@sudairkhan53: ظلم کی انتہا، گزشتہ شب ہمارے خاندان پر قیامت ڈھا دی گئی۔ گزشتہ رات 9:20 بجے سے 12:45 بجے تک ملاکنڈ انتظامیہ کے اہلکاروں، نقاب پوش اہلکاروں اور نامعلوم افراد پر مشتمل تقریباً 50 سے 70 افراد، 15 سے 25 گاڑیوں کے ہمراہ میرے گھر، حجرے، اور میرے بھائیوں، چچا زاد اور دیگر رشتہ داروں کے گھروں پر چھاپے مارتے رہے۔ گھروں کے دروازوں اور تالوں کو توڑا گیا۔ بیرونِ ملک مقیم بھائیوں کے گھروں کے تالے توڑے گئے، اور گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا گیا۔ گھر میں نصب تمام سیکیورٹی کیمرے توڑ دیے گئے اور تین گھروں کے ڈی وی آر بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ سب سے زیادہ افسوسناک اور قابلِ مذمت پہلو یہ ہے کہ میرے ضعیف العمر والدہ، جو کینسر کی مریضہ ہیں اور جن کے دل میں دو اسٹنٹ ڈالے جا چکے ہیں، اب اوپن ہارٹ سرجری کی منتظر ہیں، ان کا بھی کوئی لحاظ نہیں کیا گیا۔ معذور کزن کو زمین پر گرا دیا گیا، جبکہ نویں جماعت میں زیرِ تعلیم ان کی بھتیجی کے ساتھ بھی مبینہ طور پر تشدد کیا گیا۔ آخر ایک بزرگ، بیمار خاتون، بچوں اور معذور افراد کا کیا قصور تھا؟ انہیں سردی میں بے گھر کرنا، خوف و ہراس پھیلانا اور مبینہ طور پر لاٹھیوں سے تشدد کرنا نہ صرف انسانی اقدار بلکہ قانون اور پشتون روایات کے بھی منافی ہے۔ اس کارروائی میں میرے بھائی محمد اکرام غازی اور بھتیجے کو بھی اپنے ساتھ لے جایا گیا۔ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کیا اس ملک میں منتخب عوامی نمائندوں اور عام شہریوں کے گھروں، بزرگوں، خواتین اور بچوں کے بنیادی حقوق کا کوئی احترام باقی نہیں رہا؟