@sirrinfatahi1:

BABAN FATEEHA
BABAN FATEEHA
Open In TikTok:
Region: NG
Wednesday 04 November 2026 13:13:55 GMT
2844
808
42
56

Music

Download

Comments

sani_hussaini1
Sani Zaba :
gaskiyane wllh baban fatiha na shehu Ibrahim inyass
2026-11-04 13:17:49
2
m_salisu_ibrahim_
M_Salisu_Ibrahim_Maradi :
YAFI HASKE HASKE ANNABI MUHAMMADU
2026-11-04 15:10:52
1
muhammad.bello.sirrin
Muhammad bello Sirrin fatahi :
Alla ya qara muku lfy
2026-11-04 22:17:43
0
sadeeq__jr17
Sadeeq__jr 🦍📊💰 :
Allah yayi jagora number ka don Allah 🙏
2026-11-04 13:19:47
1
muhammad.namaaiki0
MUHAMMAD NAMA'AIKI :
Wlh ina kaunar sirrinfatahi dgsk
2026-11-04 13:32:10
0
sayyadiy_ismail
YA SAYYADI :
Allah ya cigaba da shiga lamarinka albarkacin manzon Allah S.A.W🙏🥰
2026-11-04 22:05:57
0
shehunaibi
🎥M.H.D comedian👁️🎬🎵 :
wallahi inasan sirrin fatahi
2026-11-04 20:48:39
0
sulemanhalifa.afan
Suleman Halifa Afan :
masha Allah
2026-11-04 20:05:58
0
realsayyaddiabba
SAYYADI ABBA :
Ameen bijahi Annabi ❤️
2026-11-04 15:17:27
0
user1485383020017
AMINU ZAKIII :
Allah yakara kusanci masoyi
2026-11-04 17:27:13
0
usmankabir8290
babangida :
Allah yakara kusanci saboda Annabi
2026-11-04 13:23:21
0
seekerktb
UncleSeeker :
Allah ya Faranta
2026-11-04 13:17:47
0
shuaebu5
sha'aibu zakareya :
amin 🤲Mai yabo Allah yakaramaka daukaka
2026-11-04 14:04:00
0
hassanhusssainabd
hassanhusssainabd :
🥰🥰🥰
2026-11-04 13:23:58
0
mohammedmuchmoali.m
MOHAMMEDMODU :
❤️❤️❤️
2026-11-04 13:16:57
0
hayatu.dan.aliyu
HAYATU DAN ALIYU :
❤️❤️❤️
2026-11-04 23:27:39
0
hamzaaltinebgd
HAMZA ALTINE BGD :
♥️♥️♥️
2026-11-04 23:17:52
0
safyanutijjani
Safyanu Tijjani :
🥰🥰🥰
2026-11-04 21:03:17
0
aliyu.usman07
Aliyu Usman :
❤️❤️❤️
2026-11-04 20:41:37
0
hamzasuleman91
hamzasuleman847 :
🤲🤲🙏
2026-11-04 20:07:37
0
khalifa.yau5
Khalifa Ya'u na zakin ma aiki :
🙏🙏🙏
2026-11-04 19:58:37
0
arbiyyu.hadimi
ARBIYYU DAN HADIMI MEDIA🎵🎤🎹 :
👍👍👍
2026-11-04 19:51:43
0
na.annabi.rahama
NA Annabi rahama :
💞💞💞
2026-11-04 19:26:51
0
adamumugudu
DAN UMARU 👑 :
🥰🥰🥰
2026-11-04 16:55:53
0
anasabubakar043
08106632613 :
🥰🥰🥰
2026-11-04 13:16:58
0
To see more videos from user @sirrinfatahi1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وزیر اور محسود قبائل کی تفصیلی تاریخ دونوں پشتون قبائل ہیں اور کرلانی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ زبانی شجروں کے مطابق وزیر اور محسود آپس میں قریبی نسب رکھتے ہیں۔ دونوں پہلے برمل کے علاقے (موجودہ پکتیکا، افغانستان) میں رہتے تھے۔ تقریباً پندرھویں سے سولہویں صدی کے دوران وہ مشرق کی طرف منتقل ہوئے اور ٹوچی اور گومل دریاؤں کے درمیانی پہاڑی علاقے میں آباد ہو گئے۔ وہاں انہوں نے بھٹنی اور کانیگرم کے اورمڑ (برکی) جیسے پہلے سے آباد لوگوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ وزیر قبیلہ - **عثمان زئی وزیر** زیادہ تر شمالی وزیرستان میں رہتے ہیں (ٹوچی وادی، رزمک، میران شاہ، سپین وام)۔ ان کی شاخوں میں **طوری خیل**، حسن خیل، کبل خیل اور مداخیل شامل ہیں۔ - **احمد زئی وزیر** زیادہ تر جنوبی وزیرستان میں وانا کے اردگرد آباد ہیں۔ ان کی شاخوں میں زلی خیل، کالو خیل اور گنگی خیل ہیں۔ - دونوں درویش خیل شاخ سے ہیں۔ ان کا معاشرہ مساوات پر مبنی تھا، فیصلے جرگے میں ہوتے تھے، ملکوں اور بزرگوں کا اثر تھا اور غیرت و بدلے کا سخت ضابطہ چلتا تھا۔ محسود قبیلہ - یہ جنوبی وزیرستان میں مکین، لدھا، سراروغہ، کانیگرم اور شہور و شکتوئی کی وادیوں میں آباد ہیں۔ - ان کی تین بڑی شاخیں **علی زئی، بہلول زئی اور شمن خیل** ہیں۔ - یہ اپنی جنگجوئی کے لیے مشہور تھے اور چراگاہوں، زمین اور پانی پر پڑوسی وزیروں سے اکثر ان کے جھگڑے ہوتے تھے۔ ان کی معیشت گلہ بانی، تجارت اور تاریخی طور پر میدانی علاقوں پر چھاپوں سے جڑی تھی۔ مغل اور ابتدائی دور دونوں قبائل پر نہ مغلوں کی اور نہ بعد کے افغان حکمرانوں کی حقیقی حکومت قائم ہوئی۔ وہ باقاعدہ محصول نہیں دیتے تھے اور اپنے معاملات خود چلاتے تھے۔ سولہویں صدی میں بایزید انصاری کی روشانی تحریک کو اس علاقے میں حمایت ملی۔  برطانوی دور - **1849ء سے 1860ء کی دہائی:** پنجاب کے الحاق کے بعد میدانی علاقوں پر قبائلی حملے مسلسل مسئلہ بنے رہے۔ 1860ء میں محسودوں کے ٹانک پر حملے کے بعد تادیبی مہم چلائی گئی۔ - **1893ء:** ڈیورنڈ لائن نے قبائل کو برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان تقسیم کر دیا۔ - **1894ء:** وزیروں نے وانا میں افغان-برطانوی سرحدی کمیشن کے کیمپ پر حملہ کیا۔ - **1897ء:** سرحد پر وسیع بغاوت شروع ہوئی، جس میں ٹوچی وادی کے مائزر کے مقام پر مداخیل وزیروں کا حملہ بھی شامل تھا۔ - **1900ء تا 1902ء:** بار بار کے چھاپوں کے بعد محسودوں کی ناکہ بندی کی گئی۔ **ملا پوندہ** (ملا محمد عبداللہ) 1913ء میں اپنی وفات تک ان کی مزاحمت کی قیادت کرتے رہے۔ - **1901ء:** فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) نافذ ہوا، جس میں اجتماعی سزا، پولیٹیکل ایجنٹ اور قبائلی لیویز شامل تھے۔ - **1919ء تا 1920ء:** تیسری اینگلو افغان جنگ کے دوران وزیرستان میں بغاوت ہوئی۔ اس کے بعد انگریزوں نے 1923ء میں **رزمک** میں بڑی چھاؤنی بنائی اور قبائل کے خلاف فضائی طاقت کا استعمال شروع کیا۔ - **1936ء تا 1947ء:** **فقیر آف ایپی** (مرزا علی خان، طوری خیل وزیر) نے اسلام بی بی کیس کے بعد طویل گوریلا جنگ لڑی۔ برطانیہ نے ہزاروں فوجی تعینات کیے مگر انہیں مکمل طور پر دبا نہ سکا۔  1947ء کے بعد قبائل پاکستان میں شامل ہو گئے اور بہت سے وزیر اور محسود جنگجوؤں نے 1947-48ء کی کشمیر جنگ میں حصہ لیا۔ وزیرستان ایف اے ٹی اے کے حصے کے طور پر ایف سی آر کے تحت رہا، اور 1974ء میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تقسیم ہو گیا۔ علاقے میں ترقی بہت کم ہوئی اور ایف سی آر کئی دہائیوں تک نافذ رہا۔ @𝐊𝐢𝐧𝐠 𝐊𝐡𝐚𝐧🥀 @Mashahoor khan @Bakhtayoor Khan🎭💀🦇   #wazir #maseed #HistoryTime #1900 #old
وزیر اور محسود قبائل کی تفصیلی تاریخ دونوں پشتون قبائل ہیں اور کرلانی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں۔ زبانی شجروں کے مطابق وزیر اور محسود آپس میں قریبی نسب رکھتے ہیں۔ دونوں پہلے برمل کے علاقے (موجودہ پکتیکا، افغانستان) میں رہتے تھے۔ تقریباً پندرھویں سے سولہویں صدی کے دوران وہ مشرق کی طرف منتقل ہوئے اور ٹوچی اور گومل دریاؤں کے درمیانی پہاڑی علاقے میں آباد ہو گئے۔ وہاں انہوں نے بھٹنی اور کانیگرم کے اورمڑ (برکی) جیسے پہلے سے آباد لوگوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ وزیر قبیلہ - **عثمان زئی وزیر** زیادہ تر شمالی وزیرستان میں رہتے ہیں (ٹوچی وادی، رزمک، میران شاہ، سپین وام)۔ ان کی شاخوں میں **طوری خیل**، حسن خیل، کبل خیل اور مداخیل شامل ہیں۔ - **احمد زئی وزیر** زیادہ تر جنوبی وزیرستان میں وانا کے اردگرد آباد ہیں۔ ان کی شاخوں میں زلی خیل، کالو خیل اور گنگی خیل ہیں۔ - دونوں درویش خیل شاخ سے ہیں۔ ان کا معاشرہ مساوات پر مبنی تھا، فیصلے جرگے میں ہوتے تھے، ملکوں اور بزرگوں کا اثر تھا اور غیرت و بدلے کا سخت ضابطہ چلتا تھا۔ محسود قبیلہ - یہ جنوبی وزیرستان میں مکین، لدھا، سراروغہ، کانیگرم اور شہور و شکتوئی کی وادیوں میں آباد ہیں۔ - ان کی تین بڑی شاخیں **علی زئی، بہلول زئی اور شمن خیل** ہیں۔ - یہ اپنی جنگجوئی کے لیے مشہور تھے اور چراگاہوں، زمین اور پانی پر پڑوسی وزیروں سے اکثر ان کے جھگڑے ہوتے تھے۔ ان کی معیشت گلہ بانی، تجارت اور تاریخی طور پر میدانی علاقوں پر چھاپوں سے جڑی تھی۔ مغل اور ابتدائی دور دونوں قبائل پر نہ مغلوں کی اور نہ بعد کے افغان حکمرانوں کی حقیقی حکومت قائم ہوئی۔ وہ باقاعدہ محصول نہیں دیتے تھے اور اپنے معاملات خود چلاتے تھے۔ سولہویں صدی میں بایزید انصاری کی روشانی تحریک کو اس علاقے میں حمایت ملی۔ برطانوی دور - **1849ء سے 1860ء کی دہائی:** پنجاب کے الحاق کے بعد میدانی علاقوں پر قبائلی حملے مسلسل مسئلہ بنے رہے۔ 1860ء میں محسودوں کے ٹانک پر حملے کے بعد تادیبی مہم چلائی گئی۔ - **1893ء:** ڈیورنڈ لائن نے قبائل کو برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان تقسیم کر دیا۔ - **1894ء:** وزیروں نے وانا میں افغان-برطانوی سرحدی کمیشن کے کیمپ پر حملہ کیا۔ - **1897ء:** سرحد پر وسیع بغاوت شروع ہوئی، جس میں ٹوچی وادی کے مائزر کے مقام پر مداخیل وزیروں کا حملہ بھی شامل تھا۔ - **1900ء تا 1902ء:** بار بار کے چھاپوں کے بعد محسودوں کی ناکہ بندی کی گئی۔ **ملا پوندہ** (ملا محمد عبداللہ) 1913ء میں اپنی وفات تک ان کی مزاحمت کی قیادت کرتے رہے۔ - **1901ء:** فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) نافذ ہوا، جس میں اجتماعی سزا، پولیٹیکل ایجنٹ اور قبائلی لیویز شامل تھے۔ - **1919ء تا 1920ء:** تیسری اینگلو افغان جنگ کے دوران وزیرستان میں بغاوت ہوئی۔ اس کے بعد انگریزوں نے 1923ء میں **رزمک** میں بڑی چھاؤنی بنائی اور قبائل کے خلاف فضائی طاقت کا استعمال شروع کیا۔ - **1936ء تا 1947ء:** **فقیر آف ایپی** (مرزا علی خان، طوری خیل وزیر) نے اسلام بی بی کیس کے بعد طویل گوریلا جنگ لڑی۔ برطانیہ نے ہزاروں فوجی تعینات کیے مگر انہیں مکمل طور پر دبا نہ سکا۔ 1947ء کے بعد قبائل پاکستان میں شامل ہو گئے اور بہت سے وزیر اور محسود جنگجوؤں نے 1947-48ء کی کشمیر جنگ میں حصہ لیا۔ وزیرستان ایف اے ٹی اے کے حصے کے طور پر ایف سی آر کے تحت رہا، اور 1974ء میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تقسیم ہو گیا۔ علاقے میں ترقی بہت کم ہوئی اور ایف سی آر کئی دہائیوں تک نافذ رہا۔ @𝐊𝐢𝐧𝐠 𝐊𝐡𝐚𝐧🥀 @Mashahoor khan @Bakhtayoor Khan🎭💀🦇 #wazir #maseed #HistoryTime #1900 #old

About