@jadeuchiha99: #jadeuchiha #makeupmysterbox #makeupgiveaways #makeupunboxings

Jade Uchiha
Jade Uchiha
Open In TikTok:
Region: US
Monday 13 May 2024 19:36:09 GMT
558
26
1
0

Music

Download

Comments

juststupidrn
🖤Kaylaaa :
Oooooh beautiful!! love everything 😍
2024-05-13 21:50:48
1
To see more videos from user @jadeuchiha99, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج ہمارے چک میں ایک فوتگی ہوئی۔ جب مجھے اس کا پتا چلا تو میں بھی جنازہ پڑھنے کے لیے وہاں گیا۔ جنازہ پڑھا گیا، پھر میت کو قبرستان لے جایا گیا اور میں بھی تدفین کے لیے ساتھ چلا گیا۔ قبرستان پہنچ کر جب تدفین ہو رہی تھی تو میری نظر اچانک دو چھوٹے بچوں پر پڑی۔ وہ دونوں قبر سے تھوڑا سا دور ایک شخص کے ساتھ کھڑے تھے، اور اس شخص نے دونوں بچوں کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے۔ دونوں بچے خاموش تھے، بس اپنی ماں کی قبر کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اس وقت نہ جانے کیوں میری نظر بار بار انہی بچوں پر جا رہی تھی۔ آس پاس سب لوگ اپنی اپنی مصروفیت میں تھے، کوئی قبر میں مٹی ڈال رہا تھا، کوئی دعا کر رہا تھا، کوئی خاموش کھڑا تھا… مگر وہ دونوں بچے ایسے کھڑے تھے جیسے انہیں ابھی تک سمجھ ہی نہیں آیا کہ ان کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس خیال نے دی کہ انہیں کیا پتا کہ آج وہ یتیم ہو گئے ہیں۔ انہیں کیا معلوم کہ جس ماں کے پاس وہ واپس جانے والے تھے، وہ اب کبھی ان کے ساتھ گھر نہیں جائے گی۔ انہیں کیا معلوم کہ آج کے بعد گھر وہی ہوگا، دیواریں وہی ہوں گی، دروازہ وہی ہوگا، مگر ماں کی آواز نہیں ہوگی۔ انہیں کیا معلوم کہ جب رات کو انہیں ڈر لگے گا تو ماں انہیں سینے سے لگانے کے لیے نہیں ہوگی۔ جب وہ بیمار ہوں گے تو ان کے ماتھے پر ہاتھ رکھنے والی ماں نہیں ہوگی۔ جب انہیں کسی بات پر خوشی ہوگی تو سب سے پہلے ماں کو بتانے کا موقع نہیں ہوگا۔ اور جب زندگی انہیں تھکا دے گی تو ماں کی گود جیسا سکون کہیں نہیں ملے گا۔ وہ دونوں بچے قبر سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے، ایک شخص نے ان کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، شاید وہ انہیں سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر میں، حمزہ، وہاں کھڑا صرف یہی سوچ رہا تھا کہ کسی کے ہاتھ پکڑ لینے سے ماں کی کمی تو پوری نہیں ہو سکتی۔ تدفین مکمل ہو گئی۔ قبر پر مٹی ڈال دی گئی۔ لوگ آہستہ آہستہ واپس جانے لگے۔ لیکن وہ دونوں بچے اب بھی وہیں تھے۔ شاید ان کے ننھے دل ابھی بھی اپنی ماں کو تلاش کر رہے تھے، شاید انہیں یقین تھا کہ وہ ابھی اٹھے گی، انہیں اپنے پاس بلائے گی اور پہلے کی طرح پیار کرے گی۔ مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ آج ان کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا ہمیشہ کے لیے ان سے دور جا چکا ہے۔ میں وہاں کھڑا انہیں دیکھتا رہا اور دل میں بس یہی خیال آتا رہا: “یا اللہ… ان معصوم بچوں کو ابھی یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کس قدر بڑے غم کے ساتھ اس دنیا میں آگے بڑھنے والے ہیں۔” آج ایک ماں قبر میں چلی گئی، مگر اس کے ساتھ صرف ایک زندگی ختم نہیں ہوئی… اس کی جدائی نے دو معصوم بچوں کی پوری دنیا بدل دی۔ لوگ قبرستان سے واپس چلے گئے، مگر وہ دونوں بچے اپنی ماں کی قبر کے پاس کھڑے شاید یہی سوچ رہے تھے کہ ماں اتنی دور کیوں چلی گئی… اور اب ہمیں کون سنبھالے گا؟ اس منظر نے حمزہ کے دل میں ایک بات بہت گہری اتار دی کہ اپنی ماں کی قدر اس وقت کرو جب وہ تمہارے پاس ہے۔ ان کی خدمت کرو، ان کے ساتھ وقت گزارو، ان کی بات سنو اور ان کے دل کو کبھی تکلیف نہ دو۔ کیونکہ ماں دنیا کی وہ نعمت ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر آج بھی ماں کا سایہ موجود ہے۔ اگر آپ کی ماں زندہ ہے تو آج ہی اس کے پاس بیٹھیں، اس کی خدمت کریں، اس کے ہاتھ چومیں اور اس سے دعائیں لیں۔ کیونکہ جب یہ سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے تو انسان کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ایک ایسی کمی رہ جاتی ہے جسے دنیا کی کوئی چیز کبھی پورا نہیں کر سکتی۔ یا اللہ! جن کی مائیں حیات ہیں، انہیں صحت، عافیت اور لمبی عمر عطا فرما، ان کے سروں پر ہمیشہ اپنی ماؤں کا سایہ قائم رکھ اور انہیں اپنی ماؤں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اور جن کی مائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، یا اللہ ان کی کامل مغفرت فرما، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرما اور ان کے بچوں کو صبرِ جمیل عطا فرما۔ یا اللہ! ہماری ماؤں کو ہمارے لیے رحمت بنا کر سلامت رکھ، اور ہمیں اس وقت سے پہلے ان کی قدر کرنے کی توفیق دے جب صرف پچھتاوا باقی رہ جاتا ہے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲
آج ہمارے چک میں ایک فوتگی ہوئی۔ جب مجھے اس کا پتا چلا تو میں بھی جنازہ پڑھنے کے لیے وہاں گیا۔ جنازہ پڑھا گیا، پھر میت کو قبرستان لے جایا گیا اور میں بھی تدفین کے لیے ساتھ چلا گیا۔ قبرستان پہنچ کر جب تدفین ہو رہی تھی تو میری نظر اچانک دو چھوٹے بچوں پر پڑی۔ وہ دونوں قبر سے تھوڑا سا دور ایک شخص کے ساتھ کھڑے تھے، اور اس شخص نے دونوں بچوں کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے۔ دونوں بچے خاموش تھے، بس اپنی ماں کی قبر کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اس وقت نہ جانے کیوں میری نظر بار بار انہی بچوں پر جا رہی تھی۔ آس پاس سب لوگ اپنی اپنی مصروفیت میں تھے، کوئی قبر میں مٹی ڈال رہا تھا، کوئی دعا کر رہا تھا، کوئی خاموش کھڑا تھا… مگر وہ دونوں بچے ایسے کھڑے تھے جیسے انہیں ابھی تک سمجھ ہی نہیں آیا کہ ان کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس خیال نے دی کہ انہیں کیا پتا کہ آج وہ یتیم ہو گئے ہیں۔ انہیں کیا معلوم کہ جس ماں کے پاس وہ واپس جانے والے تھے، وہ اب کبھی ان کے ساتھ گھر نہیں جائے گی۔ انہیں کیا معلوم کہ آج کے بعد گھر وہی ہوگا، دیواریں وہی ہوں گی، دروازہ وہی ہوگا، مگر ماں کی آواز نہیں ہوگی۔ انہیں کیا معلوم کہ جب رات کو انہیں ڈر لگے گا تو ماں انہیں سینے سے لگانے کے لیے نہیں ہوگی۔ جب وہ بیمار ہوں گے تو ان کے ماتھے پر ہاتھ رکھنے والی ماں نہیں ہوگی۔ جب انہیں کسی بات پر خوشی ہوگی تو سب سے پہلے ماں کو بتانے کا موقع نہیں ہوگا۔ اور جب زندگی انہیں تھکا دے گی تو ماں کی گود جیسا سکون کہیں نہیں ملے گا۔ وہ دونوں بچے قبر سے کچھ فاصلے پر کھڑے تھے، ایک شخص نے ان کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے، شاید وہ انہیں سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر میں، حمزہ، وہاں کھڑا صرف یہی سوچ رہا تھا کہ کسی کے ہاتھ پکڑ لینے سے ماں کی کمی تو پوری نہیں ہو سکتی۔ تدفین مکمل ہو گئی۔ قبر پر مٹی ڈال دی گئی۔ لوگ آہستہ آہستہ واپس جانے لگے۔ لیکن وہ دونوں بچے اب بھی وہیں تھے۔ شاید ان کے ننھے دل ابھی بھی اپنی ماں کو تلاش کر رہے تھے، شاید انہیں یقین تھا کہ وہ ابھی اٹھے گی، انہیں اپنے پاس بلائے گی اور پہلے کی طرح پیار کرے گی۔ مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ آج ان کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا ہمیشہ کے لیے ان سے دور جا چکا ہے۔ میں وہاں کھڑا انہیں دیکھتا رہا اور دل میں بس یہی خیال آتا رہا: “یا اللہ… ان معصوم بچوں کو ابھی یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کس قدر بڑے غم کے ساتھ اس دنیا میں آگے بڑھنے والے ہیں۔” آج ایک ماں قبر میں چلی گئی، مگر اس کے ساتھ صرف ایک زندگی ختم نہیں ہوئی… اس کی جدائی نے دو معصوم بچوں کی پوری دنیا بدل دی۔ لوگ قبرستان سے واپس چلے گئے، مگر وہ دونوں بچے اپنی ماں کی قبر کے پاس کھڑے شاید یہی سوچ رہے تھے کہ ماں اتنی دور کیوں چلی گئی… اور اب ہمیں کون سنبھالے گا؟ اس منظر نے حمزہ کے دل میں ایک بات بہت گہری اتار دی کہ اپنی ماں کی قدر اس وقت کرو جب وہ تمہارے پاس ہے۔ ان کی خدمت کرو، ان کے ساتھ وقت گزارو، ان کی بات سنو اور ان کے دل کو کبھی تکلیف نہ دو۔ کیونکہ ماں دنیا کی وہ نعمت ہے جس کا کوئی بدل نہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر آج بھی ماں کا سایہ موجود ہے۔ اگر آپ کی ماں زندہ ہے تو آج ہی اس کے پاس بیٹھیں، اس کی خدمت کریں، اس کے ہاتھ چومیں اور اس سے دعائیں لیں۔ کیونکہ جب یہ سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے تو انسان کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ایک ایسی کمی رہ جاتی ہے جسے دنیا کی کوئی چیز کبھی پورا نہیں کر سکتی۔ یا اللہ! جن کی مائیں حیات ہیں، انہیں صحت، عافیت اور لمبی عمر عطا فرما، ان کے سروں پر ہمیشہ اپنی ماؤں کا سایہ قائم رکھ اور انہیں اپنی ماؤں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اور جن کی مائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، یا اللہ ان کی کامل مغفرت فرما، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند فرما اور ان کے بچوں کو صبرِ جمیل عطا فرما۔ یا اللہ! ہماری ماؤں کو ہمارے لیے رحمت بنا کر سلامت رکھ، اور ہمیں اس وقت سے پہلے ان کی قدر کرنے کی توفیق دے جب صرف پچھتاوا باقی رہ جاتا ہے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲

About