Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@lexinoelv: TRADER JOES HAUL YALL 1 Corinthians 10:31 ‘whether You eat or drink or whatever you do, do it all for the glory of God’
lexinoelv
Open In TikTok:
Region: US
Friday 06 November 2026 14:32:43 GMT
191
14
0
0
Music
Download
No Watermark .mp4 (
11.33MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
13.41MB
)
Watermark .mp4 (
10.48MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @lexinoelv, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
Sale vòng lắc eo giá tốt ! #vonglacbung #vonglaceoloxo #vonglaceo #vonglaceothongminh #vonglaceovonglacbung
HOCO TIME let's go royals 💙 #danceteam #hoco #fnl
اسف 🙂 هههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههههه
#respect #habits #people #psychology_101
😔❣️😇😇😔😔❣️😔😔😔🤲😔🤲😨❣️😔😔❣️😔❣️😳🤲😳🤲😳😳😳😳😳🤲😔🤲😔❣️
گورنمنٹ انٹر کالج وشبود کی جانب سے شاعر مشرق اور مفکر اسلام ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ڈے کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں کالج کے بچوں اور بچیوں نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شاعری اور اُن کی سوچ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اقبال کی شاعری کے مختلف حصوں پر تفصیلی بات چیت کی.اقبال ڈے کی مناسبت سے ملی نغمے پیش کئے گئے.تقریب کے مہمان خاص کمانڈنٹ ایف سی ہنجگور رائفلز برگیڈئیر نادر محی الدین تھے اور انہوں نے اقبال کی فلسفیانہ سوچ اور اُن کی شاعری پر اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں میں اقبال فہمی کی اشد ضرورت ہے۔ یومِ اقبال کے موقع پر تعلیمی اداروں میں مختلف سرگرمیوں کی مدد سے علامہ اقبال کے نظریات اور تصورات کو بچوں میں راسخ کیا جاسکتا ہے۔ تقریری مقابلے اس کا بہترین ذریعہ ہیں۔وہ دانائے راز، حکیم الامت، شاعر مشرق و عالم مغرب حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ کی ہمہ جہت شخصیت کے بارے میں مجھ جیسے کم علم کا بات کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ کیونکہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو مغرب سے نائٹ کا اعزاز حاصل کرتے ہیں اور مشرق میں "علامہ" کہلانے کے قابل ہوتے ہیں ہیں۔ تاہم، سر علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے علاوہ ایک بھی فرد ایسا نہیں ہے جس کا نام "سر" اور "علامہ" دونوں سے شروع ہوتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر کا خطاب بھی ہو۔اقبال کی شاعری میں کاروبار ہستی کے ان اسرار و رموز کی کشف المحجوبی کی گئی ہے جو ہماری نوجوان نسل کو دنیا کی امامت کی راہ پرخار کے لیے مشعل راہ ثابت ہوسکتےہیں.حضرت اقبال جیسے عظیم انسانوں کو قدرت عظیم کاموں کے لیے تخلیق کرتی ہے ۔ برصغیر میں چاروں طرف غلامی کے اندھیرے چھائے ہوئے تھے ۔ فرزندان اسلام غفلت کی نیند سوئے ہوئے تھے ۔ ایسے میں اقبال کی شاعری آزادی کا ترانہ بن کر گونجی۔ آپ کا پیغامِ حریت و آزادی قدرت کا ایک بیش بہا انعام ثابت ہوا ۔ آپ کی دلی آرزو تھی کہ مسلمان ایمان کی تصویر بن جائیں ، قرآن کی تفسیر بن جائیں اور ان کا جذبہ نعرہ تکبیر بن جائے ۔ آپ نے مردہ دلوں کو حیاتِ نو کا نغمہ سنایا، گرتے ہوؤں کو اٹھایا اور غلامی میں بھٹکنے والوں کو آزادی کا جلوہ دکھایا ۔ اس مقصد کے لیے آپ نے ایمان و یقین کے چراغ روشن کیے اور مسلمانوں کوسمجھایا.اقبال نے اپنی شاعری میں شاہین کا استعارہ بارہا استعمال کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پرندہ ان کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ وہ اپنی ملت کے جوانوں کو شاہین کی طرح جھپٹنے پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے والی خوبیوں سے متصف دیکھنا چاہتے تھے ۔وہ نوجوان سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں.علامہ اقبال کا فلسفۂ خودی اقبال کے نزدیک خودی کا مطلب غرور یا تکبر نہیں ہے۔خودی کا مطلب ہے،اپنی ذات کو پہچاننا، اپنی صلاحیتوں کو جاننا، اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جوابدہ سمجھنا۔اقبال کہتے ہیں کہ انسان کوئی معمولی چیز نہیں۔ انسان کے اندر اللہ نے اپنی روح پھونکی ہے، اس لیے انسان میں لامحدود طاقت ہے۔خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے.خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے.یعنی اگر تم اپنی خودی کو اتنا بلند کر لو کہ تم اللہ کے قریب ہو جاؤ، تو تمہاری دعا تقدیر بدل سکتی ہے۔اقبال نے اپنی مشہور کتاب اسرارِ خودی میں خودی کی تربیت کے مرحلے بتائے ہیں.سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی اطاعت کرنا۔ بغیر اطاعت کے خودی بگڑ جاتی ہے۔اپنی خواہشات پر قابو پانا۔ جو شخص اپنی بھوک، غصے، لالچ پر قابو پا لیتا ہے، وہی اصل میں آزاد ہے.جب انسان ان دونوں مراحل سے گزر جاتا ہے تو وہ اللہ کا نائب بن جاتا ہے۔ یعنی وہ زمین پر اللہ کے احکامات کو نافذ کرنے والا بن جاتا ہے۔قبال کہتے ہیں خودی کا مقصد صرف اپنے لیے جینا نہیں، بلکہ بے خودی ہے۔ یعنی اپنی ذات کو قوم اور ملت کے لیے قربان کر دینا۔جیسے قطرہ جب سمندر میں ملتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتا، بلکہ سمندر بن جاتا ہے۔ اسی طرح انسان جب اپنی قوم کے لیے جیتا ہے تو اس کی خودی اور بلند ہو جاتی ہے۔ فرد قائم ہے ربطِ ملت سے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں بیرونِ دریا کچھ نہیں اقبال نے مسلمانوں کو خودی کا درس کیوں دیا؟ قبال کے زمانے میں مسلمان مایوس ہو چکے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم غلام ہیں، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔تم شاہین ہو، گدھ نہیں۔ تمہیں بلند پرواز کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ تمہاری تقدیر تمہارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy