@neftalem10m: 😍😍😍

አርባ ዘጠኝ
አርባ ዘጠኝ
Open In TikTok:
Region: ET
Friday 06 November 2026 13:05:29 GMT
367
35
1
2

Music

Download

Comments

direbwork2
D2 :
good
2026-11-06 13:07:10
0
To see more videos from user @neftalem10m, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ہم سب نے اصحابِ کہف کا نام تو بہت بار سنا ہوگا۔ تھوڑا بہت ان کے بارے میں معلوم بھی ہوگا، اور قرآن مجید میں ان کے واقعے پر ایک پوری سورت بھی موجود ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ نوجوان ایک غار میں کیوں چھپے تھے؟ وہ وہاں کتنے سال سوئے رہے؟ اور جب بیدار ہوئے تو ان کے ساتھ کیا ہوا؟ چلیے آج سورۃ الکہف کی روشنی میں یہ حیران کن واقعہ تفصیل سے سمجھتے ہیں۔ سورۃ الکہف کی آیات 9 سے 26 میں اللہ تعالیٰ چند ایسے نوجوانوں کا ذکر فرماتا ہے جو ایک ایسے معاشرے میں رہتے تھے جہاں لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے تھے۔ ان نوجوانوں نے اپنے ایمان پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ قرآن بتاتا ہے کہ وہ اپنے رب پر ایمان لائے اور اللہ نے انہیں مزید ہدایت عطا فرمائی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی کو نہیں پکاریں گے۔ جب انہیں اپنے دین پر قائم رہنے کے لیے لوگوں سے الگ ہونا پڑا تو انہوں نے ایک غار میں پناہ لی اور دعا کی: اے ہمارے رب! ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما اور ہمارے معاملے میں ہمارے لیے بھلائی کا راستہ پیدا کر۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی گہری نیند سلا دیا جو کئی نسلوں تک جاری رہی۔ قرآن بیان کرتا ہے کہ سورج نکلتے اور ڈھلتے وقت غار کے ایک طرف سے گزرتا تھا، اور وہ غار کی کشادہ جگہ میں تھے۔ اللہ انہیں دائیں اور بائیں کروٹ دلواتا رہا۔ ان کا کتا بھی غار کے دہانے پر اپنے اگلے پاؤں پھیلائے بیٹھا تھا۔ یہ منظر ایسا تھا کہ کوئی انہیں دیکھتا تو خوف زدہ ہو کر بھاگ جاتا۔ پھر ایک دن اللہ نے انہیں جگا دیا۔ وہ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: ہم کتنی دیر یہاں رہے؟ کسی نے کہا ایک دن، یا دن کا کچھ حصہ۔ آخر انہوں نے کہا کہ ہمارا رب ہی بہتر جانتا ہے۔ انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ دنیا میں کتنی بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو چاندی کے سکے دے کر شہر بھیجا تاکہ وہ پاکیزہ کھانا لے آئے، اور تاکید کی کہ احتیاط سے جانا، کسی کو ہمارے بارے میں معلوم نہ ہونے دینا۔ انہیں اب بھی ڈر تھا کہ لوگ انہیں ان کے دین سے پھیر دیں گے۔ لیکن اللہ نے ان کا معاملہ لوگوں پر ظاہر کر دیا، تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ لوگوں نے ان نوجوانوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف کیا۔ کسی نے تین کہا، کسی نے پانچ اور کسی نے سات۔ اللہ نے فرمایا کہ میرا رب ان کی تعداد بہتر جانتا ہے۔ اس لیے ان کے ناموں، شہر اور صحیح تعداد کے بارے میں بے دلیل دعوے کرنے کے بجائے ہمیں قرآن کے اصل پیغام پر توجہ دینی چاہیے۔ سورۃ الکہف کی آیت 25 کے مطابق وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور نو سال مزید۔ اس کے فوراً بعد اللہ فرماتا ہے کہ وہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت رہے۔ اس واقعے کا سب سے بڑا سبق صرف اتنی طویل نیند نہیں، بلکہ ان نوجوانوں کا ایمان ہے۔ انہوں نے اکثریت کے دباؤ کے سامنے حق کو نہیں چھوڑا، اللہ سے مدد مانگی، اور اللہ نے انہیں اپنی قدرت کی نشانی بنا دیا۔ آج سوال یہ ہے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے کتنی ثابت قدمی دکھاتے ہیں؟ #viral #taybiivibes #islamic #DeenUrduStories #foryoupage
ہم سب نے اصحابِ کہف کا نام تو بہت بار سنا ہوگا۔ تھوڑا بہت ان کے بارے میں معلوم بھی ہوگا، اور قرآن مجید میں ان کے واقعے پر ایک پوری سورت بھی موجود ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ نوجوان ایک غار میں کیوں چھپے تھے؟ وہ وہاں کتنے سال سوئے رہے؟ اور جب بیدار ہوئے تو ان کے ساتھ کیا ہوا؟ چلیے آج سورۃ الکہف کی روشنی میں یہ حیران کن واقعہ تفصیل سے سمجھتے ہیں۔ سورۃ الکہف کی آیات 9 سے 26 میں اللہ تعالیٰ چند ایسے نوجوانوں کا ذکر فرماتا ہے جو ایک ایسے معاشرے میں رہتے تھے جہاں لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بناتے تھے۔ ان نوجوانوں نے اپنے ایمان پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ قرآن بتاتا ہے کہ وہ اپنے رب پر ایمان لائے اور اللہ نے انہیں مزید ہدایت عطا فرمائی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی کو نہیں پکاریں گے۔ جب انہیں اپنے دین پر قائم رہنے کے لیے لوگوں سے الگ ہونا پڑا تو انہوں نے ایک غار میں پناہ لی اور دعا کی: اے ہمارے رب! ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرما اور ہمارے معاملے میں ہمارے لیے بھلائی کا راستہ پیدا کر۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی گہری نیند سلا دیا جو کئی نسلوں تک جاری رہی۔ قرآن بیان کرتا ہے کہ سورج نکلتے اور ڈھلتے وقت غار کے ایک طرف سے گزرتا تھا، اور وہ غار کی کشادہ جگہ میں تھے۔ اللہ انہیں دائیں اور بائیں کروٹ دلواتا رہا۔ ان کا کتا بھی غار کے دہانے پر اپنے اگلے پاؤں پھیلائے بیٹھا تھا۔ یہ منظر ایسا تھا کہ کوئی انہیں دیکھتا تو خوف زدہ ہو کر بھاگ جاتا۔ پھر ایک دن اللہ نے انہیں جگا دیا۔ وہ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے: ہم کتنی دیر یہاں رہے؟ کسی نے کہا ایک دن، یا دن کا کچھ حصہ۔ آخر انہوں نے کہا کہ ہمارا رب ہی بہتر جانتا ہے۔ انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ دنیا میں کتنی بڑی تبدیلی آ چکی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو چاندی کے سکے دے کر شہر بھیجا تاکہ وہ پاکیزہ کھانا لے آئے، اور تاکید کی کہ احتیاط سے جانا، کسی کو ہمارے بارے میں معلوم نہ ہونے دینا۔ انہیں اب بھی ڈر تھا کہ لوگ انہیں ان کے دین سے پھیر دیں گے۔ لیکن اللہ نے ان کا معاملہ لوگوں پر ظاہر کر دیا، تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ قرآن یہ بھی بتاتا ہے کہ لوگوں نے ان نوجوانوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف کیا۔ کسی نے تین کہا، کسی نے پانچ اور کسی نے سات۔ اللہ نے فرمایا کہ میرا رب ان کی تعداد بہتر جانتا ہے۔ اس لیے ان کے ناموں، شہر اور صحیح تعداد کے بارے میں بے دلیل دعوے کرنے کے بجائے ہمیں قرآن کے اصل پیغام پر توجہ دینی چاہیے۔ سورۃ الکہف کی آیت 25 کے مطابق وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور نو سال مزید۔ اس کے فوراً بعد اللہ فرماتا ہے کہ وہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنی مدت رہے۔ اس واقعے کا سب سے بڑا سبق صرف اتنی طویل نیند نہیں، بلکہ ان نوجوانوں کا ایمان ہے۔ انہوں نے اکثریت کے دباؤ کے سامنے حق کو نہیں چھوڑا، اللہ سے مدد مانگی، اور اللہ نے انہیں اپنی قدرت کی نشانی بنا دیا۔ آج سوال یہ ہے کہ ہم اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے کتنی ثابت قدمی دکھاتے ہیں؟ #viral #taybiivibes #islamic #DeenUrduStories #foryoupage

About