ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا ﴿١١﴾ وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَمْدُودًا ﴿١٢﴾ وَبَنِينَ شُهُودًا ﴿١٣﴾ وَمَهَّدْتُ لَهُ تَمْهِيدًا ﴿١٤﴾ ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ ﴿١٥﴾ كَلَّا ۖ إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا ﴿١٦﴾ سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا ﴿١٧﴾ > ترجمہ: "مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دیں جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ اور میں نے اسے وسیع مال و دولت عطا کیا۔ اور اس کے پاس ہر وقت حاضر رہنے والے بیٹے دیے۔ اور اس کے لیے (کامیابی کی) راہیں ہموار کیں۔ پھر بھی وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے مزید دوں۔ ہرگز نہیں! بے شک وہ ہماری نشانیوں کا کٹر دشمن رہا ہے۔ میں جلد ہی اسے ایک کٹھن چڑھائی (سخت عذاب) پر چڑھاؤں گا۔" > اس کی شیطانی سوچ اور سازشوں کی منظر کشی کرتے ہوئے رب کائنات نے مزید فرمایا: > إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ﴿١٨﴾ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿١٩﴾ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿٢٠﴾ ثُمَّ نَظَرَ ﴿٢١﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿٢٢﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ ﴿٢٣﴾ فَقَالَ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ ﴿٢٤﴾ إِنْ هَٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ﴿٢٥﴾ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ ﴿٢٦﴾ > ترجمہ: "اس نے غور کیا اور ایک منصوبہ بنایا۔ پس وہ ہلاک ہو، اس نے کیسی (غلط) بات سوچی! وہ پھر ہلاک ہو، اس نے کیسا منصوبہ گھڑا! پھر اس نے (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر اس نے ماتھے پر شکنیں ڈالیں اور منہ بسورا۔ پھر پیٹھ پھیر لی اور غرور کیا۔ اور کہنے لگا: یہ تو محض ایک جادو ہے جو اگلوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ تو صرف ایک انسان کا کلام ہے۔ میں اسے عنقریب سقر (دوزخ) میں جھونک دوں گا۔" (سورۃ المدثر: 18-26) > قرآن کا سحر اور تکبر کا حجاب ان آیات کے نزول کا ایک خاص واقعہ تھا۔ جب ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کلامِ الٰہی سنا، تو اس کی بے مثال فصاحت و بلاغت نے اس کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا۔ وہ اندرونِ خانہ اس کلام کی حقانیت کا قائل ہو گیا، لیکن فوراً ہی اس کا خاندانی غرور اور حسد آڑے آ گیا۔ اسے لگا کہ اگر مکہ کے لوگ اس کلام پر ایمان لے آئے تو قریش کی سرداری اس کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گی۔ چنانچہ اس نے ایک جھوٹا منصوبہ بنایا اور اسے جادو قرار دے کر خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیا۔ ولید کو یہ زعم تھا کہ اس کی دولت، عمر اور مکہ میں اس کے مرتبے کے پیشِ نظر نبوت کا تاج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اسے ملنا چاہیے تھا۔ اس نے کھلے عام یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر یہ نبوت سچی ہے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اس کے اس غرور کو قرآن نے یوں بے نقاب کیا: وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ ترجمہ: "اور وہ کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ یا طائف) کے کسی عظیم آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟" (سورۃ الزخرف: 31) (یعنی مکہ سے ولید بن مغیرہ یا طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی پر)۔ #sunnych #islamicpost #viralpost - @sunnych077"/> ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا ﴿١١﴾ وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَمْدُودًا ﴿١٢﴾ وَبَنِينَ شُهُودًا ﴿١٣﴾ وَمَهَّدْتُ لَهُ تَمْهِيدًا ﴿١٤﴾ ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ ﴿١٥﴾ كَلَّا ۖ إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا ﴿١٦﴾ سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا ﴿١٧﴾ > ترجمہ: "مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دیں جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ اور میں نے اسے وسیع مال و دولت عطا کیا۔ اور اس کے پاس ہر وقت حاضر رہنے والے بیٹے دیے۔ اور اس کے لیے (کامیابی کی) راہیں ہموار کیں۔ پھر بھی وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے مزید دوں۔ ہرگز نہیں! بے شک وہ ہماری نشانیوں کا کٹر دشمن رہا ہے۔ میں جلد ہی اسے ایک کٹھن چڑھائی (سخت عذاب) پر چڑھاؤں گا۔" > اس کی شیطانی سوچ اور سازشوں کی منظر کشی کرتے ہوئے رب کائنات نے مزید فرمایا: > إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ﴿١٨﴾ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿١٩﴾ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿٢٠﴾ ثُمَّ نَظَرَ ﴿٢١﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿٢٢﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ ﴿٢٣﴾ فَقَالَ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ ﴿٢٤﴾ إِنْ هَٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ﴿٢٥﴾ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ ﴿٢٦﴾ > ترجمہ: "اس نے غور کیا اور ایک منصوبہ بنایا۔ پس وہ ہلاک ہو، اس نے کیسی (غلط) بات سوچی! وہ پھر ہلاک ہو، اس نے کیسا منصوبہ گھڑا! پھر اس نے (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر اس نے ماتھے پر شکنیں ڈالیں اور منہ بسورا۔ پھر پیٹھ پھیر لی اور غرور کیا۔ اور کہنے لگا: یہ تو محض ایک جادو ہے جو اگلوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ تو صرف ایک انسان کا کلام ہے۔ میں اسے عنقریب سقر (دوزخ) میں جھونک دوں گا۔" (سورۃ المدثر: 18-26) > قرآن کا سحر اور تکبر کا حجاب ان آیات کے نزول کا ایک خاص واقعہ تھا۔ جب ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کلامِ الٰہی سنا، تو اس کی بے مثال فصاحت و بلاغت نے اس کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا۔ وہ اندرونِ خانہ اس کلام کی حقانیت کا قائل ہو گیا، لیکن فوراً ہی اس کا خاندانی غرور اور حسد آڑے آ گیا۔ اسے لگا کہ اگر مکہ کے لوگ اس کلام پر ایمان لے آئے تو قریش کی سرداری اس کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گی۔ چنانچہ اس نے ایک جھوٹا منصوبہ بنایا اور اسے جادو قرار دے کر خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیا۔ ولید کو یہ زعم تھا کہ اس کی دولت، عمر اور مکہ میں اس کے مرتبے کے پیشِ نظر نبوت کا تاج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اسے ملنا چاہیے تھا۔ اس نے کھلے عام یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر یہ نبوت سچی ہے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اس کے اس غرور کو قرآن نے یوں بے نقاب کیا: وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ ترجمہ: "اور وہ کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ یا طائف) کے کسی عظیم آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟" (سورۃ الزخرف: 31) (یعنی مکہ سے ولید بن مغیرہ یا طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی پر)۔ #sunnych #islamicpost #viralpost - @sunnych077 - Tikwm"/> ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا ﴿١١﴾ وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَمْدُودًا ﴿١٢﴾ وَبَنِينَ شُهُودًا ﴿١٣﴾ وَمَهَّدْتُ لَهُ تَمْهِيدًا ﴿١٤﴾ ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ ﴿١٥﴾ كَلَّا ۖ إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا ﴿١٦﴾ سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا ﴿١٧﴾ > ترجمہ: "مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دیں جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ اور میں نے اسے وسیع مال و دولت عطا کیا۔ اور اس کے پاس ہر وقت حاضر رہنے والے بیٹے دیے۔ اور اس کے لیے (کامیابی کی) راہیں ہموار کیں۔ پھر بھی وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے مزید دوں۔ ہرگز نہیں! بے شک وہ ہماری نشانیوں کا کٹر دشمن رہا ہے۔ میں جلد ہی اسے ایک کٹھن چڑھائی (سخت عذاب) پر چڑھاؤں گا۔" > اس کی شیطانی سوچ اور سازشوں کی منظر کشی کرتے ہوئے رب کائنات نے مزید فرمایا: > إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ﴿١٨﴾ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿١٩﴾ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿٢٠﴾ ثُمَّ نَظَرَ ﴿٢١﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿٢٢﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ ﴿٢٣﴾ فَقَالَ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ ﴿٢٤﴾ إِنْ هَٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ﴿٢٥﴾ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ ﴿٢٦﴾ > ترجمہ: "اس نے غور کیا اور ایک منصوبہ بنایا۔ پس وہ ہلاک ہو، اس نے کیسی (غلط) بات سوچی! وہ پھر ہلاک ہو، اس نے کیسا منصوبہ گھڑا! پھر اس نے (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر اس نے ماتھے پر شکنیں ڈالیں اور منہ بسورا۔ پھر پیٹھ پھیر لی اور غرور کیا۔ اور کہنے لگا: یہ تو محض ایک جادو ہے جو اگلوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ تو صرف ایک انسان کا کلام ہے۔ میں اسے عنقریب سقر (دوزخ) میں جھونک دوں گا۔" (سورۃ المدثر: 18-26) > قرآن کا سحر اور تکبر کا حجاب ان آیات کے نزول کا ایک خاص واقعہ تھا۔ جب ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کلامِ الٰہی سنا، تو اس کی بے مثال فصاحت و بلاغت نے اس کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا۔ وہ اندرونِ خانہ اس کلام کی حقانیت کا قائل ہو گیا، لیکن فوراً ہی اس کا خاندانی غرور اور حسد آڑے آ گیا۔ اسے لگا کہ اگر مکہ کے لوگ اس کلام پر ایمان لے آئے تو قریش کی سرداری اس کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گی۔ چنانچہ اس نے ایک جھوٹا منصوبہ بنایا اور اسے جادو قرار دے کر خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیا۔ ولید کو یہ زعم تھا کہ اس کی دولت، عمر اور مکہ میں اس کے مرتبے کے پیشِ نظر نبوت کا تاج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اسے ملنا چاہیے تھا۔ اس نے کھلے عام یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر یہ نبوت سچی ہے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اس کے اس غرور کو قرآن نے یوں بے نقاب کیا: وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ ترجمہ: "اور وہ کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ یا طائف) کے کسی عظیم آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟" (سورۃ الزخرف: 31) (یعنی مکہ سے ولید بن مغیرہ یا طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی پر)۔ #sunnych #islamicpost #viralpost - @sunnych077"/>

@sunnych077: تاریخِ انسانی کا عجیب ترین تضاد: باپ کفر کا سب سے بڑا علمبردار، بیٹا اسلام کی ننگی تلوار! تاریخِ مکہ کے اوراق پلٹیں تو زمانہ جاہلیت کا ایک انتہائی بااثر اور متکبر کردار ابھر کر سامنے آتا ہے جسے دنیا ولید بن مغیرہ المخزومی کے نام سے پہچانتی ہے۔ یہ وہ شخص تھا جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کئی برس قبل اس دنیا میں قدم رکھا۔ اس کی بے پناہ دولت اور خاندانی وجاہت کا یہ عالم تھا کہ قریشِ مکہ نے اسے "العدل" کا لقب دے رکھا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک سال مکہ کے تمام قبائل مل کر خانہ کعبہ کا غلاف تیار کرتے، اور اگلے سال تنہا ولید بن مغیرہ اپنے ذاتی خرچ پر کعبے کو غلاف پہناتا تھا۔ ابو عبد شمس کی کنیت سے مشہور اس سردار کو اللہ نے شاندار نرینہ اولاد سے نوازا تھا، جن میں تاریخِ اسلام کے مایہ ناز سپہ سالار حضرت خالد بن ولید (سیف اللہ المسلول) اور ان کے بھائی ہشام اور عمارہ نمایاں تھے۔ طائف کے سرسبز پہاڑوں میں اس کا ایک ایسا شاندار باغ تھا جو سردی اور گرمی، ہر موسم میں پھلوں سے لدا رہتا تھا۔ جاہلی معاشرے میں ولید کو قریش کا 'مفکر' اور 'دماغ' سمجھا جاتا تھا اور مکہ کے پیچیدہ ترین سیاسی و سماجی مسائل اسی کے دروازے پر حل ہوتے تھے۔ دعوتِ حق سے ٹکراؤ اور قرآنی وعید جب فاران کی چوٹیوں سے صدائے حق بلند ہوئی اور مکہ کی فضا نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نورِ ہدایت سے منور ہوئی، تو ولید کی روایتی سرداری اور تکبر کو خطرہ محسوس ہوا۔ وہ حق کی مخالفت میں صفِ اول میں آ کھڑا ہوا۔ اس کی اسی سرکشی اور کج فہمی پر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم میں ایسی آیات نازل فرمائیں جو قیامت تک اس کے انجام کی گواہی دیتی رہیں گی۔ سورۃ المدثر (11-17) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: > ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا ﴿١١﴾ وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَمْدُودًا ﴿١٢﴾ وَبَنِينَ شُهُودًا ﴿١٣﴾ وَمَهَّدْتُ لَهُ تَمْهِيدًا ﴿١٤﴾ ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ ﴿١٥﴾ كَلَّا ۖ إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا ﴿١٦﴾ سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا ﴿١٧﴾ > ترجمہ: "مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دیں جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ اور میں نے اسے وسیع مال و دولت عطا کیا۔ اور اس کے پاس ہر وقت حاضر رہنے والے بیٹے دیے۔ اور اس کے لیے (کامیابی کی) راہیں ہموار کیں۔ پھر بھی وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے مزید دوں۔ ہرگز نہیں! بے شک وہ ہماری نشانیوں کا کٹر دشمن رہا ہے۔ میں جلد ہی اسے ایک کٹھن چڑھائی (سخت عذاب) پر چڑھاؤں گا۔" > اس کی شیطانی سوچ اور سازشوں کی منظر کشی کرتے ہوئے رب کائنات نے مزید فرمایا: > إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ﴿١٨﴾ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿١٩﴾ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿٢٠﴾ ثُمَّ نَظَرَ ﴿٢١﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿٢٢﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ ﴿٢٣﴾ فَقَالَ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ ﴿٢٤﴾ إِنْ هَٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ﴿٢٥﴾ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ ﴿٢٦﴾ > ترجمہ: "اس نے غور کیا اور ایک منصوبہ بنایا۔ پس وہ ہلاک ہو، اس نے کیسی (غلط) بات سوچی! وہ پھر ہلاک ہو، اس نے کیسا منصوبہ گھڑا! پھر اس نے (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر اس نے ماتھے پر شکنیں ڈالیں اور منہ بسورا۔ پھر پیٹھ پھیر لی اور غرور کیا۔ اور کہنے لگا: یہ تو محض ایک جادو ہے جو اگلوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ تو صرف ایک انسان کا کلام ہے۔ میں اسے عنقریب سقر (دوزخ) میں جھونک دوں گا۔" (سورۃ المدثر: 18-26) > قرآن کا سحر اور تکبر کا حجاب ان آیات کے نزول کا ایک خاص واقعہ تھا۔ جب ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کلامِ الٰہی سنا، تو اس کی بے مثال فصاحت و بلاغت نے اس کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا۔ وہ اندرونِ خانہ اس کلام کی حقانیت کا قائل ہو گیا، لیکن فوراً ہی اس کا خاندانی غرور اور حسد آڑے آ گیا۔ اسے لگا کہ اگر مکہ کے لوگ اس کلام پر ایمان لے آئے تو قریش کی سرداری اس کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گی۔ چنانچہ اس نے ایک جھوٹا منصوبہ بنایا اور اسے جادو قرار دے کر خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیا۔ ولید کو یہ زعم تھا کہ اس کی دولت، عمر اور مکہ میں اس کے مرتبے کے پیشِ نظر نبوت کا تاج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اسے ملنا چاہیے تھا۔ اس نے کھلے عام یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر یہ نبوت سچی ہے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اس کے اس غرور کو قرآن نے یوں بے نقاب کیا: وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ ترجمہ: "اور وہ کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ یا طائف) کے کسی عظیم آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟" (سورۃ الزخرف: 31) (یعنی مکہ سے ولید بن مغیرہ یا طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی پر)۔ #sunnych #islamicpost #viralpost

sunny ch
sunny ch
Open In TikTok:
Region: PK
Friday 06 November 2026 12:41:33 GMT
11236
556
15
14

Music

Download

Comments

adnankhaliq210
adnankhaliq210 :
بے شک ظالم اپنے انجام کو پہنچتا ہے ۔
2026-11-06 16:23:39
1
hanif24458
Hanif awan :
اللّٰہ اکبر
2026-11-07 09:49:33
0
mkhizar033
M khizar :
Allah Allah Allah
2026-11-06 13:17:24
1
princemunawar12
prince Munawar 08 :
Khalid ibnal Waleed (R.A)♥️
2026-11-07 13:13:52
0
sahidrain5678
Anam 5678 :
🥰🥰🥰
2026-11-06 13:42:05
1
hakeem_khan18
Hakeem Khan :
💞💞💞
2026-11-07 18:35:41
0
mkhizar033
M khizar :
💯💯💯
2026-11-06 13:17:00
0
mumtaz.ali.osman0
Mumtaz ali Osman01 :
💯💯💯
2026-11-07 13:06:41
0
m.adnan26shabir.a
M.adnan26 Shabir.ahm :
[Red heart][Red heart][Red heart]
2026-11-07 03:44:23
0
mkhizar033
M khizar :
🥰🥰🥰
2026-11-06 13:17:02
0
hafizismael.gill
Hafiz Ismail rizve :
🥰🥰🥰
2026-11-07 01:51:09
0
arshadbosan0
︻╦̵̵͇̿̿̿̿╤─ᴀʀꜱʜᴀᴅ ʙᴏꜱᴀɴ🌛 :
❤️❤️❤️
2026-11-07 13:37:00
0
mkhizar033
M khizar :
💞💞💞
2026-11-06 13:16:58
0
mkhizar033
M khizar :
🥰🥰🥰
2026-11-06 13:16:56
0
gullam.abass76
gullam abass :
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ
2026-11-07 17:03:17
0
To see more videos from user @sunnych077, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About