@fakhrizadi: #foryouviral #viralvideo #،foryoupage #tiktokpleaseunfreezmyacount #foryoupage

𝔽𝔸𝕂ℍℝ𝕀 ℤ𝔸𝔻𝕀
𝔽𝔸𝕂ℍℝ𝕀 ℤ𝔸𝔻𝕀
Open In TikTok:
Region: PK
Friday 06 November 2026 08:50:50 GMT
4322
447
12
13

Music

Download

Comments

king._.599
⋆ ❥ ⋆ᗩ ᒪ I ⚜️🇦🇺 :
❤️❤️❤️🥰
2026-11-06 17:36:05
0
sayedwaseemabbas14
Fakhri Zada 💫 :
❤️❤️
2026-11-06 15:17:07
0
tk7uufvu8yi0u7
شھزاد چںا :
[Heartwarming][Heartwarming][Heartwarming]
2026-11-06 14:59:28
0
khanbaba.khanbaba766
💞 IT'S PRINCESS ✌️ :
❤️❤️❤️
2026-11-06 12:16:57
0
alimuhammadkhan047
ali :
♥️♥️♥️
2026-11-06 11:19:44
0
sayedmr25
Black Eyes1214 :
🥰🥰🥰
2026-11-06 10:14:18
0
mahira.khan.80
Mahira Khan 80 :
💝💝💝
2026-11-06 09:28:49
0
user1626609280525
user1626609280525 :
🥰🥰🥰
2026-11-06 09:19:02
0
zahor.khan8047
😈🇵🇰💞 ZAHORKHAN 804🇵🇰♥️ :
[Red heart][Red heart][Red heart]
2026-11-06 09:14:14
0
farhanmumtaz._.7
Farhan :
🥰🥰🥰
2026-11-06 08:57:34
0
mjamshad764
mjamshed 764 :
🥰🥰🥰🥰🥰
2026-11-06 08:54:56
0
king._.599
⋆ ❥ ⋆ᗩ ᒪ I ⚜️🇦🇺 :
🥰🥰
2026-11-06 17:36:06
0
To see more videos from user @fakhrizadi, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میں یہ 100 روپے نہیں دوں گا، گھر آٹا لے کر جانا ہے‘ لاہور کا 12 سالہ بچہ، جس کی دردناک کہانی سن کر سابق پولیس افسر بھی رو پڑے! لاہور کی تاریخ میں ایک ایسا دردناک واقعہ بھی موجود ہے جسے سن کر آج بھی دل افسردہ ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا معصوم بچہ جو خود بچپن میں تھا، لیکن اپنے بیمار والد اور چھوٹے بھائی کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے تھا، ایک دن ڈاکوؤں کی سفاکی کا نشانہ بن گیا۔ یہ واقعہ سابق پولیس افسر رانا حسیب نے اپنی یادوں میں بیان کیا ہے، جس میں ایک بچے کی قربانی، خاندان کی بے بسی اور پولیس اہلکاروں کی انسانیت کی ایسی داستان سامنے آتی ہے جو شاید ہی کوئی بھول سکے۔ صرف 100 روپے کے لیے معصوم زندگی ختم! برسوں قبل لاہور کے علاقے کاہنہ میں ڈاکوؤں نے ایک ویران سڑک پر ناکہ لگا رکھا تھا۔ وہ راہگیروں کو لوٹتے اور ان کے ہاتھ باندھ کر قریب ہی بٹھا دیتے تھے۔ اسی دوران ایک 12 سالہ بچہ، جو کسی دکان یا ورکشاپ پر کام کرتا تھا، ڈاکوؤں کے ہتھے چڑھ گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق جب ڈاکوؤں نے بچے سے 100 روپے چھیننے کی کوشش کی تو اس نے انکار کرتے ہوئے کہا: میں یہ 100 روپے نہیں دوں گا، میں نے گھر آٹا لے کر جانا ہے!“ یہ الفاظ اس معصوم بچے کی مجبوری اور اپنے خاندان کے لیے اس کی ذمہ داری کا احساس بیان کرتے ہیں۔ لیکن افسوس! مزاحمت پر ڈاکوؤں نے بچے کے سر میں گولی مار دی۔ وہ معصوم موقع پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور 100 روپے کا نوٹ اس کی مٹھی میں ہی رہ گیا۔ بچے کی لاش دیکھ کر پولیس افسر بھی رو پڑے سابق پولیس افسر رانا حسیب کے مطابق جب انہیں واقعے کی اطلاع ملی تو وہ خود جائے وقوعہ پر پہنچے۔ بچے کی لاش دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی میں بہت کم مواقع پر روئے تھے، لیکن اس بچے کی کہانی اور عینی شاہدین کے بیان نے انہیں اندر تک ہلا دیا۔ اس بچے کا والد بیمار تھا، چھوٹا بھائی اس پر انحصار کرتا تھا اور وہ خود گھر کے لیے آٹا لے کر جانے کی فکر میں تھا۔ ماں کئی دن بے ہوش، باپ غم سے آواز کھو بیٹھا اس سانحے کے بعد بچے کے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ رانا حسیب کے بیان کے مطابق بچے کی ماں کئی دن تک بے ہوش رہی، جبکہ اس کا والد شدتِ غم سے اپنی آواز کھو بیٹھا اور کئی ماہ بعد بولنے کے قابل ہوا۔ ایک طرف گھر کا کفیل دنیا سے چلا گیا، دوسری طرف والدین کے لیے اس صدمے کو برداشت کرنا انتہائی مشکل ہو گیا۔ پولیس نے صرف مقدمہ نہیں، خاندان کی ذمہ داری بھی اٹھائی اس واقعے کا ایک انتہائی قابلِ قدر پہلو یہ بھی ہے کہ پولیس اہلکاروں نے بچے کے خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا۔ رانا حسیب کے مطابق واقعے میں ملوث ڈاکو چند ہفتوں بعد سی آئی اے کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور اپنے انجام تک پہنچے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مقامی تھانے اور سی آئی اے کے اہلکاروں نے بچے کے والدین کی مدد کا فیصلہ کیا۔ کئی ماہ تک خاندان کے اخراجات تھانے سے فراہم کیے جاتے رہے۔ کانسٹیبل سے لے کر بڑے افسران تک سب اس نیکی میں شریک تھے، حتیٰ کہ عمر ورک سمیت دیگر اہلکاروں نے بھی اس خاندان کی مدد میں حصہ لیا۔ یہ صرف پولیس کی کارروائی نہیں بلکہ انسانیت، ہمدردی اور ایک بے سہارا خاندان کے لیے اجتماعی احساسِ ذمہ داری کی مثال تھی۔ ایک 100 روپے کا نوٹ، ایک معصوم بچہ اور ایک ایسا درد جو برسوں بعد بھی زندہ ہے! یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات چند لمحوں کی سفاکی پورے خاندان کی زندگی بدل دیتی ہے، جبکہ انسانیت کا ایک چھوٹا سا عمل کسی ٹوٹے ہوئے خاندان کے لیے سہارا بن سکتا ہے۔ آپ کے خیال میں اس بچے کے وہ الفاظ ”میں نے گھر آٹا لے کر جانا ہے“ کیا کبھی بھلائے جا سکتے ہیں؟ #Lahore #Kahna #PakistanHistory #TrueStory
میں یہ 100 روپے نہیں دوں گا، گھر آٹا لے کر جانا ہے‘ لاہور کا 12 سالہ بچہ، جس کی دردناک کہانی سن کر سابق پولیس افسر بھی رو پڑے! لاہور کی تاریخ میں ایک ایسا دردناک واقعہ بھی موجود ہے جسے سن کر آج بھی دل افسردہ ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا معصوم بچہ جو خود بچپن میں تھا، لیکن اپنے بیمار والد اور چھوٹے بھائی کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے تھا، ایک دن ڈاکوؤں کی سفاکی کا نشانہ بن گیا۔ یہ واقعہ سابق پولیس افسر رانا حسیب نے اپنی یادوں میں بیان کیا ہے، جس میں ایک بچے کی قربانی، خاندان کی بے بسی اور پولیس اہلکاروں کی انسانیت کی ایسی داستان سامنے آتی ہے جو شاید ہی کوئی بھول سکے۔ صرف 100 روپے کے لیے معصوم زندگی ختم! برسوں قبل لاہور کے علاقے کاہنہ میں ڈاکوؤں نے ایک ویران سڑک پر ناکہ لگا رکھا تھا۔ وہ راہگیروں کو لوٹتے اور ان کے ہاتھ باندھ کر قریب ہی بٹھا دیتے تھے۔ اسی دوران ایک 12 سالہ بچہ، جو کسی دکان یا ورکشاپ پر کام کرتا تھا، ڈاکوؤں کے ہتھے چڑھ گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق جب ڈاکوؤں نے بچے سے 100 روپے چھیننے کی کوشش کی تو اس نے انکار کرتے ہوئے کہا: میں یہ 100 روپے نہیں دوں گا، میں نے گھر آٹا لے کر جانا ہے!“ یہ الفاظ اس معصوم بچے کی مجبوری اور اپنے خاندان کے لیے اس کی ذمہ داری کا احساس بیان کرتے ہیں۔ لیکن افسوس! مزاحمت پر ڈاکوؤں نے بچے کے سر میں گولی مار دی۔ وہ معصوم موقع پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور 100 روپے کا نوٹ اس کی مٹھی میں ہی رہ گیا۔ بچے کی لاش دیکھ کر پولیس افسر بھی رو پڑے سابق پولیس افسر رانا حسیب کے مطابق جب انہیں واقعے کی اطلاع ملی تو وہ خود جائے وقوعہ پر پہنچے۔ بچے کی لاش دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی میں بہت کم مواقع پر روئے تھے، لیکن اس بچے کی کہانی اور عینی شاہدین کے بیان نے انہیں اندر تک ہلا دیا۔ اس بچے کا والد بیمار تھا، چھوٹا بھائی اس پر انحصار کرتا تھا اور وہ خود گھر کے لیے آٹا لے کر جانے کی فکر میں تھا۔ ماں کئی دن بے ہوش، باپ غم سے آواز کھو بیٹھا اس سانحے کے بعد بچے کے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ رانا حسیب کے بیان کے مطابق بچے کی ماں کئی دن تک بے ہوش رہی، جبکہ اس کا والد شدتِ غم سے اپنی آواز کھو بیٹھا اور کئی ماہ بعد بولنے کے قابل ہوا۔ ایک طرف گھر کا کفیل دنیا سے چلا گیا، دوسری طرف والدین کے لیے اس صدمے کو برداشت کرنا انتہائی مشکل ہو گیا۔ پولیس نے صرف مقدمہ نہیں، خاندان کی ذمہ داری بھی اٹھائی اس واقعے کا ایک انتہائی قابلِ قدر پہلو یہ بھی ہے کہ پولیس اہلکاروں نے بچے کے خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا۔ رانا حسیب کے مطابق واقعے میں ملوث ڈاکو چند ہفتوں بعد سی آئی اے کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور اپنے انجام تک پہنچے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مقامی تھانے اور سی آئی اے کے اہلکاروں نے بچے کے والدین کی مدد کا فیصلہ کیا۔ کئی ماہ تک خاندان کے اخراجات تھانے سے فراہم کیے جاتے رہے۔ کانسٹیبل سے لے کر بڑے افسران تک سب اس نیکی میں شریک تھے، حتیٰ کہ عمر ورک سمیت دیگر اہلکاروں نے بھی اس خاندان کی مدد میں حصہ لیا۔ یہ صرف پولیس کی کارروائی نہیں بلکہ انسانیت، ہمدردی اور ایک بے سہارا خاندان کے لیے اجتماعی احساسِ ذمہ داری کی مثال تھی۔ ایک 100 روپے کا نوٹ، ایک معصوم بچہ اور ایک ایسا درد جو برسوں بعد بھی زندہ ہے! یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات چند لمحوں کی سفاکی پورے خاندان کی زندگی بدل دیتی ہے، جبکہ انسانیت کا ایک چھوٹا سا عمل کسی ٹوٹے ہوئے خاندان کے لیے سہارا بن سکتا ہے۔ آپ کے خیال میں اس بچے کے وہ الفاظ ”میں نے گھر آٹا لے کر جانا ہے“ کیا کبھی بھلائے جا سکتے ہیں؟ #Lahore #Kahna #PakistanHistory #TrueStory

About