@jwwandparastt: نصاب کی بیوی پر رات عشاء کی نماز کے بعد، جب محلے کی گلیاں سنسان ہونے لگتی ہیں، دروازے کی چوکھٹ پر نظریں جمائے بیٹھی رہتی ہے۔ اس کے دل کے کسی کونے میں آج بھی یہ امید زندہ ہے کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے، شاید دروازہ کھلے اور نصاب ہمیشہ کی طرح مسکراتا ہوا گھر میں داخل ہو جائے۔ اسے آج بھی یاد ہے کہ عشاء کے بعد نصاب کا معمول کیا تھا۔ دکان سے واپسی پر وہ ہمیشہ اپنے ساتھ نصاب چاکلیٹ اور کچھ کھانے میٹھی گولیاں ضرور لاتا تھا۔ وہ اپنے ایک سالہ ننھے بچے کو گود میں لیے اسی انتظار میں بیٹھی رہتی ہے کہ شاید ابھی دروازے پر دستک ہو، شاید ابھی وہ لوٹ آئے اور اس کے معصوم بچے کے لیے پہلے کی طرح کچھ لے کر آئے۔ مگر اب دروازے پر کوئی دستک نہیں ہوتی، صرف ہوا کی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے، اور اس کے دل کے ویران گوشوں میں ایک بے سوال گونجتا رہتا ہے: "اب اس معصوم بچے کو کون سمجھائے گا کہ وہ اپنے بابا کا انتظار کرنا چھوڑ دے؟"