@niqabi666: انسان کو سب سے زیادہ نقصان باہر کے دشمن سے نہیں پہنچتا، سب سے زیادہ نقصان اس کو اپنے ہی نفس سے پہنچتا ہے۔ جب انسان اپنے نفس کے حوالے ہو جاتا ہے تو وہ وہی کرتا ہے جس کا اسے بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے۔ وہ غصے میں بول دیتا ہے، خواہش میں بہک جاتا ہے، اور گناہ کر کے پھر خود ہی اپنے آپ سے شرمندہ ہوتا ہے۔ نفس انسان کو آہستہ آہستہ اندھیرے میں لے جاتا ہے۔ پہلے وہ چھوٹی سی غلطی کرواتا ہے، پھر اس غلطی کو عادت بنا دیتا ہے، اور پھر انسان کو لگتا ہے کہ اب واپسی ممکن ہی نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ واپسی اسی وقت ممکن ہے جب انسان اللہ کے سامنے جھک جائے اور کہے، اے میرے رب! میں خود کو نہیں سنبھال سکتا، تو ہی مجھے سنبھال لے۔ کیونکہ جس کو اللہ سنبھال لے، اس کو نفس کبھی گرا نہیں سکتا۔ اور جس کو اللہ چھوڑ دے، وہ پل بھر میں اپنے ہی ہاتھوں برباد ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ دعا روز مانگنی چاہیے، سجدے میں، تنہائی میں، اور ہر اس لمحے میں جب دل بہکنے لگے۔ *قرآن میں اللہ فرماتا ہے:* > وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ ؕ *ترجمہ:* اور میں اپنے نفس کو پاک نہیں کہتا، بے شک نفس تو برائی کا ہی حکم دیتا ہے، مگر جس پر میرے رب نے رحم کر دیا۔ (سورۃ یوسف: 53) #religious #islamicstory #dua #emotional #shortvideo