@qiss2001:

𝓺𝓼 ᥫ᭡
𝓺𝓼 ᥫ᭡
Open In TikTok:
Region: MY
Saturday 13 January 2024 10:40:49 GMT
42722
2554
3
314

Music

Download

Comments

To see more videos from user @qiss2001, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پیمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آگ لگی اور چودہ نوزائیدہ بچے جل کر راکھ ہو گئے۔ یہ کوئی آفتِ آسمانی نہیں تھی۔ یہ سالوں کی مجرمانہ غفلت، نظام کی مکمل ناکامی اور انسانی جان کی بے قدری کا نتیجہ تھا۔ ائر کنڈیشنر میں شارٹ سرکٹ ہوا، آکسیجن لائنز نے آگ کو لمحوں میں بھڑکا دیا، دروازے بند تھے، عملہ موجود نہیں تھا، فائر سیفٹی کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں تھا اور بچے اندھیرے اور دھوئیں میں تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ یہ پاکستان کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں ہوا۔ دارالحکومت کے سب سے اہم طبی ادارے میں۔ جہاں سے امید کی جاتی ہے کہ وہاں کم از کم بنیادی حفاظتی انتظامات موجود ہوں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ سپرنکلر سسٹم تھا، نہ باقاعدہ فائر ڈرلز ہوتی تھیں، نہ ایمرجنسی ایگزٹ درست طریقے سے کام کر رہے تھے۔ والدین دروازے توڑنے کی کوشش کرتے رہے، کچھ نے کھڑکیاں توڑیں، مگر بچے اندر ہی جل گئے۔ یہ محض حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا ق'ت'ل ہے۔ سب سے تلخ بات یہ ہے کہ ایسے سانحے کے بعد صرف عارضی طور پر کسی افسر کو معطل کر دیا جاتا ہے، انکوائری کمیٹیاں بن جاتی ہیں، بیانات جاری ہو جاتے ہیں، اور پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ پی آئی ایم ایس جیسے ادارے میں اگر نوزائیدہ بچوں کی حفاظت نہیں ہو سکی تو عام شہری کہاں محفوظ ہے؟ یہ واقعہ صرف ایک وارڈ کی کہانی نہیں، پورے صحت کے نظام کی ناکامی کی داستان ہے۔ جب ہسپتال خود م'و'ت کا گھر بن جائے تو ریاست کی ذمہ داری کہاں جاتی ہے؟ چودہ چھوٹی چھوٹی لاشیں ہسپتال کے باہر نکالی گئیں۔ والدین چیختے رہے۔ اور نظام پھر سے خاموش ہو گیا۔ یہ غفلت اتفاقی نہیں، یہ عادت بن چکی ہے۔ جب تک احتساب صرف اخباروں کی سرخیوں تک محدود رہے گا، ایسے سانحے دہراتے رہیں گے۔ . . . . . . . . . #khizarsreflections #PIMS #foruyou #foryoupage #viralreels
پیمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آگ لگی اور چودہ نوزائیدہ بچے جل کر راکھ ہو گئے۔ یہ کوئی آفتِ آسمانی نہیں تھی۔ یہ سالوں کی مجرمانہ غفلت، نظام کی مکمل ناکامی اور انسانی جان کی بے قدری کا نتیجہ تھا۔ ائر کنڈیشنر میں شارٹ سرکٹ ہوا، آکسیجن لائنز نے آگ کو لمحوں میں بھڑکا دیا، دروازے بند تھے، عملہ موجود نہیں تھا، فائر سیفٹی کا کوئی باقاعدہ نظام نہیں تھا اور بچے اندھیرے اور دھوئیں میں تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ یہ پاکستان کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں ہوا۔ دارالحکومت کے سب سے اہم طبی ادارے میں۔ جہاں سے امید کی جاتی ہے کہ وہاں کم از کم بنیادی حفاظتی انتظامات موجود ہوں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ سپرنکلر سسٹم تھا، نہ باقاعدہ فائر ڈرلز ہوتی تھیں، نہ ایمرجنسی ایگزٹ درست طریقے سے کام کر رہے تھے۔ والدین دروازے توڑنے کی کوشش کرتے رہے، کچھ نے کھڑکیاں توڑیں، مگر بچے اندر ہی جل گئے۔ یہ محض حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا ق'ت'ل ہے۔ سب سے تلخ بات یہ ہے کہ ایسے سانحے کے بعد صرف عارضی طور پر کسی افسر کو معطل کر دیا جاتا ہے، انکوائری کمیٹیاں بن جاتی ہیں، بیانات جاری ہو جاتے ہیں، اور پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ پی آئی ایم ایس جیسے ادارے میں اگر نوزائیدہ بچوں کی حفاظت نہیں ہو سکی تو عام شہری کہاں محفوظ ہے؟ یہ واقعہ صرف ایک وارڈ کی کہانی نہیں، پورے صحت کے نظام کی ناکامی کی داستان ہے۔ جب ہسپتال خود م'و'ت کا گھر بن جائے تو ریاست کی ذمہ داری کہاں جاتی ہے؟ چودہ چھوٹی چھوٹی لاشیں ہسپتال کے باہر نکالی گئیں۔ والدین چیختے رہے۔ اور نظام پھر سے خاموش ہو گیا۔ یہ غفلت اتفاقی نہیں، یہ عادت بن چکی ہے۔ جب تک احتساب صرف اخباروں کی سرخیوں تک محدود رہے گا، ایسے سانحے دہراتے رہیں گے۔ . . . . . . . . . #khizarsreflections #PIMS #foruyou #foryoupage #viralreels

About