ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا ﴿١١﴾ وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَمْدُودًا ﴿١٢﴾ وَبَنِينَ شُهُودًا ﴿١٣﴾ وَمَهَّدْتُ لَهُ تَمْهِيدًا ﴿١٤﴾ ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ ﴿١٥﴾ كَلَّا ۖ إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا ﴿١٦﴾ سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا ﴿١٧﴾ > ترجمہ: "مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دیں جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ اور میں نے اسے وسیع مال و دولت عطا کیا۔ اور اس کے پاس ہر وقت حاضر رہنے والے بیٹے دیے۔ اور اس کے لیے (کامیابی کی) راہیں ہموار کیں۔ پھر بھی وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے مزید دوں۔ ہرگز نہیں! بے شک وہ ہماری نشانیوں کا کٹر دشمن رہا ہے۔ میں جلد ہی اسے ایک کٹھن چڑھائی (سخت عذاب) پر چڑھاؤں گا۔" > اس کی شیطانی سوچ اور سازشوں کی منظر کشی کرتے ہوئے رب کائنات نے مزید فرمایا: > إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ﴿١٨﴾ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿١٩﴾ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿٢٠﴾ ثُمَّ نَظَرَ ﴿٢١﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿٢٢﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ ﴿٢٣﴾ فَقَالَ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ ﴿٢٤﴾ إِنْ هَٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ﴿٢٥﴾ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ ﴿٢٦﴾ > ترجمہ: "اس نے غور کیا اور ایک منصوبہ بنایا۔ پس وہ ہلاک ہو، اس نے کیسی (غلط) بات سوچی! وہ پھر ہلاک ہو، اس نے کیسا منصوبہ گھڑا! پھر اس نے (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر اس نے ماتھے پر شکنیں ڈالیں اور منہ بسورا۔ پھر پیٹھ پھیر لی اور غرور کیا۔ اور کہنے لگا: یہ تو محض ایک جادو ہے جو اگلوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ تو صرف ایک انسان کا کلام ہے۔ میں اسے عنقریب سقر (دوزخ) میں جھونک دوں گا۔" (سورۃ المدثر: 18-26) > قرآن کا سحر اور تکبر کا حجاب ان آیات کے نزول کا ایک خاص واقعہ تھا۔ جب ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کلامِ الٰہی سنا، تو اس کی بے مثال فصاحت و بلاغت نے اس کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا۔ وہ اندرونِ خانہ اس کلام کی حقانیت کا قائل ہو گیا، لیکن فوراً ہی اس کا خاندانی غرور اور حسد آڑے آ گیا۔ اسے لگا کہ اگر مکہ کے لوگ اس کلام پر ایمان لے آئے تو قریش کی سرداری اس کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گی۔ چنانچہ اس نے ایک جھوٹا منصوبہ بنایا اور اسے جادو قرار دے کر خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیا۔ ولید کو یہ زعم تھا کہ اس کی دولت، عمر اور مکہ میں اس کے مرتبے کے پیشِ نظر نبوت کا تاج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اسے ملنا چاہیے تھا۔ اس نے کھلے عام یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر یہ نبوت سچی ہے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اس کے اس غرور کو قرآن نے یوں بے نقاب کیا: وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ ترجمہ: "اور وہ کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ یا طائف) کے کسی عظیم آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟" (سورۃ الزخرف: 31) (یعنی مکہ سے ولید بن مغیرہ یا طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی پر)۔ #sunnych #islamicpost #viralpost - @sunnych077"/> ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا ﴿١١﴾ وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَمْدُودًا ﴿١٢﴾ وَبَنِينَ شُهُودًا ﴿١٣﴾ وَمَهَّدْتُ لَهُ تَمْهِيدًا ﴿١٤﴾ ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ ﴿١٥﴾ كَلَّا ۖ إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا ﴿١٦﴾ سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا ﴿١٧﴾ > ترجمہ: "مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دیں جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ اور میں نے اسے وسیع مال و دولت عطا کیا۔ اور اس کے پاس ہر وقت حاضر رہنے والے بیٹے دیے۔ اور اس کے لیے (کامیابی کی) راہیں ہموار کیں۔ پھر بھی وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے مزید دوں۔ ہرگز نہیں! بے شک وہ ہماری نشانیوں کا کٹر دشمن رہا ہے۔ میں جلد ہی اسے ایک کٹھن چڑھائی (سخت عذاب) پر چڑھاؤں گا۔" > اس کی شیطانی سوچ اور سازشوں کی منظر کشی کرتے ہوئے رب کائنات نے مزید فرمایا: > إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ﴿١٨﴾ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿١٩﴾ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿٢٠﴾ ثُمَّ نَظَرَ ﴿٢١﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿٢٢﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ ﴿٢٣﴾ فَقَالَ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ ﴿٢٤﴾ إِنْ هَٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ﴿٢٥﴾ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ ﴿٢٦﴾ > ترجمہ: "اس نے غور کیا اور ایک منصوبہ بنایا۔ پس وہ ہلاک ہو، اس نے کیسی (غلط) بات سوچی! وہ پھر ہلاک ہو، اس نے کیسا منصوبہ گھڑا! پھر اس نے (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر اس نے ماتھے پر شکنیں ڈالیں اور منہ بسورا۔ پھر پیٹھ پھیر لی اور غرور کیا۔ اور کہنے لگا: یہ تو محض ایک جادو ہے جو اگلوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ تو صرف ایک انسان کا کلام ہے۔ میں اسے عنقریب سقر (دوزخ) میں جھونک دوں گا۔" (سورۃ المدثر: 18-26) > قرآن کا سحر اور تکبر کا حجاب ان آیات کے نزول کا ایک خاص واقعہ تھا۔ جب ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کلامِ الٰہی سنا، تو اس کی بے مثال فصاحت و بلاغت نے اس کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا۔ وہ اندرونِ خانہ اس کلام کی حقانیت کا قائل ہو گیا، لیکن فوراً ہی اس کا خاندانی غرور اور حسد آڑے آ گیا۔ اسے لگا کہ اگر مکہ کے لوگ اس کلام پر ایمان لے آئے تو قریش کی سرداری اس کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گی۔ چنانچہ اس نے ایک جھوٹا منصوبہ بنایا اور اسے جادو قرار دے کر خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیا۔ ولید کو یہ زعم تھا کہ اس کی دولت، عمر اور مکہ میں اس کے مرتبے کے پیشِ نظر نبوت کا تاج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اسے ملنا چاہیے تھا۔ اس نے کھلے عام یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر یہ نبوت سچی ہے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اس کے اس غرور کو قرآن نے یوں بے نقاب کیا: وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ ترجمہ: "اور وہ کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ یا طائف) کے کسی عظیم آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟" (سورۃ الزخرف: 31) (یعنی مکہ سے ولید بن مغیرہ یا طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی پر)۔ #sunnych #islamicpost #viralpost - @sunnych077 - Tikwm"/> ذَرْنِي وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيدًا ﴿١١﴾ وَجَعَلْتُ لَهُ مَالًا مَمْدُودًا ﴿١٢﴾ وَبَنِينَ شُهُودًا ﴿١٣﴾ وَمَهَّدْتُ لَهُ تَمْهِيدًا ﴿١٤﴾ ثُمَّ يَطْمَعُ أَنْ أَزِيدَ ﴿١٥﴾ كَلَّا ۖ إِنَّهُ كَانَ لِآيَاتِنَا عَنِيدًا ﴿١٦﴾ سَأُرْهِقُهُ صَعُودًا ﴿١٧﴾ > ترجمہ: "مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دیں جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔ اور میں نے اسے وسیع مال و دولت عطا کیا۔ اور اس کے پاس ہر وقت حاضر رہنے والے بیٹے دیے۔ اور اس کے لیے (کامیابی کی) راہیں ہموار کیں۔ پھر بھی وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے مزید دوں۔ ہرگز نہیں! بے شک وہ ہماری نشانیوں کا کٹر دشمن رہا ہے۔ میں جلد ہی اسے ایک کٹھن چڑھائی (سخت عذاب) پر چڑھاؤں گا۔" > اس کی شیطانی سوچ اور سازشوں کی منظر کشی کرتے ہوئے رب کائنات نے مزید فرمایا: > إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ﴿١٨﴾ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿١٩﴾ ثُمَّ قُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ ﴿٢٠﴾ ثُمَّ نَظَرَ ﴿٢١﴾ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ﴿٢٢﴾ ثُمَّ أَدْبَرَ وَاسْتَكْبَرَ ﴿٢٣﴾ فَقَالَ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ ﴿٢٤﴾ إِنْ هَٰذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ ﴿٢٥﴾ سَأُصْلِيهِ سَقَرَ ﴿٢٦﴾ > ترجمہ: "اس نے غور کیا اور ایک منصوبہ بنایا۔ پس وہ ہلاک ہو، اس نے کیسی (غلط) بات سوچی! وہ پھر ہلاک ہو، اس نے کیسا منصوبہ گھڑا! پھر اس نے (لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر اس نے ماتھے پر شکنیں ڈالیں اور منہ بسورا۔ پھر پیٹھ پھیر لی اور غرور کیا۔ اور کہنے لگا: یہ تو محض ایک جادو ہے جو اگلوں سے چلا آ رہا ہے۔ یہ تو صرف ایک انسان کا کلام ہے۔ میں اسے عنقریب سقر (دوزخ) میں جھونک دوں گا۔" (سورۃ المدثر: 18-26) > قرآن کا سحر اور تکبر کا حجاب ان آیات کے نزول کا ایک خاص واقعہ تھا۔ جب ولید بن مغیرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کلامِ الٰہی سنا، تو اس کی بے مثال فصاحت و بلاغت نے اس کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا۔ وہ اندرونِ خانہ اس کلام کی حقانیت کا قائل ہو گیا، لیکن فوراً ہی اس کا خاندانی غرور اور حسد آڑے آ گیا۔ اسے لگا کہ اگر مکہ کے لوگ اس کلام پر ایمان لے آئے تو قریش کی سرداری اس کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل جائے گی۔ چنانچہ اس نے ایک جھوٹا منصوبہ بنایا اور اسے جادو قرار دے کر خود کو ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیا۔ ولید کو یہ زعم تھا کہ اس کی دولت، عمر اور مکہ میں اس کے مرتبے کے پیشِ نظر نبوت کا تاج محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے اسے ملنا چاہیے تھا۔ اس نے کھلے عام یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر یہ نبوت سچی ہے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اس کے اس غرور کو قرآن نے یوں بے نقاب کیا: وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ ترجمہ: "اور وہ کہنے لگے کہ یہ قرآن ان دو بستیوں (مکہ یا طائف) کے کسی عظیم آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟" (سورۃ الزخرف: 31) (یعنی مکہ سے ولید بن مغیرہ یا طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی پر)۔ #sunnych #islamicpost #viralpost - @sunnych077"/>