@kira.markesha: Why does an iron infusion make you sleepy? 🙄😩 I wanna finish my show

KIRA | Lymphedema Mom
KIRA | Lymphedema Mom
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 03 November 2026 22:27:34 GMT
525
15
1
0

Music

Download

Comments

mia.wills33
Mia Wills :
🥰🥰🥰
2026-11-03 23:40:45
1
To see more videos from user @kira.markesha, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مراقبہ… صرف آنکھیں بند کرنے کا نام نہیں۔ یہ اپنے اندر اترنے کا سفر ہے۔ ایک ایسا سفر… جس میں انسان دنیا کے شور سے نکلتا ہے۔ لوگوں کی آوازوں سے دور ہوتا ہے۔ اپنی خواہشوں سے کچھ دیر کے لیے پیچھے ہٹتا ہے۔ مراقبہ انسان کو دوسروں سے نہیں… سب سے پہلے اپنے آپ سے ملاتا ہے مراقبہ کسی کرامت کا نام نہیں۔ یہ کوئی عجیب منظر دیکھنے کی ضمانت نہیں۔ یہ کوئی دنیاوی طاقت حاصل کرنے کا طریقہ نہیں۔ بلکہ یہ اپنے رب کی طرف رجوع… اپنے نفس کا محاسبہ… اور دل کی اصلاح کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔ اصل مقصد یہ نہیں… کہ انسان کچھ غیر معمولی محسوس کرے۔ اصل مقصد یہ ہے… کہ انسان اللہ کو یاد کرے۔ اپنی غفلت سے بیدار ہو۔ اپنے کردار کو بہتر کرے۔ اور اپنی زندگی کو اپنے رب کی رضا کے مطابق بنانے کی کوشش کرے۔ کیونکہ اگر مراقبے کے بعد بھی انسان کا اخلاق وہی رہے… غصہ وہی رہے… تکبر وہی رہے… جھوٹ وہی رہے… دل کی سختی وہی رہے… تو پھر صرف آنکھیں بند کرنے سے کیا حاصل ہوا؟ حقیقی تبدیلی تو تب ہے… جب خاموشی کے وہ لمحات انسان کو جاگتی زندگی میں بھی بدل دیں۔ جب وہ لوگوں کے ساتھ نرم ہو جائے۔ جب وہ اپنے گناہوں سے بچنے لگے۔ جب وہ اپنے نفس کی ہر خواہش کو حق نہ سمجھے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی خواہش پر ترجیح دینے لگے۔ یہی اندر کا سفر ہے۔ یہی اصل جدوجہد ہے۔ انسان دنیا سے بھاگتا نہیں۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے دل کو سنبھالنا سیکھتا ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اپنے رب کو یاد کرنا سیکھتا ہے۔ وہ تنہائی میں اپنے نفس کا حساب لیتا ہے۔ اور پھر… دنیا میں واپس آتا ہے۔ مگر پہلے جیسا نہیں رہتا۔ اس کے اندر کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے… کہ سکون ہر چیز حاصل کر لینے کا نام نہیں۔ کبھی سکون چیزیں چھوڑ دینے میں بھی ہوتا ہے۔ کبھی معاف کر دینے میں۔ کبھی خاموش رہنے میں۔ کبھی سجدے میں۔ کبھی آنسو میں۔ اور کبھی… صرف اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے میں۔ مراقبہ میں انسان اپنے اندر چھپی ہوئی دنیا کو دیکھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے دل میں کتنی خواہشیں ہیں۔ کتنی شکایتیں ہیں۔ کتنی امیدیں ہیں۔ کتنے خوف ہیں۔ کتنے زخم ہیں۔ اور پھر وہ ان سب کو اپنے رب کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ کہتا ہے: یا اللہ! میں اپنے آپ کو مکمل طور پر نہیں سمجھتا۔ مگر تو مجھے مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ میرے دل کا حال تو جانتا ہے۔ میری کمزوریاں تو جانتا ہے۔ میرے آنسو بھی تو جانتا ہے۔ میرے وہ دکھ بھی تو جانتا ہے… جو میں کسی کو نہیں بتا سکتا۔ میرے وہ گناہ بھی تو جانتا ہے… جنہیں میں دنیا سے چھپا لیتا ہوں۔ یا اللہ! میرے دل کو اپنے ذکر سے زندہ کر دے۔ میرے نفس کو قابو میں کرنے کی توفیق دے۔ مجھے اپنی رضا کے راستے پر چلا۔ یہی دعا… اس سفر کو خوبصورت بنا دیتی ہے۔ اور پھر کبھی کبھی… خاموشی میں آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ انسان حیران ہوتا ہے۔ کوئی دکھ یاد نہیں آیا۔ پھر آنسو کیوں آ رہے ہیں؟ شاید دل بہت عرصے سے بوجھ اٹھائے ہوئے تھا۔ شاید روح کو اپنے رب کی طرف لوٹنے کی ضرورت تھی۔ شاید انسان دنیا کی دوڑ میں اتنا آگے نکل گیا تھا… کہ اسے اپنے رب کی طرف واپس آنے کا راستہ ہی بھول گیا تھا۔ مراقبہ اسے راستہ یاد دلاتا ہے۔ خاموشی اسے اپنے اندر لے جاتی ہے۔ ذکر اسے اپنے رب کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اور محاسبہ اسے اپنی حقیقت دکھاتا ہے۔ اسی لیے… اگر کبھی رات بہت خاموش ہو… اور دل بہت بےچین ہو… تو فوراً دنیا کی آوازوں میں خود کو مت ڈبو دینا۔ کچھ دیر خاموش بیٹھنا۔ اپنے دل کو سننا۔ اللہ کو یاد کرنا۔ اپنی زندگی کے بارے میں سوچنا۔ اپنے اعمال کا جائزہ لینا۔ اور اپنے رب سے بات کرنا۔ شاید تمہیں اپنے اندر وہ انسان نظر آ جائے… جسے تم نے دنیا کی بھیڑ میں کہیں کھو دیا تھا۔ شاید تمہیں معلوم ہو… کہ تمہاری اصل ضرورت دنیا نہیں تھی۔ تمہاری اصل ضرورت اپنے رب سے تعلق تھا۔ اور شاید… تمہیں یہ بھی احساس ہو جائے… کہ تم ساری زندگی باہر سکون تلاش کرتے رہے… جبکہ سکون کی طرف جانے والا راستہ تمہارے دل کے اندر سے گزرتا تھا۔ مراقبہ… روح کا سفر ہے۔ خاموشی میں اپنے رب کو یاد کرنے کا سفر ہے۔ اپنے نفس کو دیکھنے کا سفر ہے۔ اپنے دل کو صاف کرنے کا سفر ہے۔ اور اپنے رب کی طرف واپس آنے کی کوشش ہے۔ یہ صرف آنکھیں بند کرنے کا نام نہیں۔ یہ دل جگانے کا نام ہے۔ یہ دنیا چھوڑنے کا نام نہیں۔ یہ دنیا کے شور میں اپنے رب کو نہ بھولنے کا نام ہے۔ اور شاید… مراقبے کا سب سے بڑا راز یہی ہے: جب انسان دنیا سے کچھ دیر کے لیے خاموش ہوتا ہے، تو کبھی کبھی اسے اپنے دل کی وہ آواز سنائی دینے لگتی ہے… جسے دنیا کے شور نے برسوں سے دبا رکھا تھا۔ اور وہ آواز… اسے کہیں دور نہیں لے جاتی۔ بلکہ… اس کے رب کی طرف واپس بلاتی ہے۔
مراقبہ… صرف آنکھیں بند کرنے کا نام نہیں۔ یہ اپنے اندر اترنے کا سفر ہے۔ ایک ایسا سفر… جس میں انسان دنیا کے شور سے نکلتا ہے۔ لوگوں کی آوازوں سے دور ہوتا ہے۔ اپنی خواہشوں سے کچھ دیر کے لیے پیچھے ہٹتا ہے۔ مراقبہ انسان کو دوسروں سے نہیں… سب سے پہلے اپنے آپ سے ملاتا ہے مراقبہ کسی کرامت کا نام نہیں۔ یہ کوئی عجیب منظر دیکھنے کی ضمانت نہیں۔ یہ کوئی دنیاوی طاقت حاصل کرنے کا طریقہ نہیں۔ بلکہ یہ اپنے رب کی طرف رجوع… اپنے نفس کا محاسبہ… اور دل کی اصلاح کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔ اصل مقصد یہ نہیں… کہ انسان کچھ غیر معمولی محسوس کرے۔ اصل مقصد یہ ہے… کہ انسان اللہ کو یاد کرے۔ اپنی غفلت سے بیدار ہو۔ اپنے کردار کو بہتر کرے۔ اور اپنی زندگی کو اپنے رب کی رضا کے مطابق بنانے کی کوشش کرے۔ کیونکہ اگر مراقبے کے بعد بھی انسان کا اخلاق وہی رہے… غصہ وہی رہے… تکبر وہی رہے… جھوٹ وہی رہے… دل کی سختی وہی رہے… تو پھر صرف آنکھیں بند کرنے سے کیا حاصل ہوا؟ حقیقی تبدیلی تو تب ہے… جب خاموشی کے وہ لمحات انسان کو جاگتی زندگی میں بھی بدل دیں۔ جب وہ لوگوں کے ساتھ نرم ہو جائے۔ جب وہ اپنے گناہوں سے بچنے لگے۔ جب وہ اپنے نفس کی ہر خواہش کو حق نہ سمجھے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنی خواہش پر ترجیح دینے لگے۔ یہی اندر کا سفر ہے۔ یہی اصل جدوجہد ہے۔ انسان دنیا سے بھاگتا نہیں۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے دل کو سنبھالنا سیکھتا ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اپنے رب کو یاد کرنا سیکھتا ہے۔ وہ تنہائی میں اپنے نفس کا حساب لیتا ہے۔ اور پھر… دنیا میں واپس آتا ہے۔ مگر پہلے جیسا نہیں رہتا۔ اس کے اندر کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔ اسے معلوم ہو جاتا ہے… کہ سکون ہر چیز حاصل کر لینے کا نام نہیں۔ کبھی سکون چیزیں چھوڑ دینے میں بھی ہوتا ہے۔ کبھی معاف کر دینے میں۔ کبھی خاموش رہنے میں۔ کبھی سجدے میں۔ کبھی آنسو میں۔ اور کبھی… صرف اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے میں۔ مراقبہ میں انسان اپنے اندر چھپی ہوئی دنیا کو دیکھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے دل میں کتنی خواہشیں ہیں۔ کتنی شکایتیں ہیں۔ کتنی امیدیں ہیں۔ کتنے خوف ہیں۔ کتنے زخم ہیں۔ اور پھر وہ ان سب کو اپنے رب کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ کہتا ہے: یا اللہ! میں اپنے آپ کو مکمل طور پر نہیں سمجھتا۔ مگر تو مجھے مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ میرے دل کا حال تو جانتا ہے۔ میری کمزوریاں تو جانتا ہے۔ میرے آنسو بھی تو جانتا ہے۔ میرے وہ دکھ بھی تو جانتا ہے… جو میں کسی کو نہیں بتا سکتا۔ میرے وہ گناہ بھی تو جانتا ہے… جنہیں میں دنیا سے چھپا لیتا ہوں۔ یا اللہ! میرے دل کو اپنے ذکر سے زندہ کر دے۔ میرے نفس کو قابو میں کرنے کی توفیق دے۔ مجھے اپنی رضا کے راستے پر چلا۔ یہی دعا… اس سفر کو خوبصورت بنا دیتی ہے۔ اور پھر کبھی کبھی… خاموشی میں آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ انسان حیران ہوتا ہے۔ کوئی دکھ یاد نہیں آیا۔ پھر آنسو کیوں آ رہے ہیں؟ شاید دل بہت عرصے سے بوجھ اٹھائے ہوئے تھا۔ شاید روح کو اپنے رب کی طرف لوٹنے کی ضرورت تھی۔ شاید انسان دنیا کی دوڑ میں اتنا آگے نکل گیا تھا… کہ اسے اپنے رب کی طرف واپس آنے کا راستہ ہی بھول گیا تھا۔ مراقبہ اسے راستہ یاد دلاتا ہے۔ خاموشی اسے اپنے اندر لے جاتی ہے۔ ذکر اسے اپنے رب کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اور محاسبہ اسے اپنی حقیقت دکھاتا ہے۔ اسی لیے… اگر کبھی رات بہت خاموش ہو… اور دل بہت بےچین ہو… تو فوراً دنیا کی آوازوں میں خود کو مت ڈبو دینا۔ کچھ دیر خاموش بیٹھنا۔ اپنے دل کو سننا۔ اللہ کو یاد کرنا۔ اپنی زندگی کے بارے میں سوچنا۔ اپنے اعمال کا جائزہ لینا۔ اور اپنے رب سے بات کرنا۔ شاید تمہیں اپنے اندر وہ انسان نظر آ جائے… جسے تم نے دنیا کی بھیڑ میں کہیں کھو دیا تھا۔ شاید تمہیں معلوم ہو… کہ تمہاری اصل ضرورت دنیا نہیں تھی۔ تمہاری اصل ضرورت اپنے رب سے تعلق تھا۔ اور شاید… تمہیں یہ بھی احساس ہو جائے… کہ تم ساری زندگی باہر سکون تلاش کرتے رہے… جبکہ سکون کی طرف جانے والا راستہ تمہارے دل کے اندر سے گزرتا تھا۔ مراقبہ… روح کا سفر ہے۔ خاموشی میں اپنے رب کو یاد کرنے کا سفر ہے۔ اپنے نفس کو دیکھنے کا سفر ہے۔ اپنے دل کو صاف کرنے کا سفر ہے۔ اور اپنے رب کی طرف واپس آنے کی کوشش ہے۔ یہ صرف آنکھیں بند کرنے کا نام نہیں۔ یہ دل جگانے کا نام ہے۔ یہ دنیا چھوڑنے کا نام نہیں۔ یہ دنیا کے شور میں اپنے رب کو نہ بھولنے کا نام ہے۔ اور شاید… مراقبے کا سب سے بڑا راز یہی ہے: جب انسان دنیا سے کچھ دیر کے لیے خاموش ہوتا ہے، تو کبھی کبھی اسے اپنے دل کی وہ آواز سنائی دینے لگتی ہے… جسے دنیا کے شور نے برسوں سے دبا رکھا تھا۔ اور وہ آواز… اسے کہیں دور نہیں لے جاتی۔ بلکہ… اس کے رب کی طرف واپس بلاتی ہے۔

About