@jwandparast.01: مجھے اپنی اس تہذیب و ثقافت سے کوئی لگاؤ نہیں۔ مجھے چِڑ ہے ہر اُس نوجوان لڑکے سے، جو اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ صرف دکھاوے کے لیے اپنی شادی پہ اڑاتا ہے۔ مجھے چِڑ ہے ہر اُس باپ سے، جس کے گھر بیٹی پیدا ہو جائے تو وہ اُس وقت سے ہی جہیز اور رشتے کے لیے فکر مند ہو جاتا ہے۔ مجھے سخت چِڑ ہے گاؤں کی اُس بڑھیا سے، جو بیٹوں کو پڑھا لکھا کر شادیاں کرواتی ہے، پھر انہیں شہر رہنے کو بھیج دیتی ہے اور خود گاؤں میں پڑی اُن کے راہ تکتی ہے۔ مجھے سخت چِڑ ہے ہر اُس مزدور سے، جو اپنی ایک دہاڑی چھوڑ کر کسی منسٹر کو ووٹ دینے کے لیے گھنٹوں لمبی لائن میں کھڑا ہوتا ہے۔ مجھے چِڑ ہے ہر اُس امیر شخص سے، جو پڑوس میں کسی بیوہ کو نظر انداز کرکے ایک بڑی رقم مسجد کی تعمیر کے لیے دے دیتا ہے مجھے چِڑ ہے ہر اُس رشتہ دار سے، جو غمی میں تماشا دیکھنے آتا ہے اور خوشی میں حساب لینے۔ مجھے چِڑ ہے ہر اُس ماں سے، جو بیٹی کو تو صبر کا درس دیتی ہے مگر بیٹے کی ہر غلطی پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ مجھے چِڑ ہے ہر اُس پڑوسی سے، جو کسی کی بیٹی کے کپڑوں پر نظر رکھتا ہے مگر اپنے بیٹے کے کرتوتوں پر اندھا بن جاتا ہے۔ مجھے چِڑ ہے ہر اُس جرگے اور پنچایت سے، جو بیٹی کو سزا بنا کر دیتا ہے اور بیٹے کو معافی۔ مجھے چِڑ ہے اس پورے معاشرے سے، جہاں عزت صرف عورت کے دوپٹے میں رکھی جاتی ہے، مرد کے کردار میں نہیں۔ مجھے چِڑ ہے ہر اُس دوست سے، جو مشکل وقت میں غائب ہو جاتا ہے اور کامیابی پر سب سے پہلے گلے ملنے آ جاتا ہے۔ مجھے چِڑ ہے ہر اُس شخص سے، جو کسی کی موت پر تو روتا ہے مگر جیتے جی اس کا حال تک نہیں پوچھتا۔ مجھے چِڑ ہے اس رسم سے، جہاں مرنے والے کے لیے دیگیں پکتی ہیں مگر جیتے جی اسے ایک وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی۔ مجھے چِڑ ہے ہر اُس شخص سے، جو حق پر خاموش رہتا ہے اور ظلم پر تالیاں بجاتا ہے۔ اور سب سے زیادہ چِڑ مجھے خود سے ہے، کہ یہ سب دیکھ کر بھی میں اسی معاشرے میں خاموشی سے جی رہا ہوں#agree?? #aestheticpukhtoon #jwandparast #growmyaccounttiktokteam #agree