@sham_taypist: لیکن اُسے میری یاد تو آتی ہوگی نا؟ یاد نہ سہی، کوئی لمحہ، کوئی بات یا کوئی عادت، کچھ تو یاد آتا ہوگا نا؟ کبھی تو اچانک کسی خاموش لمحے میں میرا خیال اُس کے دل کے دروازے پر دستک دیتا ہوگا، کبھی تو کوئی ایسا گانا سن کر اُسے میری باتیں یاد آتی ہوں گی جو کبھی ہم ایک دوسرے کے لیے سنا کرتے تھے، کبھی تو کسی جگہ سے گزرتے ہوئے اُسے وہ وقت یاد آتا ہوگا جو ہم نے ایک دوسرے کے نام کیا تھا۔ کبھی تو اُسے میری وہ چھوٹی چھوٹی باتیں یاد آتی ہوں گی جن پر وہ ہنسا کرتی تھی، کبھی تو میری بے وجہ کی ضد، میری ناراضگی، میرا بار بار حال پوچھنا اور اُس کے ایک مختصر سے جواب پر میرا خوش ہو جانا یاد آتا ہوگا۔ کبھی تو اُس کے دل میں یہ خیال آتا ہوگا کہ کوئی تھا جو اُس کے آن لائن آنے کا انتظار کرتا تھا، جو اُس کی خاموشی میں بھی ہزاروں مطلب تلاش کرتا تھا، جو خود پریشان ہونے کے باوجود اُس کی خیریت پوچھنا نہیں بھولتا تھا۔ کیا واقعی سب کچھ اتنی آسانی سے بھلایا جا سکتا ہے؟ کیا انسان کسی کو اپنی زندگی سے نکال دے تو اُس کے ساتھ جڑی ہر یاد بھی ختم ہو جاتی ہے؟ کیا کبھی اُس کے دل میں یہ سوال نہیں اٹھتا ہوگا کہ وہ شخص کہاں ہوگا جو کبھی میری ایک جھلک کے لیے بھی بے چین رہا کرتا تھا؟ میں آج بھی کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ شاید اُسے میری یاد نہیں آتی ہوگی، شاید وہ سب کچھ بھول چکی ہوگی، مگر دل ہے کہ مانتا ہی نہیں۔ دل آج بھی یہی امید لگائے بیٹھا ہے کہ کبھی تو اُسے میری کمی محسوس ہوتی ہوگی، کبھی تو وہ بھی خاموشی سے میرے بارے میں سوچتی ہوگی، کبھی تو اُس کے لبوں پر میرا نام آتا ہوگا، کبھی تو اُسے بھی وہ دن یاد آتے ہوں گے جب ہم ایک دوسرے کے لیے خاص ہوا کرتے تھے۔ میں اُس سے کوئی شکایت نہیں کرنا چاہتا، نہ کوئی جواب مانگتا ہوں، بس ایک چھوٹی سی خواہش ہے کہ جن لمحوں کو میں آج تک اپنے دل میں سنبھالے بیٹھا ہوں، اُن میں سے کوئی ایک لمحہ تو اُس کے دل میں بھی محفوظ ہوگا۔ کیونکہ میرے لیے تو وہ صرف ایک شخص نہیں تھی، وہ میری بہت سی عادتوں، بہت سی باتوں اور بہت سی یادوں کا حصہ تھی۔ شاید اسی لیے آج بھی دل پوچھتا ہے کہ کیا میں اُس کے لیے واقعی اتنا غیر ضروری ہو گیا ہوں کہ کبھی یاد بھی نہیں آتا💔#fyp