@sweetmeap: The way we all share the same brain cell when it comes to Jin in Sao Paulo 😭 @BTS #jin #bts #btsarmy #seokjin #arirangtour

sweetmeap
sweetmeap
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 07 November 2026 04:16:47 GMT
338
37
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @sweetmeap, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

درخت کی بلند شاخ پر بیٹھی چڑیا اور بارش میں رقص کرتا مور، دونوں مجھے ایک عجیب حقیقت سکھا گئے۔ چڑیا کے پاس نہ کل کی ضمانت ہے، نہ دانے کا یقین، پھر بھی اُس کی آواز میں شکوہ نہیں، صرف شکر ہے۔ وہ ہر صبح ایک نئے یقین کے ساتھ اُڑتی ہے، جیسے اُسے اپنے رب کی رحمت پر مکمل بھروسہ ہو۔ مور جانتا ہے کہ بارش چند لمحوں کی مہمان ہے، پھر بھی وہ اپنے پَر پوری شان سے پھیلا کر اُس کا استقبال کرتا ہے، جیسے خوشی کو جینے کے لیے کسی خاص وجہ کی ضرورت نہ ہو۔ میں اُن دونوں کو دیر تک دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ آخر انسان اور فطرت میں اتنا فرق کیوں ہے؟ چڑیا کو اپنے کل کی فکر نہیں، مور کو اپنے حسن پر غرور نہیں، درخت کو اپنے جھڑتے پتوں کا غم نہیں، اور بادل کو برس کر خالی ہو جانے کا خوف نہیں۔ مگر انسان… وہ آنے والے کل کے خوف میں آج کا سکون کھو دیتا ہے، گزرے ہوئے کل کے دکھ میں موجود لمحوں کی خوبصورتی بھلا دیتا ہے۔ عجیب بات ہے، فطرت کی یہ خاموش مخلوقیں ہر حال میں جینا جانتی ہیں۔ بارش آئے تو مور ناچتا ہے، دھوپ نکلے تو چڑیا گاتی ہے، ہوا چلے تو درخت جھومتے ہیں۔ کسی کو یہ شکایت نہیں کہ اُس کے پاس کیا نہیں ہے، ہر ایک اپنی عطا میں خوش نظر آتا ہے۔ مگر انسان کی خواہشیں اُس کے سکون سے ہمیشہ بڑی رہتی ہیں۔ وہ ایک نعمت پاتا ہے تو دوسری کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے، ایک منزل پر پہنچتا ہے تو اگلی منزل کی بے چینی اُسے گھیر لیتی ہے۔ شاید اسی لیے جنگل میں شور تو بہت ہوتا ہے، مگر بے سکونی نہیں ہوتی۔ اور شہروں میں خاموشی تو مل جاتی ہے، مگر سکون نہیں ملتا۔ کیونکہ سکون چیزوں کے جمع ہونے سے نہیں آتا، دل کے مطمئن ہونے سے آتا ہے۔ اُس دن چڑیا کی چہچہاہٹ اور مور کے رقص نے مجھے یہ سکھایا کہ زندگی کی خوبصورتی اُس میں نہیں کہ ہمارے پاس کتنا ہے، بلکہ اُس میں ہے کہ ہم جو کچھ رکھتے ہیں، اُسے کتنی محبت سے محسوس کرتے ہیں۔ ورنہ آسمان کے نیچے سب سے آزاد چڑیا ہے، سب سے خوبصورت مور ہے، اور سب سے بے چین انسان…” #millionviews #foryou #foryoupage #urdupoetry #expoler
درخت کی بلند شاخ پر بیٹھی چڑیا اور بارش میں رقص کرتا مور، دونوں مجھے ایک عجیب حقیقت سکھا گئے۔ چڑیا کے پاس نہ کل کی ضمانت ہے، نہ دانے کا یقین، پھر بھی اُس کی آواز میں شکوہ نہیں، صرف شکر ہے۔ وہ ہر صبح ایک نئے یقین کے ساتھ اُڑتی ہے، جیسے اُسے اپنے رب کی رحمت پر مکمل بھروسہ ہو۔ مور جانتا ہے کہ بارش چند لمحوں کی مہمان ہے، پھر بھی وہ اپنے پَر پوری شان سے پھیلا کر اُس کا استقبال کرتا ہے، جیسے خوشی کو جینے کے لیے کسی خاص وجہ کی ضرورت نہ ہو۔ میں اُن دونوں کو دیر تک دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ آخر انسان اور فطرت میں اتنا فرق کیوں ہے؟ چڑیا کو اپنے کل کی فکر نہیں، مور کو اپنے حسن پر غرور نہیں، درخت کو اپنے جھڑتے پتوں کا غم نہیں، اور بادل کو برس کر خالی ہو جانے کا خوف نہیں۔ مگر انسان… وہ آنے والے کل کے خوف میں آج کا سکون کھو دیتا ہے، گزرے ہوئے کل کے دکھ میں موجود لمحوں کی خوبصورتی بھلا دیتا ہے۔ عجیب بات ہے، فطرت کی یہ خاموش مخلوقیں ہر حال میں جینا جانتی ہیں۔ بارش آئے تو مور ناچتا ہے، دھوپ نکلے تو چڑیا گاتی ہے، ہوا چلے تو درخت جھومتے ہیں۔ کسی کو یہ شکایت نہیں کہ اُس کے پاس کیا نہیں ہے، ہر ایک اپنی عطا میں خوش نظر آتا ہے۔ مگر انسان کی خواہشیں اُس کے سکون سے ہمیشہ بڑی رہتی ہیں۔ وہ ایک نعمت پاتا ہے تو دوسری کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے، ایک منزل پر پہنچتا ہے تو اگلی منزل کی بے چینی اُسے گھیر لیتی ہے۔ شاید اسی لیے جنگل میں شور تو بہت ہوتا ہے، مگر بے سکونی نہیں ہوتی۔ اور شہروں میں خاموشی تو مل جاتی ہے، مگر سکون نہیں ملتا۔ کیونکہ سکون چیزوں کے جمع ہونے سے نہیں آتا، دل کے مطمئن ہونے سے آتا ہے۔ اُس دن چڑیا کی چہچہاہٹ اور مور کے رقص نے مجھے یہ سکھایا کہ زندگی کی خوبصورتی اُس میں نہیں کہ ہمارے پاس کتنا ہے، بلکہ اُس میں ہے کہ ہم جو کچھ رکھتے ہیں، اُسے کتنی محبت سے محسوس کرتے ہیں۔ ورنہ آسمان کے نیچے سب سے آزاد چڑیا ہے، سب سے خوبصورت مور ہے، اور سب سے بے چین انسان…” #millionviews #foryou #foryoupage #urdupoetry #expoler

About