@ampangancetakkedah: Semoga pahala kita mengalir seperti air zam2 🤲🏻

Miraaaaah
Miraaaaah
Open In TikTok:
Region: MY
Wednesday 04 November 2026 00:46:11 GMT
216
11
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @ampangancetakkedah, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

والد نے تینوں بیٹیوں کی تعلیم کے لیے اپنا گاؤں چھوڑ کر شہر میں رہائش اختیار کی، دن رات محنت کی اور انہیں اعلیٰ تعلیم دلوائی، لیکن جب ڈگریاں مکمل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش شروع ہوئی تو ان بہنوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی ان تین تعلیم یافتہ بہنوں نے مشکلات کے سامنے ہمت ہارنے کے بجائے اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی ابتدائی تعلیم گاؤں  میں ہوئی، لیکن جب بڑی بہنوں کا کالج شروع ہوا تو والد نے صرف ان کی تعلیم کی خاطر شہر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنی ملازمت میں بھی تبدیلی کی۔ ایف ایس سی کے بعد تینوں بہنوں نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور خودمختار بننے کا خواب دیکھا، جس کے لیے انہوں نے کراچی کی یونیورسٹی میں ڈاکٹر اور فارمیسی کی تعلیم حاصل کی۔ ڈگری مکمل کرکے جب وہ واپس رحیم یار خان آئیں تو اسی دوران ان کے والد کو گردوں کا مسئلہ درپیش ہوا اور ایک سال کے اندر ان کا ڈائیلاسز بھی شروع ہو گیا۔ دوسری جانب مقامی ہسپتالوں اور فارمیسیز میں فارماسسٹ بھرتی کرنے کا رجحان محدود تھا، جبکہ انڈسٹریز میں ملازمت کے مواقع بھی کم تھے، اور جہاں نوکری ملتی وہاں تنخواہ اتنی کم ہوتی کہ اپنی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل تھا۔ فارمیسی جیسی معتبر پیشہ ورانہ ڈگری حاصل کرنے کے باوجود مناسب ملازمت نہ ملنے پر ان بہنوں نے حالات کے سامنے ہار ماننے کے بجائے خود اپنے لیے راستہ بنانے کا عزم کیا، تاکہ اپنی تعلیم کو بروئے کار لا کر باعزت روزگار حاصل کر سکیں اور اپنے خاندان کا سہارا بن سکیں۔
والد نے تینوں بیٹیوں کی تعلیم کے لیے اپنا گاؤں چھوڑ کر شہر میں رہائش اختیار کی، دن رات محنت کی اور انہیں اعلیٰ تعلیم دلوائی، لیکن جب ڈگریاں مکمل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش شروع ہوئی تو ان بہنوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والی ان تین تعلیم یافتہ بہنوں نے مشکلات کے سامنے ہمت ہارنے کے بجائے اپنے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی، لیکن جب بڑی بہنوں کا کالج شروع ہوا تو والد نے صرف ان کی تعلیم کی خاطر شہر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور اپنی ملازمت میں بھی تبدیلی کی۔ ایف ایس سی کے بعد تینوں بہنوں نے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے اور خودمختار بننے کا خواب دیکھا، جس کے لیے انہوں نے کراچی کی یونیورسٹی میں ڈاکٹر اور فارمیسی کی تعلیم حاصل کی۔ ڈگری مکمل کرکے جب وہ واپس رحیم یار خان آئیں تو اسی دوران ان کے والد کو گردوں کا مسئلہ درپیش ہوا اور ایک سال کے اندر ان کا ڈائیلاسز بھی شروع ہو گیا۔ دوسری جانب مقامی ہسپتالوں اور فارمیسیز میں فارماسسٹ بھرتی کرنے کا رجحان محدود تھا، جبکہ انڈسٹریز میں ملازمت کے مواقع بھی کم تھے، اور جہاں نوکری ملتی وہاں تنخواہ اتنی کم ہوتی کہ اپنی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل تھا۔ فارمیسی جیسی معتبر پیشہ ورانہ ڈگری حاصل کرنے کے باوجود مناسب ملازمت نہ ملنے پر ان بہنوں نے حالات کے سامنے ہار ماننے کے بجائے خود اپنے لیے راستہ بنانے کا عزم کیا، تاکہ اپنی تعلیم کو بروئے کار لا کر باعزت روزگار حاصل کر سکیں اور اپنے خاندان کا سہارا بن سکیں۔

About