وہ دن میری زندگی کے اخری خوبصورت دن تھے جب تمہاری پسند منا میرے جینے کی وجہ ہوا کرتا تھا تمہاری باتوں میں میرا ذکر تمہاری دعاؤں میں میرا نام میری فکر ہو میں یہ سب سچ سمجھ بیٹھا تھا مجھے کیا خبر تھی کہ کچھ لوگ وقت ہی محبت تو دے دیتے ہیں مگر بات نہیں دیتے پھر ایک دن تم بدل گئی اتنا بدلی کہ میری اواز بھی تمہیں لگی وہ لڑکی جو ہے بغیر ایک لمحہ نہیں رہتی تھی اج میری موجودگی سے بھی کہنے لگی میں اج بھی وہی کھڑا ہوں جہاں تم مجھے چھوڑ کر گئی تھی یہ نہیں کہ تم چلی گئی بلکہ یہ کہ جا لی سکت یہ یقین دلایا تھا کہ تم گال کے اخری پہر میں مجھ سے سوال کرتا ہوں اگر میں واقعی کبھی تمہاری پسند تھا اس طرح غیروں سے بھی بدتر کیوں چھوڑا مجھ سے خم ایسے ہوتے ہیں جو خون نہیں پاتے بس انسان کی ہسی نیت سکون اور زندہ رہنے کی خواہش اہستہ اہستہ کھا جاتے ہیں