@marufchoudhury.x: Omanush 😅💔#biker #riding #marufchoudhuryx #foryou #trending

ᴍᴀʀᴜғ ᴄʜᴏᴜᴅʜᴜʀʏ
ᴍᴀʀᴜғ ᴄʜᴏᴜᴅʜᴜʀʏ
Open In TikTok:
Region: BD
Sunday 08 November 2026 07:03:32 GMT
39363
4318
56
240

Music

Download

Comments

mdrabbimia9296
R    ꫝ    ʙ    ʙ    ɪ ツ :
Vaiya notun bike nilen naki..??
2026-11-08 07:36:45
5
md.mehedi.hasan01234
~𝐌. ⚰️ :
Same to me 😅
2026-11-08 15:41:27
0
md.yuakub
Md Yuakub :
এখন আর গ্যালারি তে রাখি না,, মানিব্যাগ এ রাখি 🥰
2026-11-08 10:15:07
1
tuntunichatok
- `Tuntuni_💌_Chatok` :
ভাই আমার,, 🫂💌
2026-11-08 07:07:18
4
your.tomar.6
Stupid gile 🎊 :
কোন এক সময় হয়তো বা সে আপনার মনের মানুষ ছিল 🥰😳
2026-11-08 07:10:54
3
riyad.ahmed.mahin
—͞𝐏𝐢𝐧𝐤 ♡ 𝐑𝐢𝐘𝐚𝐃 🍒🧃 :
সেম❤️‍🩹😅
2026-11-08 15:32:01
0
maruf.pro53
🍷VP MARUF  :
😅
2026-11-08 15:22:28
0
soheidn
MD SOHEID :
হু 😅
2026-11-08 14:54:50
0
md.labib185
°_𝙻𝙰𝙱𝙸𝙱_° :
হুম
2026-11-08 13:06:19
0
77shanto18
—͞×͜× S𝙷𝙰𝙽𝚃𝙾★࿐ 🧃 :
ভাই আমি ভালো নেই.!😭🥹
2026-11-08 12:41:56
0
user1651976617934
KM Bijog :
Hmm,, 🥰🥰🥰
2026-11-08 14:04:54
0
nishatvk
🫀▪࿐NᎥនU࿐▪ 🫀 :
ভাই অমানুষ না ❎ সত্যি কারের ভালোবেসেছিলা✅
2026-11-08 13:08:09
0
biju.sujon
𝕭ᏆℑᏌ🍷 :
Hum Bhai
2026-11-08 12:15:45
0
md.shahali23
Md Shahali..🌿💚 :
2026-11-08 15:24:00
0
tgrtarek01
𝐼𝒶𝓂 𝐵𝒶𝒹 𝐵☯𝓎 🥂🇮🇹 :
2026-11-08 14:33:34
0
rakibmolla0422
Rakib Molla :
হুম
2026-11-08 11:08:19
0
jonithefastbowler
Jahidul Joni :
হুম
2026-11-08 07:10:14
0
king...111111
King.### :
2026-11-08 11:34:11
0
whoi.am15
🥷🚩 :
🙂🙏💔
2026-11-08 08:38:39
0
somun__150k
𝚂𝚘𝚖𝚞𝚗 🕸️🕷️ :
হুম
2026-11-08 11:59:30
0
kilarboy163
🚩 R A. K. I P🚩 :
হুম রে
2026-11-08 12:09:50
0
siyam.patwari_
S I Y A M _0️⃣9️⃣⚽ :
আমি ও ভাই 🥹
2026-11-08 13:13:42
0
jakariya_516
jakariya ❤️‍🩹 :
😅🫶
2026-11-08 09:18:41
1
sk.abdullah.shori
🌜।।।..Md.🫂Abdullah Shorif.🌛 :
🥰🥰🥰
2026-11-08 07:11:28
1
To see more videos from user @marufchoudhury.x, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

SIR Doctor Allama Muhammad IQBAL ✨🥀💫  📖 Historical significance:  “بہتر ہے ان شیروں کو سکھا دے رَمِ آہو، باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ۔” ہمیں آہو کی دوڑ نہیں، شیر کی دھاڑ یاد ہے، جو حق پہ گر پڑے، وہی اصل فاتح شمار ہے۔ سکھاؤ نہ ہمیں خوف کی تہذیبِ خاموشی، ہمارا سبق تو خالدؓ کا استقامت افکار ہے۔ جو زخم پہ کہہ دے فُزتُ وربِّ کعبہ، اسی کے لہو سے تاریخ کا وقار ہے۔ اقبال کی اصل چیخ: قوم کو مارنے کے لیے تلوار نہیں، نصاب کافی ہوتا ہے اقبال جب کہتا ہے: “بہتر ہے ان شیروں کو سکھا دے رَمِ آہو” تو وہ کسی ایک دور، ایک حکومت یا ایک استاد کی بات نہیں کر رہا۔ وہ ایک پورے نظامِ فکر پر انگلی رکھ رہا ہے۔ اقبال دیکھ رہا تھا کہ: مسلمان بچے پیدا تو شیر ہو رہے ہیں مگر ان کی تربیت انہیں آہو بنا رہی ہے یعنی: سوال نہ کرو ٹکر نہ لو سر نہ اٹھاؤ اپنی تاریخ نہ پڑھو اپنے ہیروز کو بھولو یہی وہ مقام ہے جہاں شیر کی شیری (یعنی اس کی پہچان، اس کی دھاڑ، اس کا وقار) صرف کہانی بن کر رہ جاتی ہے۔ مکالمہ: یہ “نہ بتانے” کی سازش کیا ہے؟ یہ مکالمہ بہت خطرناک سچ بیان کرتا ہے: “یہ نہیں بتانا کہ خالد بن ولیدؓ کے ہاتھ میں بارہ تلواریں ٹوٹ گئیں” سوال یہ نہیں کہ: تلواریں کیوں ٹوٹیں؟ سوال یہ ہے کہ: ہاتھ کیوں نہیں لرزا؟ قدم کیوں نہیں رکے؟ نیت کیوں نہیں بدلی؟ یہ واقعات اس لیے “نہ بتانے” کے قابل سمجھے جاتے ہیں کیونکہ: یہ بچے کو آرام سے نفرت سکھاتے ہیں یہ خوف کی بنیاد ہلا دیتے ہیں یہ سوال پیدا کرتے ہیں: اگر وہ کر سکتے تھے تو میں کیوں نہیں؟ اور غلام ذہنوں کے لیے یہ سوال سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ “گڈیاں پٹنگ” — صرف کھیل نہیں، علامت ہے یہ جملہ بہت گہرا استعارہ ہے۔ اقبال کھیل کے خلاف نہیں، وہ بے مقصد مصروفیت کے خلاف ہے۔ ایسی مصروفیت جو: سوچنے نہ دے تاریخ سے جوڑ نہ دے مقصد نہ دے ایسی تعلیم جو: ہنر تو دے مگر کردار نہ دے ڈگری تو دے مگر غیرت نہ دے یہی وہ تعلیم ہے جسے اقبال “رَمِ آہو” کہتا ہے۔ “فُزتُ وَرَبِّ الکَعبہ” — اقبال کا مرکزِ فکر یہ ایک جملہ نہیں، زندگی کا معیار ہے۔ عام انسان کہتا ہے: میں مر گیا میرا نقصان ہو گیا مومن کہتا ہے: میں مقصد پر پورا اترا میں کامیاب ہو گیا یہی وہ لمحہ ہے جہاں: موت شکست نہیں رہتی زخم ہار نہیں بنتا نقصان، گھاٹا نہیں رہتا اقبال چاہتا ہے کہ مسلمان: زندگی کو جسم سے نہ ناپے کامیابی کو فائدے سے نہ تولے بلکہ: حق سچ مقصد سے پرکھے۔ “یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے” — پراسرار کیوں؟ اقبال کہتا ہے یہ بندے “پُراسرار” ہیں، کیونکہ: یہ دنیا میں رہتے ہیں مگر دنیا کے غلام نہیں ہوتے یہ: طاقت رکھتے ہیں مگر طاقت کے نشے میں نہیں ہوتے یہ: دشمن سے نہیں ڈرتے مگر ظلم بھی نہیں کرتے ان کی طاقت کا راز ہتھیار نہیں، ان کا باطن ہے۔ “ذوقِ خدائی” — سب سے غلط سمجھی جانے والی لائن یہاں اقبال پر سب سے زیادہ اعتراض ہوا، اور سب سے کم سمجھا گیا۔ ذوقِ خدائی کا مطلب ہے: زمین پر رہ کر آسمانی ذمہ داری کا شعور یعنی: میں مجبور نہیں میں ذمہ دار ہوں یہی شعور: بزدلی کو مار دیتا ہے بہانوں کو ختم کر دیتا ہے “دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا” یہ مصرعہ طاقت کا بیان نہیں، یقین کا بیان ہے۔ جب انسان: خود کو پہچان لے اپنے رب سے جُڑ جائے تو: حالات چھوٹے ہو جاتے ہیں رکاوٹیں راستہ بن جاتی ہیں یہ وہ مقام ہے جہاں: غلامی ٹوٹتی ہے تاریخ بنتی ہے آخری شعر: سب سے نازک نکتہ “دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو” یہاں اقبال کہتا ہے: جب دل اللہ سے جُڑ جاتا ہے تو دنیا کا خوف بھی ختم اور آخرت کی لالچ بھی ختم پھر انسان: سچ اس لیے نہیں بولتا کہ جنت ملے بلکہ اس لیے کہ سچ سچ ہے یہی آزادی کی آخری منزل ہے۔ حتمی بات (دل میں اترنے والی): اقبال ہمیں لڑاکا نہیں بنانا چاہتا وہ ہمیں بے ضمیر نہیں دیکھ سکتا وہ کہتا ہے: مجھے ایسی قوم نہ دو جو زندہ رہنے پر راضی ہو مجھے ایسی قوم دو جو حق پر جینے کا حوصلہ رکھتی ہو اگر ہم نے: بچوں کو صرف سہولت سکھائی قربانی بھلا دی ہیروز چھپا دیے تو: قوم زندہ رہے گی مگر تاریخ میں نہیں اقبال قلندرِ لاہوری کہتے ہیں:
SIR Doctor Allama Muhammad IQBAL ✨🥀💫 📖 Historical significance: “بہتر ہے ان شیروں کو سکھا دے رَمِ آہو، باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ۔” ہمیں آہو کی دوڑ نہیں، شیر کی دھاڑ یاد ہے، جو حق پہ گر پڑے، وہی اصل فاتح شمار ہے۔ سکھاؤ نہ ہمیں خوف کی تہذیبِ خاموشی، ہمارا سبق تو خالدؓ کا استقامت افکار ہے۔ جو زخم پہ کہہ دے فُزتُ وربِّ کعبہ، اسی کے لہو سے تاریخ کا وقار ہے۔ اقبال کی اصل چیخ: قوم کو مارنے کے لیے تلوار نہیں، نصاب کافی ہوتا ہے اقبال جب کہتا ہے: “بہتر ہے ان شیروں کو سکھا دے رَمِ آہو” تو وہ کسی ایک دور، ایک حکومت یا ایک استاد کی بات نہیں کر رہا۔ وہ ایک پورے نظامِ فکر پر انگلی رکھ رہا ہے۔ اقبال دیکھ رہا تھا کہ: مسلمان بچے پیدا تو شیر ہو رہے ہیں مگر ان کی تربیت انہیں آہو بنا رہی ہے یعنی: سوال نہ کرو ٹکر نہ لو سر نہ اٹھاؤ اپنی تاریخ نہ پڑھو اپنے ہیروز کو بھولو یہی وہ مقام ہے جہاں شیر کی شیری (یعنی اس کی پہچان، اس کی دھاڑ، اس کا وقار) صرف کہانی بن کر رہ جاتی ہے۔ مکالمہ: یہ “نہ بتانے” کی سازش کیا ہے؟ یہ مکالمہ بہت خطرناک سچ بیان کرتا ہے: “یہ نہیں بتانا کہ خالد بن ولیدؓ کے ہاتھ میں بارہ تلواریں ٹوٹ گئیں” سوال یہ نہیں کہ: تلواریں کیوں ٹوٹیں؟ سوال یہ ہے کہ: ہاتھ کیوں نہیں لرزا؟ قدم کیوں نہیں رکے؟ نیت کیوں نہیں بدلی؟ یہ واقعات اس لیے “نہ بتانے” کے قابل سمجھے جاتے ہیں کیونکہ: یہ بچے کو آرام سے نفرت سکھاتے ہیں یہ خوف کی بنیاد ہلا دیتے ہیں یہ سوال پیدا کرتے ہیں: اگر وہ کر سکتے تھے تو میں کیوں نہیں؟ اور غلام ذہنوں کے لیے یہ سوال سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ “گڈیاں پٹنگ” — صرف کھیل نہیں، علامت ہے یہ جملہ بہت گہرا استعارہ ہے۔ اقبال کھیل کے خلاف نہیں، وہ بے مقصد مصروفیت کے خلاف ہے۔ ایسی مصروفیت جو: سوچنے نہ دے تاریخ سے جوڑ نہ دے مقصد نہ دے ایسی تعلیم جو: ہنر تو دے مگر کردار نہ دے ڈگری تو دے مگر غیرت نہ دے یہی وہ تعلیم ہے جسے اقبال “رَمِ آہو” کہتا ہے۔ “فُزتُ وَرَبِّ الکَعبہ” — اقبال کا مرکزِ فکر یہ ایک جملہ نہیں، زندگی کا معیار ہے۔ عام انسان کہتا ہے: میں مر گیا میرا نقصان ہو گیا مومن کہتا ہے: میں مقصد پر پورا اترا میں کامیاب ہو گیا یہی وہ لمحہ ہے جہاں: موت شکست نہیں رہتی زخم ہار نہیں بنتا نقصان، گھاٹا نہیں رہتا اقبال چاہتا ہے کہ مسلمان: زندگی کو جسم سے نہ ناپے کامیابی کو فائدے سے نہ تولے بلکہ: حق سچ مقصد سے پرکھے۔ “یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے” — پراسرار کیوں؟ اقبال کہتا ہے یہ بندے “پُراسرار” ہیں، کیونکہ: یہ دنیا میں رہتے ہیں مگر دنیا کے غلام نہیں ہوتے یہ: طاقت رکھتے ہیں مگر طاقت کے نشے میں نہیں ہوتے یہ: دشمن سے نہیں ڈرتے مگر ظلم بھی نہیں کرتے ان کی طاقت کا راز ہتھیار نہیں، ان کا باطن ہے۔ “ذوقِ خدائی” — سب سے غلط سمجھی جانے والی لائن یہاں اقبال پر سب سے زیادہ اعتراض ہوا، اور سب سے کم سمجھا گیا۔ ذوقِ خدائی کا مطلب ہے: زمین پر رہ کر آسمانی ذمہ داری کا شعور یعنی: میں مجبور نہیں میں ذمہ دار ہوں یہی شعور: بزدلی کو مار دیتا ہے بہانوں کو ختم کر دیتا ہے “دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا” یہ مصرعہ طاقت کا بیان نہیں، یقین کا بیان ہے۔ جب انسان: خود کو پہچان لے اپنے رب سے جُڑ جائے تو: حالات چھوٹے ہو جاتے ہیں رکاوٹیں راستہ بن جاتی ہیں یہ وہ مقام ہے جہاں: غلامی ٹوٹتی ہے تاریخ بنتی ہے آخری شعر: سب سے نازک نکتہ “دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو” یہاں اقبال کہتا ہے: جب دل اللہ سے جُڑ جاتا ہے تو دنیا کا خوف بھی ختم اور آخرت کی لالچ بھی ختم پھر انسان: سچ اس لیے نہیں بولتا کہ جنت ملے بلکہ اس لیے کہ سچ سچ ہے یہی آزادی کی آخری منزل ہے۔ حتمی بات (دل میں اترنے والی): اقبال ہمیں لڑاکا نہیں بنانا چاہتا وہ ہمیں بے ضمیر نہیں دیکھ سکتا وہ کہتا ہے: مجھے ایسی قوم نہ دو جو زندہ رہنے پر راضی ہو مجھے ایسی قوم دو جو حق پر جینے کا حوصلہ رکھتی ہو اگر ہم نے: بچوں کو صرف سہولت سکھائی قربانی بھلا دی ہیروز چھپا دیے تو: قوم زندہ رہے گی مگر تاریخ میں نہیں اقبال قلندرِ لاہوری کہتے ہیں: "بہتر ہے ان شیروں کو سکھا دے رَمِ آہو، باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ۔" مکالمہ: "اقبال کہتا ہے کہ ان بچوں کو گڈیاں پٹنگ سکھاؤ، انہیں یہ نہیں بتانا کہ خالد بن ولید کے ہاتھ میں جنگِ موتہ میں بارہ تلواریں ٹوٹ گئی تھیں۔ ان کو یہ بات نہیں بتانی۔ یہ بتاؤ گے تو پھر تو ہر مسلمان خالد بن ولید کے قدم پر چلنے کی کوشش کرے گا۔" "ان کو یہ نہیں بتانا کہ جنابِ صحابی کے سینے پر تیر لگا اور خون نکلا تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں مر گیا، میرے بچوں کا کیا بنے گا؟ فرمایا: 'فُزتُ وَرَبِّ الکَعبہ' (خدا کی قسم! میں تو بازی جیت گیا۔)" علامہ اقبال کے اشعار: "یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے، جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی۔ دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا، سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی۔" "دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو، عجب چیز ہے لذتِ آشنائی۔" #allamaiqbalpoetry #viral #

About