کسی بھی واقعے کو سنے یا دیکھے بغیر اس پر فیصلہ صادر کر دینا، سنی سنائی باتوں کو حقیقت بنا کر پھیلانا اور کسی کی عزت و ساکھ کو مجروح کرنا کہاں کی انصاف پسندی ہے؟
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيّهَا الّذِينَآمَنُوا إِن جَاءَكُمْفَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيّنُوا
ترجمہ: اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو۔ (سورۃ الحجرات: 6)
یہ آیت ہمیں واضح پیغام دیتی ہے کہ کسی خبر کو آگے پھیلانے سے پہلے اس کی تحقیق ضروری ہے۔ محض کسی کی بات سن کر اسے سچ تسلیم کر لینا اور پھر سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر کرنا ایک غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔
از قلم: مبراء عبدالقیوم
2026-11-04 11:28:36
0
꧁༺ 𝔗𝚊𝔩ح𝚊 ༻꧂` :
band hona chiy
2026-11-04 08:47:21
2
ذیدی گجر :
band
2026-11-04 09:20:40
1
Asif Butt 🇸🇦🚔🇵🇰 :
2026-11-04 07:31:16
1
🥃گھمن جٹ 3🥷 :
seal it completely
2026-11-04 07:44:07
3
Rai Arshad :
👿جھوٹا پروپیگنڈا
2026-11-04 09:53:11
1
Mian Zaby :
jhot
2026-11-04 10:55:16
0
Honey 🐝 :
pakka pakka seal kar do
2026-11-04 10:29:42
0
Mirha Fatima :
حقیقت جانے بغیر سنی سنائی باتوں پر یقین کرنا اور اسے آگے پھیلانا کہاں کا انصاف ہے؟ ایک جھوٹی خبر سینکڑوں لوگوں کی عزت اور طلبہ کے مستقبل کو متاثر کر سکتی ہے۔ خدارا، سچ جانے بغیر کسی نتیجے پر نہ پہنچیں۔
2026-11-04 11:30:50
0
khadim khan :
🥰
2026-11-04 11:15:54
0
Muhammad Irfan :
جرمانہ کویں گے مال وی تے ہاو سمجھ گے
2026-11-04 10:55:14
0
Ali Hassan Dijkot wala :
No 🥺🥺🥺🥺🥺🥺
2026-11-04 11:21:12
0
فارووق علی جھمٹ 544 آلہ :
s
2026-11-04 07:15:36
0
To see more videos from user @moazzam_jutt4, please go to the Tikwm
homepage.