@a.ying34:

A Ying
A Ying
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 07 November 2026 19:14:27 GMT
26
1
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @a.ying34, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اکیلے تو ہم شروع سے ہی تھے، بس ایک شخص پر اعتبار کر بیٹھے تھے، جو خود کو ہمارا اپنا کہتا تھا۔ ہم اُسی کو اپنی دنیا سمجھ بیٹھے تھے۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ محبت کے نام پر، کوئی دل کے ساتھ کھیل بھی سکتا ہے۔ جو شخص کہتا تھا کبھی چھوڑوں گا نہیں، وہی ایک دن خاموشی سے بدل بھی سکتا ہے۔ ہم نے تو اُس کی خاموشی کو بھی سمجھا، اُس کے غصے کو بھی محبت جانا۔ وہ جب جب ہم سے دور ہوتا گیا، ہم نے ہر بار اُسے اپنا ہی مانا۔ ہم نے اپنی خوشیوں کو اُس پر وار دیا، اپنے خوابوں کو اُس کے نام کر دیا۔ وہ شخص جسے کھونے سے ڈرتے تھے ہم، اُسی نے ہمیں تنہا جینا سکھا دیا۔ اب کسی سے شکوہ نہیں، کوئی شکایت نہیں۔ دل میں پہلے جیسی اب چاہت نہیں۔ ہم نے سیکھ لیا ہے وقت کے ساتھ، ہر مسکراہٹ کے پیچھے حقیقت نہیں۔ کچھ لوگ زندگی میں آتے ہی اس لیے ہیں، کہ ہمیں تنہائی کا مطلب سمجھا جائیں۔ ہم جنہیں اپنی منزل سمجھ بیٹھتے ہیں، وہی ہمیں راستوں میں چھوڑ جائیں۔ اب نہ کسی کے وعدوں پر یقین ہے، نہ کسی کی باتوں میں وہ تاثیر ہے۔ ہم نے اپنے دل کو سمجھا لیا ہے، ہر اپنا کہلانے والا اپنا نہیں ہے۔ کبھی کبھی دل آج بھی سوال کرتا ہے، کیا قصور تھا ہمارا، جو یہ حال ہوا۔ ہم نے تو بس خلوص سے چاہا تھا اُسے، پھر ہماری محبت کا یہ انجام کیوں ہوا؟ مگر اب ہم نے خود سے وعدہ کیا ہے، کسی کے لیے خود کو نہیں مٹائیں گے۔ جو چھوڑ جائے گا اپنی مرضی سے ہمیں، ہم اُسے آواز دے کر نہیں بلائیں گے۔ اب تنہائی سے کوئی خوف نہیں لگتا، کسی کے بدلنے کا دکھ نہیں لگتا۔ ہم نے خود کو خود میں سمیٹ لیا ہے، اب کسی کے جانے سے گھر خالی نہیں لگتا۔ اکیلے تو ہم شروع سے ہی تھے۔ بس دل کو کسی کے ہونے کا گمان ہو گیا تھا۔ وہ مخلص تھا یا نہیں، یہ تو وقت نے بتا دیا، مگر ہمیں خود سے بچھڑنے کا نقصان ہو گیا تھا۔ اب اگر کوئی پوچھے کہ کیا کھویا ہے ہم نے، تو مسکرا کر بس اتنا بتائیں گے: کچھ خواب، کچھ امیدیں، کچھ لمحے، اور ایک وہم جسے ہم محبت کہیں گے۔ #deepwords #sadpoetry #foryou
اکیلے تو ہم شروع سے ہی تھے، بس ایک شخص پر اعتبار کر بیٹھے تھے، جو خود کو ہمارا اپنا کہتا تھا۔ ہم اُسی کو اپنی دنیا سمجھ بیٹھے تھے۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ محبت کے نام پر، کوئی دل کے ساتھ کھیل بھی سکتا ہے۔ جو شخص کہتا تھا کبھی چھوڑوں گا نہیں، وہی ایک دن خاموشی سے بدل بھی سکتا ہے۔ ہم نے تو اُس کی خاموشی کو بھی سمجھا، اُس کے غصے کو بھی محبت جانا۔ وہ جب جب ہم سے دور ہوتا گیا، ہم نے ہر بار اُسے اپنا ہی مانا۔ ہم نے اپنی خوشیوں کو اُس پر وار دیا، اپنے خوابوں کو اُس کے نام کر دیا۔ وہ شخص جسے کھونے سے ڈرتے تھے ہم، اُسی نے ہمیں تنہا جینا سکھا دیا۔ اب کسی سے شکوہ نہیں، کوئی شکایت نہیں۔ دل میں پہلے جیسی اب چاہت نہیں۔ ہم نے سیکھ لیا ہے وقت کے ساتھ، ہر مسکراہٹ کے پیچھے حقیقت نہیں۔ کچھ لوگ زندگی میں آتے ہی اس لیے ہیں، کہ ہمیں تنہائی کا مطلب سمجھا جائیں۔ ہم جنہیں اپنی منزل سمجھ بیٹھتے ہیں، وہی ہمیں راستوں میں چھوڑ جائیں۔ اب نہ کسی کے وعدوں پر یقین ہے، نہ کسی کی باتوں میں وہ تاثیر ہے۔ ہم نے اپنے دل کو سمجھا لیا ہے، ہر اپنا کہلانے والا اپنا نہیں ہے۔ کبھی کبھی دل آج بھی سوال کرتا ہے، کیا قصور تھا ہمارا، جو یہ حال ہوا۔ ہم نے تو بس خلوص سے چاہا تھا اُسے، پھر ہماری محبت کا یہ انجام کیوں ہوا؟ مگر اب ہم نے خود سے وعدہ کیا ہے، کسی کے لیے خود کو نہیں مٹائیں گے۔ جو چھوڑ جائے گا اپنی مرضی سے ہمیں، ہم اُسے آواز دے کر نہیں بلائیں گے۔ اب تنہائی سے کوئی خوف نہیں لگتا، کسی کے بدلنے کا دکھ نہیں لگتا۔ ہم نے خود کو خود میں سمیٹ لیا ہے، اب کسی کے جانے سے گھر خالی نہیں لگتا۔ اکیلے تو ہم شروع سے ہی تھے۔ بس دل کو کسی کے ہونے کا گمان ہو گیا تھا۔ وہ مخلص تھا یا نہیں، یہ تو وقت نے بتا دیا، مگر ہمیں خود سے بچھڑنے کا نقصان ہو گیا تھا۔ اب اگر کوئی پوچھے کہ کیا کھویا ہے ہم نے، تو مسکرا کر بس اتنا بتائیں گے: کچھ خواب، کچھ امیدیں، کچھ لمحے، اور ایک وہم جسے ہم محبت کہیں گے۔ #deepwords #sadpoetry #foryou

About