@_kitkatkfc: bấm góc trái màn hình tui nhó#xh #aff

chip
chip
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 05 November 2026 13:11:51 GMT
4
58
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @_kitkatkfc, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

بھولنا بھلانا تو فقط وہم ہے ورنہ کہاں بھولتے ہیں وہ لوگ جن پر جان واری جائے، یہ بات وہی سمجھ سکتا ہے جس نے کسی کو اپنی ذات سے بڑھ کر چاہا ہو، ہم لوگوں کو کہتے پھرتے ہیں کہ ہم بھول گئے ہیں، ہم آگے نکل گئے ہیں، ہم نے سب ختم کر دیا ہے، مگر رات کی تنہائی میں جب سارے چہرے اتر جاتے ہیں اور دل اپنی اصل حالت میں آ جاتا ہے تو وہی ایک نام پھر سے سینے میں دھڑکنے لگتا ہے، وہی ایک چہرہ آنکھوں کے سامنے آ کر ٹھہر جاتا ہے، ہم چاہ کر بھی اسے اپنی یادوں کے قبرستان سے نکال نہیں پاتے، کیونکہ جنہیں ہم نے اپنی دعاؤں میں مانگا ہو، جن کے لیے ہم نے اپنی نیندیں قربان کی ہوں، انہیں بھلانا اتنا آسان نہیں ہوتا، یہ بھولنا نہیں ہوتا، یہ تو خود کو فریب دینا ہوتا ہے۔ وہ لوگ بھولے نہیں جاتے جن پر جان واری جائے، وہ ہماری سانسوں میں بس جاتے ہیں، ہماری دعاؤں میں شامل ہو جاتے ہیں، ہمارے ہر خواب کی تعبیر بن جاتے ہیں، لوگ کہتے ہیں وقت سب بھلا دیتا ہے، مگر وقت تو صرف زخموں پر مٹی ڈالتا ہے، انہیں مٹاتا نہیں، اندر ہی اندر وہ زخم پھر بھی رستا رہتا ہے، کبھی کسی کے ذکر پر، کبھی کسی پرانی بات پر، کبھی کسی ادھوری خواہش پر، ہم مسکراتے ہوئے دنیا کے سامنے تو آ جاتے ہیں، مگر اندر سے ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں اس نے ہمیں چھوڑا تھا، اسی موڑ پر، اسی انتظار میں، کہ شاید وہ لوٹ آئے، اور یہی انتظار ہماری سب سے بڑی اذیت ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں وہ نہیں آئے گا، پھر بھی ہم اسے بھلا نہیں پاتے۔
بھولنا بھلانا تو فقط وہم ہے ورنہ کہاں بھولتے ہیں وہ لوگ جن پر جان واری جائے، یہ بات وہی سمجھ سکتا ہے جس نے کسی کو اپنی ذات سے بڑھ کر چاہا ہو، ہم لوگوں کو کہتے پھرتے ہیں کہ ہم بھول گئے ہیں، ہم آگے نکل گئے ہیں، ہم نے سب ختم کر دیا ہے، مگر رات کی تنہائی میں جب سارے چہرے اتر جاتے ہیں اور دل اپنی اصل حالت میں آ جاتا ہے تو وہی ایک نام پھر سے سینے میں دھڑکنے لگتا ہے، وہی ایک چہرہ آنکھوں کے سامنے آ کر ٹھہر جاتا ہے، ہم چاہ کر بھی اسے اپنی یادوں کے قبرستان سے نکال نہیں پاتے، کیونکہ جنہیں ہم نے اپنی دعاؤں میں مانگا ہو، جن کے لیے ہم نے اپنی نیندیں قربان کی ہوں، انہیں بھلانا اتنا آسان نہیں ہوتا، یہ بھولنا نہیں ہوتا، یہ تو خود کو فریب دینا ہوتا ہے۔ وہ لوگ بھولے نہیں جاتے جن پر جان واری جائے، وہ ہماری سانسوں میں بس جاتے ہیں، ہماری دعاؤں میں شامل ہو جاتے ہیں، ہمارے ہر خواب کی تعبیر بن جاتے ہیں، لوگ کہتے ہیں وقت سب بھلا دیتا ہے، مگر وقت تو صرف زخموں پر مٹی ڈالتا ہے، انہیں مٹاتا نہیں، اندر ہی اندر وہ زخم پھر بھی رستا رہتا ہے، کبھی کسی کے ذکر پر، کبھی کسی پرانی بات پر، کبھی کسی ادھوری خواہش پر، ہم مسکراتے ہوئے دنیا کے سامنے تو آ جاتے ہیں، مگر اندر سے ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں اس نے ہمیں چھوڑا تھا، اسی موڑ پر، اسی انتظار میں، کہ شاید وہ لوٹ آئے، اور یہی انتظار ہماری سب سے بڑی اذیت ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں وہ نہیں آئے گا، پھر بھی ہم اسے بھلا نہیں پاتے۔

About