@chkashifbhaknanwali: میں نیند میں بھی ہوں تو میرے آنسو نکل آتے ہیں تیرا بچھڑنا مجھے نیند میں پھر زلا جاتا ہے۔" کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میرے ہے کہ میرے دل نے تمہاری جدائی تمہاری جدائی کو اپنی تقدیر مان لیا ہے، ، مگر میری روح آج بھی اس فیصلے کو قبول نہیں کر سکی۔ اسی کیے شاید میں جانتے ہوئے بھی تمہیں یاد کرتا ہوں، اور سوتے ہوئے بھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ خواب انسان کی خواہشوں کی دنیا ہوتے ہیں، مگر میرے خواب تو میری اذیت کی دنیا بن چکے ہیں۔ رات کو اس امید کے ساتھ آنکھیں بند کرتا ہوں کہ شاید آج کی رات چند لمحوں کا سکون نصیب ہو جائے، مگر جیسے ہی نیند آتی ۔ نیند آتی ہے، تم پھر میرے سامنے آکھڑی ہوتی میں رات . دنیا ہو۔ تمہاری وہی خاموش مسکراہٹ... وہی نظریں... وہی انداز... اور میں چند لمحوں کے لیے یہ بھول جاتا ہوں کہ ہماری جدائی کو ایک زمانہ گزر چکا ہے۔