@k4yl3yvy: #viral #foryoupage #fyp

k4yl3yvy
k4yl3yvy
Open In TikTok:
Region: US
Wednesday 04 November 2026 04:03:22 GMT
340
66
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @k4yl3yvy, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

۔۔۔۔ میں نے نہ جانے کتنی بار سورۂ مریم پڑھی ہوگی... ہر بار مجھے اس میں حضرت مریمؑ کی آزمائش نظر آئی۔ مگر ایک دن محسوس ہوا... یہ سورت اُن لوگوں کی بھی ہے جو خاموشی سے روتے ہیں۔ جو اپنی تکلیف کسی سے نہیں کہتے... اور ہر حال میں صرف یہی کہتے ہیں:
۔۔۔۔ میں نے نہ جانے کتنی بار سورۂ مریم پڑھی ہوگی... ہر بار مجھے اس میں حضرت مریمؑ کی آزمائش نظر آئی۔ مگر ایک دن محسوس ہوا... یہ سورت اُن لوگوں کی بھی ہے جو خاموشی سے روتے ہیں۔ جو اپنی تکلیف کسی سے نہیں کہتے... اور ہر حال میں صرف یہی کہتے ہیں: "الحمد للہ۔" اسی لیے سورت کا آغاز ایک خاموش دعا سے ہوتا ہے: ترجمہ: "جب اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا۔" (مریم: 3) اللہ کو اونچی آواز نہیں چاہیے... وہ ٹوٹے ہوئے دل کی دھیمی آہ بھی سن لیتا ہے۔ پھر حضرت زکریاؑ کہتے ہیں: ترجمہ "اے میرے رب! میں تجھ سے دعا کر کے کبھی محروم نہیں رہا۔" (مریم: 4) یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دعا اس لیے نہیں چھوڑنی چاہیے کہ جواب دیر سے آ رہا ہے، بلکہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ بہترین وقت پر عطا فرماتا ہے۔ پھر حضرت مریمؑ کی آزمائش آتی ہے، اور ان کے دل سے نکلتا ہے: ترجمہ "کاش! میں اس سے پہلے مر جاتی" (مریم: 23) مگر اگلی ہی آیت میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿أَلَّا تَحْزَنِي﴾ "غم نہ کرو۔" (مریم: 24) پہلے اللہ نے دل کو سنبھالا پھر حالات کو بدلا۔ اور پھر فرمایا: ترجمہ "کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ" (مریم: 25) یعنی دعا کے ساتھ کوشش بھی ضروری ہے۔ نتیجہ: ہمیشہ وہ خود عطا کرتے ہیں۔ میں دیر تک سوچتی رہی... ایک کمزور، درد سے نڈھال عورت... اور ایک مضبوط کھجور کا تنا۔ ظاہری اعتبار سے تو اسے ہلانا ممکن ہی نہیں لگتا۔ مگر اللہ نے پھر بھی انہیں حرکت کرنے کا حکم دیا۔ کیوں؟ شاید اس لیے کہ اللہ ہمیں سکھا رہے ہیں. نتیجہ میرے ہاتھ میں ہے، لیکن کوشش تمہارے ہاتھ میں۔ تم ایک قدم میری خاطر بڑھاؤ. رحمت کے دروازے میں کھول دوں گا۔ پھر میں نے دیکھا... اللہ نے پہلے پانی دیا..۔ پھر رزق دیا... پھر عزت دی... اور آخرکار سچ کو خود ظاہر کر دیا۔ مریمؑ کو لوگوں کے سامنے اپنی صفائی میں لمبی تقریر نہیں کرنی پڑی۔ تب مجھے احساس ہوا... جب اللہ کسی بندے کی حفاظت فرماتے ہیں... تو اسے ہر ایک کے سامنے خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اللہ خود اس کی سچائی کے اسباب پیدا کر دیتے ہیں۔ سورۂ مریم نے مجھے یہ بھی سکھایا... اللہ کبھی آزمائش کو رحمت کے خلاف نہیں بناتے۔ بعض اوقات... رحمت آزمائش کے لباس میں آتی ہے۔ ہم صرف آنسو دیکھتے ہیں... اللہ اس آنسو کے بعد آنے والی حکمت دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم صرف تنہائی دیکھتے ہیں... اللہ اپنے قرب کی گھڑیاں لکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم صرف لوگوں کے طعنے سنتے ہیں... اللہ آسمان میں ہماری عزت لکھ رہے ہوتے ہیں۔ اگر آج ہمیں لگتا ہے کہ ہم اکیلے ہیں.. تو مریمؑ کو یاد کرنا۔ اگر لگتا ہے کہ لوگ نہیں سمجھتے... تو مریمؑ کو یاد کرنا۔ اگر لگتا ہے کہ آزمائش بہت بڑی ہے... تو مریمؑ کو یاد کرنا۔ اور پھر اپنے دل سے کہنا... جس رب نے ایک تنہا عورت کو صحرا کی خاموشی میں "غم نہ کرو" فرمایا تھا... وہ آج بھی بندوں کی آہیں سنتا ہے۔ آج بھی ٹوٹے ہوئے دلوں کو سنبھالتا ہے۔ ممکن ہے تمہارا آج کا صبر... تمہاری کل کی سب سے بڑی نعمت کا پیش خیمہ ہو۔ اس لیے اگر آج آنکھوں میں آنسو ہیں... تو انہیں چھپانے کی ضرورت نہیں۔ انہیں اپنے رب کے سامنے بہنے دو۔ کیونکہ کبھی کبھی... اللہ اپنے بندے کی تقدیر بدلنے سے پہلے... اس کے دل کو اپنے قریب کر لیتا ہے۔ اور جب اللہ قریب ہو جائے... تو پھر تنہائی بھی رحمت بن جاتی ہے۔ اور آزمائش بھی عبادت۔ اور انتظار بھی امید۔ سورۂ مریم نے مجھے یہی سکھایا... اللہ کبھی دیر نہیں کرتے۔ وہ اپنے بندے کو عین اس لمحے سنبھالتے ہیں... جب بندہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب اسے سنبھالنے والا کوئی نہیں۔ پھر آخر میں مجھے سورۂ مریم نے ایک ایسی بات سکھائی... جو شاید میں کبھی نہیں بھولوں گی۔ اللہ نے حضرت زکریاؑ کی دعا سنی... اللہ نے حضرت مریمؑ کی تنہائی دیکھی... اللہ نے ان کی خاموشی بھی سنی... اور ان کے آنسو بھی۔ تب مجھے یقین ہوا... جو رب ایک سرگوشی سن سکتا ہے... اس سے ہماری خاموش سسکیاں کیسے چھپ سکتی ہیں؟ اگر آج ہمارے پاس کوئی نہیں... تب بھی ایک ذات ہے... جو ہماری ہر دھڑکن سے واقف ہے۔ اگر ہماری دعا کو برسوں ہو گئے ہیں... تب بھی ایک ذات ہے... جس کے نزدیک "دیر" نام کی کوئی چیز نہیں۔ اگر ہمیں لگتا ہے کہ ہماری زندگی میں کچھ بھی نہیں بدل رہا... تو سورۂ مریم دوبارہ پڑھنا۔ کیونکہ اس سورت نے مجھے سکھایا... اللہ معجزات شور میں نہیں... خاموشیوں میں پیدا کرتے ہیں۔ اور کبھی کبھی... ہماری زندگی کی سب سے خوبصورت خبر... ہماری سب سے طویل آزمائش کے بعد لکھی جاتی ہے۔ اس لیے اپنے رب سے مانگتے رہو... کیونکہ جو رب بڑھاپے میں زکریاؑ کو یحییٰؑ عطا کر سکتا ہے... جو رب صحرا کی تنہائی میں مریمؑ کے لیے چشمہ جاری کر سکتا ہے... وہ تمہاری زندگی کے بند دروازے بھی کھول سکتا ہے۔ بس... اس کے فیصلوں سے پہلے مایوس مت ہونا۔ کیونکہ اللہ جب عطا کرتا ہے... تو انسان صرف نعمت نہیں پاتا... اپنے ہر آنسو کا مطلب بھی سمجھ جاتا ہے۔

About