Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
API
Home
How To Use
Language
English
عربي
Tiếng Việt
русский
français
español
日本語
한글
Deutsch
हिन्दी
简体中文
繁體中文
Home
Detail
@bungdoidoibung1: Ăn hoài khum ngán 🤤
Bụng đói, Đói bụng
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 15 November 2022 10:52:21 GMT
131
0
0
0
Music
Download
No Watermark .mp4 (
1.92MB
)
No Watermark(HD) .mp4 (
1.92MB
)
Watermark .mp4 (
0MB
)
Music .mp3
Comments
There are no more comments for this video.
To see more videos from user @bungdoidoibung1, please go to the Tikwm homepage.
Other Videos
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے قائدِ حزبِ اختلاف اور سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی سے ان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ عمران خان اس وقت ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں، لہٰذا ان کی صحت، سلامتی اور جان کی مکمل ذمہ داری انہیں قید رکھنے والے متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ عمران خان کو کسی بھی قسم کی گزند پہنچنے کی صورت میں اس کی تمام تر ذمہ داری بھی متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی طویل قیدِ تنہائی فوری طور پر ختم کی جائے، انہیں بلا تاخیر ان کے خاندان اور ذاتی معالجین تک مکمل رسائی فراہم کی جائے اور ان کے جامع طبی معائنے اور علاج کے لیے انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ ملاقات میں سلمان اکرم راجہ سیکرٹری جنرل پاکستان تحریکِ انصاف، جنید اکبر خان صدر پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا، عاطف خان رکن قومی اسمبلی، صاحبزادہ صبغت اللہ رکن قومی اسمبلی، انور تاج رکن قومی اسمبلی، ڈاکٹر امجد خان رکن قومی اسمبلی، محبوب شاہ رکن قومی اسمبلی، حسین احمد یوسفزئی ترجمان تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان، اور خالد یوسف چوہدری لیگل کونسل سابق وزیراعظم عمران خان، بھی موجود تھے۔ ملاقات میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے میڈیا میں زیرِ بحث مجوزہ قانون سازی اور آئینی ترمیم پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے واضح کیا کہ موجودہ پارلیمان عوامی مینڈیٹ اور اخلاقی جواز سے محروم ہے، لہٰذا صوبوں کی تشکیل جیسے انتہائی حساس، قومی اہمیت کے حامل اور عوام کے مستقبل سے متعلق معاملات پر قانون سازی یا آئینی ترمیم کا اسے اخلاقی اختیار حاصل نہیں۔ شرکاء نے قرار دیا کہ صوبوں کی تشکیل یا کسی بھی بنیادی آئینی معاملے پر فیصلہ صرف حقیقی عوامی مینڈیٹ، وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔ ملاقات میں کہا گیا کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر اپنی دستوری اور جمہوری تاریخ کے ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ موجودہ صورتحال میں تمام جمہوری قوتوں کو آئین کے تحفظ، جمہوری اقدار کی بحالی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ شرکاء نے واضح کیا کہ جو بھی سیاسی جماعت آئین کے تحفظ، جمہوریت کی بحالی اور حقیقی اپوزیشن کے کردار کی ادائیگی کے لیے ہمارے ساتھ چلنا چاہتی ہے، ہمارے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ ملاقات میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ بہت جلد تمام اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش سیاسی، آئینی، معاشی اور انتظامی مسائل اور موجودہ سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر ایک متفقہ اور مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے اسے وفاقی حکومت کی ناکام اور ناقص سیکیورٹی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں کے باعث دونوں صوبوں کے عوام مسلسل بدامنی، عدم تحفظ اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملاقات میں پاک افغان تجارتی راستوں کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ تجارتی راستوں کی بندش سے سرحدی علاقوں کے ہزاروں تاجروں، کاروباری افراد، مزدوروں، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کا روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل، مقامی معیشت شدید متاثر اور عوام کو ناقابلِ تلافی مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ پاک افغان تجارت سے وابستہ سرحدی علاقوں کی مقامی آبادی کو معاشی طور پر دیوار سے لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وفاقی حکومت اور متعلقہ ذمہ داران سے مطالبہ کیا گیا کہ پاک افغان تجارتی راستوں کو فی الفور بحال کیا جائے اور ایسی پالیسیوں سے اجتناب کیا جائے جو دونوں جانب کے عوام کے جائز تجارتی، کاروباری اور معاشی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مائنز، منرلز اور دیگر قدرتی وسائل پر پہلا حق ان علاقوں کے مقامی لوگوں کا ہے، مگر بدقسمتی سے مقامی آبادی کو اپنے ہی وسائل سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ شرکاء نے قرار دیا کہ مقامی آبادی کو روزگار، تجارت اور اپنے قدرتی وسائل کے ثمرات سے محروم رکھنا ان کے معاشی استحصال اور بنیادی حقوق کی سنگین پامالی کے مترادف ہے۔ قدرتی وسائل سے متعلق کسی بھی پالیسی میں مقامی آبادی کے بنیادی حقوق، معاشی مفادات اور فیصلہ سازی میں ان کی شمولیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے
As he made his way into the Sweet Surprise Café, William was handed a letter by a fan who had come to see him. The cheers and smiles from the crowd made the atmosphere even more special, with so many people excited to welcome him to Ilminster. A lovely moment of connection between Prince William and the people who came out to see him. #princewilliam #princeofwales #princewilliamprinceofwales #royalfamily #royalfamily
He is a genius #neptunesquaremars #fyp #foryou #xyzbca
gg
Draft
About
Robot
API
Legal
Privacy Policy