@user60585051318612: #onthisday

dabroussard
dabroussard
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 08 November 2026 10:52:25 GMT
1
0
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @user60585051318612, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#آج اردو ادب کے بے باک، منفرد اور ہر دلعزیز شاعر جون ایلیا کا یومِ وفات ہے۔ ریختہ فاؤنڈیشن کی طرف سے ہم انہیں عقیدت و احترام کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور ان کے تمام چاہنے والوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ 14 دسمبر 1931 کو امروہہ (بھارت) میں پیدا ہونے والے جون ایلیا تقسیمِ ہند کے بعد کراچی منتقل ہو گئے۔ وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک فلسفی، مفکر اور نثر نگار بھی تھے جنہیں عربی، فارسی اور سنسکرت پر گہری دسترس حاصل تھی۔ ان کی شاعری میں جو ہجر کا درد، تنہائی کا احساس اور معاشرتی رویوں پر بے باک طنز ملتا ہے، وہ اردو ادب میں اپنی مثال آپ ہے۔  جون نے روایتی شاعری سے ہٹ کر اپنی محرومیوں، فلسفے اور باغیانہ لہجے کو الفاظ کا روپ دیا۔ 'شاید'، 'انیل'، 'گویا'، 'لیکن' اور 'فرنود' جیسی کتابیں ان کے منفرد طرزِ فکر کی گواہ ہیں۔ وہ تا عمر اپنے اندر کی تنہائی اور اپنوں سے دوری کے کرب کو جھیلتے رہے، اور یہی درد ان کے ایک ایک شعر سے چھلکتا ہے۔  8 نومبر 2002 کو اردو ادب کا یہ درخشندہ ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا، لیکن ان کے الفاظ آج بھی لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن کر زندہ ہیں۔ ریختہ فاؤنڈیشن ان کی ادبی خدمات کو سلام پیش کرتی ہے۔ خدا ان کے درجات بلند کرے۔ اگر آپ اس پیغام میں **کوئی مخصوص شعر** شامل کرنا چاہتے ہیں یا ریختہ فاؤنڈیشن کی طرف سے **کچھ اور الفاظ** بڑھانا چاہتے ہیں، تو مجھے ضرور بتائیں تاکہ میں اسے مزید بہتر کر دوں۔ #rekhtaofficial #fyppppppppppppppppppppppp #rekhtafoundation #fypシ゚viral " width="135" height="240">
#آج اردو ادب کے بے باک، منفرد اور ہر دلعزیز شاعر جون ایلیا کا یومِ وفات ہے۔ ریختہ فاؤنڈیشن کی طرف سے ہم انہیں عقیدت و احترام کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور ان کے تمام چاہنے والوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ 14 دسمبر 1931 کو امروہہ (بھارت) میں پیدا ہونے والے جون ایلیا تقسیمِ ہند کے بعد کراچی منتقل ہو گئے۔ وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک فلسفی، مفکر اور نثر نگار بھی تھے جنہیں عربی، فارسی اور سنسکرت پر گہری دسترس حاصل تھی۔ ان کی شاعری میں جو ہجر کا درد، تنہائی کا احساس اور معاشرتی رویوں پر بے باک طنز ملتا ہے، وہ اردو ادب میں اپنی مثال آپ ہے۔ جون نے روایتی شاعری سے ہٹ کر اپنی محرومیوں، فلسفے اور باغیانہ لہجے کو الفاظ کا روپ دیا۔ 'شاید'، 'انیل'، 'گویا'، 'لیکن' اور 'فرنود' جیسی کتابیں ان کے منفرد طرزِ فکر کی گواہ ہیں۔ وہ تا عمر اپنے اندر کی تنہائی اور اپنوں سے دوری کے کرب کو جھیلتے رہے، اور یہی درد ان کے ایک ایک شعر سے چھلکتا ہے۔ 8 نومبر 2002 کو اردو ادب کا یہ درخشندہ ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا، لیکن ان کے الفاظ آج بھی لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن کر زندہ ہیں۔ ریختہ فاؤنڈیشن ان کی ادبی خدمات کو سلام پیش کرتی ہے۔ خدا ان کے درجات بلند کرے۔ "میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں" ``` اگر آپ اس پیغام میں **کوئی مخصوص شعر** شامل کرنا چاہتے ہیں یا ریختہ فاؤنڈیشن کی طرف سے **کچھ اور الفاظ** بڑھانا چاہتے ہیں، تو مجھے ضرور بتائیں تاکہ میں اسے مزید بہتر کر دوں۔ #rekhtaofficial #fyppppppppppppppppppppppp #rekhtafoundation #fypシ゚viral

About