف تنہائی میں آنسو بہائے بلکہ وہ ہے جو لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اپنے کردار کو پاکیزہ رکھے۔ جس کی زبان ذکرِ الٰہی سے تر ہو جس کا دل تکبر سے خالی ہو جس کے ہاتھ سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے اور جس کی نیت میں اپنی ذات کی نمائش کے بجائے اللہ تعالیٰ کی رضا مقدم ہو۔ وہ جانتا ہے کہ عبادت صرف سجدے کا نام نہیں، بلکہ کسی کا دل نہ دکھانا کسی مظلوم کا سہارا بننا کسی بھوکے کو کھانا کھلانا اور اپنے نفس کی خواہشات کو اللہ کے حکم کے تابع کرنا بھی بندگی کے تقاضے ہیں۔ عشقِ الٰہی اور فنا فی اللہ کا سفر تصوف کی زبان میں فنا فی اللہ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی خود پسندی، تکبر، خواہشاتِ نفس اور انانیت کو مٹا کر اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اللہ میں ضم ہو جاتا ہے بلکہ اس کی اپنی مرضی پر اللہ کے حکم کو فوقیت حاصل ہو جاتی ہے۔ جب دل میں عشقِ الٰہی کی شمع روشن ہوتی ہے تو انسان کے اندر ایک انقلاب برپا ہونے لگتا ہے۔ اس کی نگاہ بدلتی ہے سوچ بدلتی ہے، ترجیحات بدلتی ہیں۔ وہ ہر معاملے میں یہ سوچنے لگتا ہے کہ میرا رب مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ پھر اسے لوگوں کی تعریف کی طلب کم ہونے لگتی ہے شہرت کی خواہش بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے اور دل میں اخلاص کی طلب بڑھنے لگتی ہے۔ عشقِ الٰہی کا اصل راستہ یہ راستہ شریعت سے شروع ہوتا ہے اور شریعت ہی کی پابندی میں آگے بڑھتا ہے۔ - قرآنِ کریم کو سمجھ کر پڑھنا اور اس پر عمل کرنا۔ - نماز کو محض فرض نہیں بلکہ اپنے رب سے ملاقات کا ذریعہ سمجھنا۔ - کثرت سے ذکر و درود شریف کا اہتمام کرنا۔ - سچی توبہ اور نفس کی اصلاح کرنا۔ - مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا۔ - ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر توکل اور اس کی رضا پر راضی رہنا۔ یاد رکھیے! روحانیت کا کمال عجیب و غریب کیفیات، خوابوں، کشف یا کرامات میں نہیں، بلکہ بندے کے اخلاق، عاجزی، تقویٰ اور اطاعت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں! جب انسان اللہ سے محبت کرنا سیکھ لیتا ہے تو دنیا اس کے لیے ختم نہیں ہوتی، بلکہ دنیا کو دیکھنے کا انداز بدل جاتا ہے۔ وہ خوشی میں شکر ادا کرتا ہے، غم میں صبر کرتا ہے، محرومی میں مایوس نہیں ہوتا اور آزمائش میں اپنے رب سے بدگمان نہیں ہوتا۔ اس کا دل جان لیتا ہے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، میری خاموش دعاؤں کو بھی جانتا ہے اور میرے دل کے ان زخموں سے بھی واقف ہے جنہیں میں کسی کے سامنے بیان نہیں کر سکتا۔ عشقِ الٰہی کی انتہا یہ ہے کہ بندہ اپنی ہر سانس، ہر عمل اور ہر خواہش کو اپنے رب کی رضا کے تابع کرنے کی کوشش کرے۔ نہ دنیا کی محبت دل پر غالب ہو، نہ نفس کی خواہش بندگی سے دور کرے؛ بس دل میں اللہ کی محبت ہو، زبان پر اس کا ذکر ہو اور زندگی میں اس کی اطاعت ہو۔ اے اللہ! ہمیں اپنی سچی محبت، اپنے محبوب نبی کریم ﷺ کی سچی محبت اور ایسی بندگی عطا فرما جس میں اخلاص ہو، عاجزی ہو اور تیری رضا شامل ہو۔ آمین یا رب العالمین! #islamic #روح_اور_روحانیت_کاسفر #foryoupage #foryou #sufism

About