@farahi.sot:

Farahi SOT
Farahi SOT
Open In TikTok:
Region: PK
Wednesday 04 November 2026 08:09:08 GMT
3918
336
8
13

Music

Download

Comments

ismail.manzoor279
𝐈𝐬𝐦𝐚𝐢𝐥.//\❀𝕯𝖎𝖑𝖑𝖆𝖆࿐ :
ghamdii saB is a great man &my musHad 🫀🫀🫀
2026-11-04 08:15:45
2
kmmovies3
KM.MOVIES :
QURAN MEY HAI K AGER ISLAMI RULES NA HO KESE REYASATH MEY CHAHY O MUSALMAN HI Q NA HO OS REYASATH KA KOE FAIDA NHE 👑[QURAN TARJUMAH] O HI TU ZALIM HAI O HI TU MONAFIK HAI O HI TU KAFIRE HAI O HI TU SARKASH HAI💀
2026-11-04 08:30:44
0
zenithmagic
ZENITH 🔝🔥 :
🥰🥰🥰
2026-11-04 08:19:26
2
ijaz.ahmed.20
IJAZ Ahmed 20 :
🥰🥰🥰
2026-11-04 09:22:49
2
zafar.jamali435
Zafar Jamali :
🥰🥰🥰
2026-11-04 10:30:10
1
wajahat123o
عبدالله :
قرآن پاک میں لفظ *"خلیفہ"* کا آپ کا سوال غالباً لفظ *"خلیفہ فی الارض"* سے متعلق ہے۔ قرآن میں یہ لفظ 2 اہم معنوں میں استعمال ہوا ہے: *1. سورۃ البقرہ آیت 30:* > *وَإِذْقَالَرَبُكَلِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً* > اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ بے شک میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ یہاں خلیفہ سے مراد *حضرت آدم علیہ السلام* ہیں، اور ان کی نسل یعنی پوری انسانیت۔ *مفسرین نے خلیفہ کی 3 تفسیریں کی ہیں:* *الف) نائب اور جانشین:* اللہ کا نائب جو زمین پر اللہ کے احکامات کو نافذ کرے۔ انسان اللہ کی ملکیت میں تصرف نہیں کرتا بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق انتظام کرتا ہے۔ *ب) ایک دوسرے کا خلیفہ:* ایک نسل کے بعد دوسری نسل جانشین بنتی ہے۔ جیسے سورۃ الانعام میں ہے: > *وَيَجْعَلُكُمْخُلَفَاءَالْأَرْضِ* اور تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بناتا ہے۔ *ج) سابقہ مخلوق کا جانشین:* اس سے پہلے جنات زمین پر آباد تھے، انسان ان کا خلیفہ یعنی بعد میں آنے والا ہے۔ *2. سورۃ ص آیت 26:* > *يَا دَاوُودُإِنَا جَعَلْنَاكَخَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَالنَاسِ بِالْحَقِّ* > اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے، پس لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یہاں خلیفہ سے مراد *حاکم، بادشاہ، اور اللہ کے قانون کا نفاذ کرنے والا* ہے۔ ### خلاصہ: قرآن میں خلیفہ کا مطلب کوئی روحانی پیشوا نہیں، بلکہ *ذمہ دار، نائب، اور امانت دار حاکم* ہے۔ اس لیے ہر انسان خلیفہ ہے: - اپنے نفس پر خلیفہ (اپنے اعمال کا ذمہ دار) - اپنے گھر والوں پر خلیفہ - اور اگر حکومت ملے تو رعایا پر خلیفہ جیسا کہ حدیث میں ہے: *"كُلُكُمْرَاعٍ وَكُلُكُمْمَسْئُولٌ عَنْرَعِيَتِهِ"* تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اگر آپ کا سوال *"خلافت ثلاثہ"* یعنی ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کے بارے میں تھا تو بتائیے، اس کی بھی تفصیل قرآن سے دے دیتا ہوں۔
2026-11-04 14:14:20
0
wajahat123o
عبدالله :
قرآن پاک میں لفظ *"خلیفہ"* کا آپ کا سوال غالباً لفظ *"خلیفہ فی الارض"* سے متعلق ہے۔ قرآن میں یہ لفظ 2 اہم معنوں میں استعمال ہوا ہے: *1. سورۃ البقرہ آیت 30:* > *وَإِذْقَالَرَبُكَلِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً* > اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ بے شک میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ یہاں خلیفہ سے مراد *حضرت آدم علیہ السلام* ہیں، اور ان کی نسل یعنی پوری انسانیت۔ *مفسرین نے خلیفہ کی 3 تفسیریں کی ہیں:* *الف) نائب اور جانشین:* اللہ کا نائب جو زمین پر اللہ کے احکامات کو نافذ کرے۔ انسان اللہ کی ملکیت میں تصرف نہیں کرتا بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق انتظام کرتا ہے۔ *ب) ایک دوسرے کا خلیفہ:* ایک نسل کے بعد دوسری نسل جانشین بنتی ہے۔ جیسے سورۃ الانعام میں ہے: > *وَيَجْعَلُكُمْخُلَفَاءَالْأَرْضِ* اور تمہیں زمین میں ایک دوسرے کا جانشین بناتا ہے۔ *ج) سابقہ مخلوق کا جانشین:* اس سے پہلے جنات زمین پر آباد تھے، انسان ان کا خلیفہ یعنی بعد میں آنے والا ہے۔ *2. سورۃ ص آیت 26:* > *يَا دَاوُودُإِنَا جَعَلْنَاكَخَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَالنَاسِ بِالْحَقِّ* > اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے، پس لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یہاں خلیفہ سے مراد *حاکم، بادشاہ، اور اللہ کے قانون کا نفاذ کرنے والا* ہے۔ ### خلاصہ: قرآن میں خلیفہ کا مطلب کوئی روحانی پیشوا نہیں، بلکہ *ذمہ دار، نائب، اور امانت دار حاکم* ہے۔ اس لیے ہر انسان خلیفہ ہے: - اپنے نفس پر خلیفہ (اپنے اعمال کا ذمہ دار) - اپنے گھر والوں پر خلیفہ - اور اگر حکومت ملے تو رعایا پر خلیفہ جیسا کہ حدیث میں ہے: *"كُلُكُمْرَاعٍ وَكُلُكُمْمَسْئُولٌ عَنْرَعِيَتِهِ"* تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اگر آپ کا سوال *"خلافت ثلاثہ"* یعنی ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کے بارے میں تھا تو بتائیے، اس کی بھی تفصیل قرآن سے دے دیتا ہوں۔
2026-11-04 14:17:49
0
wajahat123o
عبدالله :
جی، قرآن میں *خلفائے ثلاثہ* یعنی حضرت ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم کا نام لے کر ذکر نہیں، لیکن ان کی خلافت کے اصول اور ان کی صفات کا ذکر ہے۔ قرآن میں خلافت کے بارے میں 2 بڑی آیات ہیں جن سے صحابہ کرام کی خلافت ثابت ہوتی ہے: *1. سورۃ النور آیت 55:* > *وَعَدَاللَهُالَذِينَآمَنُوا مِنكُمْوَعَمِلُوا الصَالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَهُمْفِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَالَذِينَمِن قَبْلِهِمْ* > اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے وعدہ فرمایا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسے ان سے پہلوں کو خلیفہ بنایا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں: یہ آیت ابوبکر و عمر اور صحابہ کے حق میں نازل ہوئی، اللہ نے اس وعدے کو پورا کیا اور انہیں پورے عرب و عجم کا خلیفہ بنا دیا۔ *2. سورۃ التوبہ آیت 100:* > *وَالسَابِقُونَالْأَوَلُونَمِنَالْمُهَاجِرِينَوَالْأَنصَارِ... رَضِيَاللَهُعَنْهُمْوَرَضُوا عَنْهُ* یہ سابقون اولین مہاجرین میں سب سے پہلے ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم ہی ہیں۔ *نبی ﷺ کی حدیث سے وضاحت:* قرآن نے اصول دیا، حدیث نے مدت بتائی: > *"الخلافة بعدي ثلاثون سنة"* > میرے بعد خلافت 30 سال تک رہے گی۔ (ابو داؤد، ترمذی) - ابوبکر صدیق: 2 سال - عمر فاروق: 10 سال - عثمان غنی: 12 سال - علی المرتضیٰ: 6 سال ٹوٹل = 30 سال۔ اس لیے ان چاروں کو *خلفائے راشدین* کہا جاتا ہے۔ تو *خلیفہ* کا قرآنی مفہوم ہے: اللہ کا وہ نیک بندہ جو زمین پر اللہ کے دین کو قائم کرے، عدل کرے، اور وہ خلافت اللہ کا انعام ہے جو ایمان و عمل صالح پر ملتا ہے، نہ کہ صرف وراثت سے۔
2026-11-04 14:15:22
0
To see more videos from user @farahi.sot, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About