کیوں نہ ایک عمر تیرےساتھ گزاری جائے اور ہر سانس میری سانس پہ واری جائے دل ہو صدقے تو میری جان فدا ہو تجھ پر سانس اتے ہی میرے حسن پہ باری جائے ٹھہر جاتی ہے نظر تجھ پہ میرے جانے غزل تو بتا تیری نظر کیوں نہ اتاری جائے مجھ کو ذبائش ہستی کا خیال ایا ہے تیرے ماتھے پہ تیری زلف سواری جائے کیوں نہ ایک عمر تیرے ساتھ گزاری جائے