@andreagchapa: buenas buenasss 👀🔥 ig:agchapa_ #fyp

andrea chapa
andrea chapa
Open In TikTok:
Region: MX
Saturday 08 May 2021 17:59:34 GMT
191634
27030
112
114

Music

Download

Comments

dpao._
dannita :
O sea ella respira y yo: 🛐
2021-05-08 18:01:13
111
andreagchapa
andrea chapa :
Primera yaaaai
2021-05-08 17:59:42
72
barbsyt
barbi☆ :
UGH TE REZOOO
2021-05-08 18:18:40
13
angeltybur
ViltrumiteMan :
Una Auténtica Pretty Queen 👑✨
2021-05-08 18:02:10
10
goncharlo
Gon :
Estos vídeos deberían estar prohibidos, no puedes ir enamorando a tantas personas
2021-05-08 18:02:04
3
alfonssofficial
Alfonsso :
😍
2021-05-08 19:39:37
3
reginadiaz0203
Regina Díaz 🌷 :
Beauty 🥺🥰
2021-05-08 18:08:05
3
luiscam0
jose camacho :
Wooow😳🥰🥰
2021-05-08 18:20:12
3
iam_manu__
manuuuu<3 :
es verdad que si llegas temprano te saluda
2021-05-08 18:32:10
2
alda_estrada
Alda_Estrada :
Mi mamá me habló de todo tipo de drogas, menos de esa niña de 1.70 Con esos ojitos hermosos y ésa sonrisa perfecta :)
2021-05-08 18:02:52
2
danielg182_
Daniel182 :
21 comentarios en segundos que les pasa aaaaaa
2021-05-08 18:02:29
2
hernanrojas968
Hernan Rojas :
Vaya!! Te vez muy Deslumbrante ❤️❤️❤️
2021-05-08 18:31:42
2
regina_ramos
regina :
Me enamoré buapa
2021-05-08 18:02:08
2
jos_alonso24
Antonio :
Diosaaaa ❤️🤩
2021-05-08 18:19:53
2
xan4444
Xan :
just wonderful
2021-05-08 18:14:36
2
juanpa_larrea
juanpalarrea :
Sos hetero?
2021-05-08 18:18:20
2
regina_ramos
regina :
Ahhh eres tan preciosaaa
2021-05-08 18:01:18
2
sebas_crow
Sebas CL :
Me escupe y yo le pido perdón😅🥴
2021-05-08 18:32:39
1
jesusochoa0206
Cesar Ochoa :
@andreagchapa bellísima 🥰🥰
2021-05-08 22:32:15
1
zack_blink27
Zack_Blink27 :
WOW... el rojo te queda increíble 😁😁😁😁
2021-05-08 22:20:17
1
zack_blink27
Zack_Blink27 :
😳😳😳😳😳😳🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2021-05-08 22:19:56
1
viribarradas02
VIRIDIANA :
Tutoriaaaaaaaaal
2021-05-08 21:41:04
1
To see more videos from user @andreagchapa, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

عنوان:خاموشی کا فلسفہ اور کردار کی ابدی شہادت ننھیال والوں! تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ نہیں کہ ظلم ہوتا رہا، بلکہ یہ ہے کہ ظلم کرنے والے اکثر خود کو انصاف کا علمبردار سمجھتے رہے، جب انسان نے اپنی ذات کو احتساب سے آزاد اور دوسروں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا، تو اسی لمحے اس کی اخلاقی شکست کا آغاز ہو گیا اور یہ شکست باہر سے نہیں، اندر سے جنم لینے والی باطن کی شکست کو محسوس نہیں کرتے، وہ اپنی ظاہری کامیابیوں کے باوجود تاریخ کے صفحات میں عبرت کی مثال بن جاتے ہیں۔ زندگی ایک دریا ہے اور اس کے پانی میں ہر چہرہ ایک لمحے کے لیے دکھائی دیتا ہے مگر صرف وہی چہرہ ہمیشہ باقی رہتا ہے جسے کردار نے تراشا ہو اور باقی سب عکس وقت کی پہلی موج کے ساتھ ٹوٹ جاتے ہیں۔ ننھیال والوں! میں نے برسوں تک آپ سب کو بولتے نہیں، بے نقاب ہوتے دیکھا، میرے کردارکشی کرنے کے پیچھے چھپے ہوئے آپ سب کے ارادوں کو پڑھا، اپنی خاموشی میں چھپے ہوئے طوفانوں کو سنا اور مسکراہٹوں کے پردے میں چھپی ہوئی نفسیات کا مطالعہ کیا، تو تب مجھے معلوم ہوا کہ انسان اپنی زبان سے کم، اپنے رویّے سے زیادہ لکھا جاتا ہے اور کردار وہ تحریر ہے جسے قلم نہیں، زندگی لکھتی ہے۔ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، پہلی وہ جو اپنی شخصیت کو بلند کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو دوسروں کی شخصیت کو گرا کر اپنی بلندی کا وہم پال لیتے ہیں، تو دونوں میں پہلی قسم تاریخ بناتی ہے اور دوسری قسم تاریخ کے حاشیے پر بھی جگہ تک نہیں پاتی ہیں۔ تعجب اس بات پر نہیں کہ انسان خطا کرتا ہے بلکہ تعجب اس بات پر ہے کہ وہ اپنی خطاؤں کے گرد تقدس کا حصار کھینچ لیتا ہے تو وہ اپنے تعصب کو غیرت، اپنی نفرت کو دیانت، اپنے حسد کو حق گوئی اور اپنی کردارکشی کو اصلاح کا نام دینے لگتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ الفاظ کے نام بدل دینے سے حقیقت کا جوہر تبدیل نہیں ہوتا، زہر اگر سونے کے پیالے میں بھی پیش کیا جائے تو زہر ہی رہتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ خاموشی کی صحبت میں گزارا اور یہ خاموشی شکست کی نہیں تھی بلکہ شعور کی تھی، یہ خاموشی کمزوری کی نہیں تھی بلکہ ضبط کی تھی، یہ خاموشی خوف کی نہیں تھی بلکہ بصیرت کی تھی کیونکہ میں جانتا تھا کہ جو شخص ہر تیر کا جواب تیر سے دیتا ہے تووہ کبھی یہ نہیں جان پاتا کہ تیر چلانے والے کے ہاتھ میں لرزش کتنی تھی۔ خاموشی ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں انسان دوسروں سے پہلے خود کو پڑھتا ہے اور جو شخص خود کو پڑھ لے تو وہ دنیا کو سمجھنے لگتا ہے اور جو دنیا کو سمجھ لے پھر وہ انتقام نہیں لیتا بلکہ حقیقت کو وقت کے سپرد کر دیتا ہے۔ وقت...! یہ کائنات کا سب سے عادل قاضی ہے اور اس کی عدالت میں نہ نسب کام آتا ہے، نہ تعلق، نہ شور، نہ ہجوم بس وہاں صرف کردار پیش ہوتا ہے اور وہاں زبانوں کی گواہی نہیں، اعمال کی روشنی بولتی ہے، وہاں وہ شخص بھی بے نقاب ہو جاتا ہے جس نے ساری عمر دوسروں کے چہروں پر نقاب تلاش کیے مگر اپنے چہرے پر پڑی ہوئی خود فریبی کی دبیز تہہ کبھی نہ دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ بعض لوگ اپنی محفلوں کو دوسروں کی کردارکشی سے آباد رکھتے ہیں، انہیں شاید یہ احساس نہیں ہوتا کہ جس مجلس میں غیر حاضر انسان کی عزت پامال کی جاتی ہے تو وہاں حاضر لوگوں کا اخلاق دفن ہو رہا ہوتا ہے اور ایسی محفلیں کسی ایک فرد کی نہیں، پوری تہذیب کی شکست ہوتی ہیں۔ کسی انسان کے بارے میں مسلسل بدگمانی کرنا آسان ہے مگر اپنی نیت کی اصلاح کرنا مشکل اور الزام لگانا آسان ہے مگر دلیل کے سامنے ٹھہرنا مشکل پڑتا ہے اور دوسروں کی عزت پر حملہ کرنا آسان ہے مگر اپنی عزت کو کردار سے بلند کرنا نہایت مشکل اور یہی مشکل انسان کی اصل آزمائش ہے۔ میں آج بھی کسی انسان کو اپنے الفاظ سے محکوم نہیں کرنا چاہتا لیکن میں صرف چند سوال وقت کی دہلیز پر رکھ دینا چاہتا ہوں۔ اگر کسی انسان کے خلاف برسوں تک زبانیں متحرک رہیں مگر اس کے کردار کی روشنی مدھم نہ ہوئی، تو فیصلہ زبانوں کے خلاف ہوگا یا کردار کے خلاف؟ اگر معاشرہ اپنے مشاہدے کی بنیاد پر ایک انسان کا احترام کرے تو کیا محض افواہوں کا شور اس احترام کو ختم کر سکتا ہے؟ اگر ایک شخص اپنی توانائی دوسروں کو گرانے میں صرف کرے اور دوسرا اپنی تعمیر میں، تو وقت کس کے نام کو باقی رکھے گا؟ اگر نئی نسل کو خود احتساب کے بجائے دوسروں کی تحقیر ورثے میں دی جائے تو کیا وہ نسل اخلاق کی معمار بنے گی یا اخلاق کی وارثِ شکست؟ اور آخرکار... جب انسان اپنی آخری سانس لے گا، تو اس کے ساتھ کیا جائے گا؟ اس کی زبان کے جملے؟ یا اس کے کردار کی خوشبو؟ یہ سوال کسی ایک فرد سے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے ساتھ آپ کی پوری ٹبر سے ہیں۔ #MazaqRaatShow #MazaqRaat
عنوان:خاموشی کا فلسفہ اور کردار کی ابدی شہادت ننھیال والوں! تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ نہیں کہ ظلم ہوتا رہا، بلکہ یہ ہے کہ ظلم کرنے والے اکثر خود کو انصاف کا علمبردار سمجھتے رہے، جب انسان نے اپنی ذات کو احتساب سے آزاد اور دوسروں کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا، تو اسی لمحے اس کی اخلاقی شکست کا آغاز ہو گیا اور یہ شکست باہر سے نہیں، اندر سے جنم لینے والی باطن کی شکست کو محسوس نہیں کرتے، وہ اپنی ظاہری کامیابیوں کے باوجود تاریخ کے صفحات میں عبرت کی مثال بن جاتے ہیں۔ زندگی ایک دریا ہے اور اس کے پانی میں ہر چہرہ ایک لمحے کے لیے دکھائی دیتا ہے مگر صرف وہی چہرہ ہمیشہ باقی رہتا ہے جسے کردار نے تراشا ہو اور باقی سب عکس وقت کی پہلی موج کے ساتھ ٹوٹ جاتے ہیں۔ ننھیال والوں! میں نے برسوں تک آپ سب کو بولتے نہیں، بے نقاب ہوتے دیکھا، میرے کردارکشی کرنے کے پیچھے چھپے ہوئے آپ سب کے ارادوں کو پڑھا، اپنی خاموشی میں چھپے ہوئے طوفانوں کو سنا اور مسکراہٹوں کے پردے میں چھپی ہوئی نفسیات کا مطالعہ کیا، تو تب مجھے معلوم ہوا کہ انسان اپنی زبان سے کم، اپنے رویّے سے زیادہ لکھا جاتا ہے اور کردار وہ تحریر ہے جسے قلم نہیں، زندگی لکھتی ہے۔ دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں، پہلی وہ جو اپنی شخصیت کو بلند کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو دوسروں کی شخصیت کو گرا کر اپنی بلندی کا وہم پال لیتے ہیں، تو دونوں میں پہلی قسم تاریخ بناتی ہے اور دوسری قسم تاریخ کے حاشیے پر بھی جگہ تک نہیں پاتی ہیں۔ تعجب اس بات پر نہیں کہ انسان خطا کرتا ہے بلکہ تعجب اس بات پر ہے کہ وہ اپنی خطاؤں کے گرد تقدس کا حصار کھینچ لیتا ہے تو وہ اپنے تعصب کو غیرت، اپنی نفرت کو دیانت، اپنے حسد کو حق گوئی اور اپنی کردارکشی کو اصلاح کا نام دینے لگتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ الفاظ کے نام بدل دینے سے حقیقت کا جوہر تبدیل نہیں ہوتا، زہر اگر سونے کے پیالے میں بھی پیش کیا جائے تو زہر ہی رہتا ہے۔ میں نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ خاموشی کی صحبت میں گزارا اور یہ خاموشی شکست کی نہیں تھی بلکہ شعور کی تھی، یہ خاموشی کمزوری کی نہیں تھی بلکہ ضبط کی تھی، یہ خاموشی خوف کی نہیں تھی بلکہ بصیرت کی تھی کیونکہ میں جانتا تھا کہ جو شخص ہر تیر کا جواب تیر سے دیتا ہے تووہ کبھی یہ نہیں جان پاتا کہ تیر چلانے والے کے ہاتھ میں لرزش کتنی تھی۔ خاموشی ایک ایسی درسگاہ ہے جہاں انسان دوسروں سے پہلے خود کو پڑھتا ہے اور جو شخص خود کو پڑھ لے تو وہ دنیا کو سمجھنے لگتا ہے اور جو دنیا کو سمجھ لے پھر وہ انتقام نہیں لیتا بلکہ حقیقت کو وقت کے سپرد کر دیتا ہے۔ وقت...! یہ کائنات کا سب سے عادل قاضی ہے اور اس کی عدالت میں نہ نسب کام آتا ہے، نہ تعلق، نہ شور، نہ ہجوم بس وہاں صرف کردار پیش ہوتا ہے اور وہاں زبانوں کی گواہی نہیں، اعمال کی روشنی بولتی ہے، وہاں وہ شخص بھی بے نقاب ہو جاتا ہے جس نے ساری عمر دوسروں کے چہروں پر نقاب تلاش کیے مگر اپنے چہرے پر پڑی ہوئی خود فریبی کی دبیز تہہ کبھی نہ دیکھی۔ میں نے دیکھا کہ بعض لوگ اپنی محفلوں کو دوسروں کی کردارکشی سے آباد رکھتے ہیں، انہیں شاید یہ احساس نہیں ہوتا کہ جس مجلس میں غیر حاضر انسان کی عزت پامال کی جاتی ہے تو وہاں حاضر لوگوں کا اخلاق دفن ہو رہا ہوتا ہے اور ایسی محفلیں کسی ایک فرد کی نہیں، پوری تہذیب کی شکست ہوتی ہیں۔ کسی انسان کے بارے میں مسلسل بدگمانی کرنا آسان ہے مگر اپنی نیت کی اصلاح کرنا مشکل اور الزام لگانا آسان ہے مگر دلیل کے سامنے ٹھہرنا مشکل پڑتا ہے اور دوسروں کی عزت پر حملہ کرنا آسان ہے مگر اپنی عزت کو کردار سے بلند کرنا نہایت مشکل اور یہی مشکل انسان کی اصل آزمائش ہے۔ میں آج بھی کسی انسان کو اپنے الفاظ سے محکوم نہیں کرنا چاہتا لیکن میں صرف چند سوال وقت کی دہلیز پر رکھ دینا چاہتا ہوں۔ اگر کسی انسان کے خلاف برسوں تک زبانیں متحرک رہیں مگر اس کے کردار کی روشنی مدھم نہ ہوئی، تو فیصلہ زبانوں کے خلاف ہوگا یا کردار کے خلاف؟ اگر معاشرہ اپنے مشاہدے کی بنیاد پر ایک انسان کا احترام کرے تو کیا محض افواہوں کا شور اس احترام کو ختم کر سکتا ہے؟ اگر ایک شخص اپنی توانائی دوسروں کو گرانے میں صرف کرے اور دوسرا اپنی تعمیر میں، تو وقت کس کے نام کو باقی رکھے گا؟ اگر نئی نسل کو خود احتساب کے بجائے دوسروں کی تحقیر ورثے میں دی جائے تو کیا وہ نسل اخلاق کی معمار بنے گی یا اخلاق کی وارثِ شکست؟ اور آخرکار... جب انسان اپنی آخری سانس لے گا، تو اس کے ساتھ کیا جائے گا؟ اس کی زبان کے جملے؟ یا اس کے کردار کی خوشبو؟ یہ سوال کسی ایک فرد سے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے ساتھ آپ کی پوری ٹبر سے ہیں۔ #MazaqRaatShow #MazaqRaat

About