@seaaaa136: ต้องการลูกเขย1อัตรา #สาวใต้ #สวนทุเรียน #ทุเรียน

Txlxy (ทะเล)💗
Txlxy (ทะเล)💗
Open In TikTok:
Region: TH
Wednesday 23 October 2024 09:22:32 GMT
56279
727
3
21

Music

Download

Comments

2._bird2
เสื่อผ้า รองเท้า แฟชั่น :
😢
2025-01-01 16:35:11
0
jakkapatbunrod
幫龍金玄玉桂 :
🥰
2024-10-25 13:56:50
0
2._bird2
เสื่อผ้า รองเท้า แฟชั่น :
🥰
2025-01-01 16:35:14
0
To see more videos from user @seaaaa136, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Part 780:- (سیرتِ خلفائے راشدہ حصہ پینسٹھ) خلیفہ بننے کے بعد سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسجد نبوی تشریف لائے اور منبرِ رسول پر، حضرت ابوبکر صدیق کے مقام کے احترام میں ایک زینہ چھوڑ کر اس سیڑھی پر تشریف فرما ہوئے جس پر حضرت ابو بکر صدیق پاؤں رکھتے تھے صحابہ کرام نے عرض کی اے امیر المومنین اوپر بیٹھ جائیں.... تو فرمایا! میرے لئے یہ کافی ہے کہ مجھے اس مقام پر جگہ مل جائے جہاں سیدنا حضرت صدیق اکبر کے پاؤں رہتے ہوں
Part 780:- (سیرتِ خلفائے راشدہ حصہ پینسٹھ) خلیفہ بننے کے بعد سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسجد نبوی تشریف لائے اور منبرِ رسول پر، حضرت ابوبکر صدیق کے مقام کے احترام میں ایک زینہ چھوڑ کر اس سیڑھی پر تشریف فرما ہوئے جس پر حضرت ابو بکر صدیق پاؤں رکھتے تھے صحابہ کرام نے عرض کی اے امیر المومنین اوپر بیٹھ جائیں.... تو فرمایا! میرے لئے یہ کافی ہے کہ مجھے اس مقام پر جگہ مل جائے جہاں سیدنا حضرت صدیق اکبر کے پاؤں رہتے ہوں" اور پھر آپ نے اپنا پہلا خطبہ دیا جس نے اسلامی ریاست کا بنیادی منشور واضح کر دیا: "اے لوگو! میری سختی اس وقت تک تھی جب تم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا حضرت ابو بکر صدیق کی نرمیوں اور مہربانیوں سے فیضیاب تھے میر ی سختی، نرمی کے ساتھ مل کر اعتدال کی کیفیت پیدا کر دیتی تھی اب میں تم پر سختی نہ کروں گا اب میری سختی صرف ظالموں اور بدکاروں پر ہوگی اسی خطبہ میں آپ نے سوال کیا کہ اے لوگو! اگر میں ”سنت نبوی“ اور ”سیرت صدیقی“ کے خلاف حکم دوں تو تم کیا کرو گے....؟ لوگ کچھ نہ بولے اور خاموش رہے پھر دوبارہ آپ نے یہی سوال دہرایا تو ایک نوجوان تلوار کھینچ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا کہ اس تلوار سے سر کاٹ دیں گے اس پر آپ بہت خوش ہوئے" آپ کے زہد و تقویٰ کی یہ حالت تھی کہ بیت المال میں سے اپنا وظیفہ سب سے کم مقرر کیا جو آپ کی ضرور ت کےلئے بہت کم تھا اور کئی مرتبہ بیت المال سے صرف دو ہی جوڑے کپڑے کے لیتے وہ بھی کسی موٹے اور کھردرے کپڑے کے ہوتے جب وہ پھٹ جاتے تو ان پر چمڑے اور ٹاٹ کے پیوند لگاتے خلافت کی مسند سنبھالتے ہی سیدنا حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ نے جو سب سے پہلا اہم سرکاری و عسکری اقدام کیا وہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو شام کی سپہ سالاری سے ہٹا کر سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو لشکر کا امیر بنانا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا خالد بن ولید کی قیادت میں مسلمانوں کو پے در پے ایسی عظیم الشان فتوحات حاصل ہو رہی تھیں کہ عام مسلمانوں اور نیا نیا اسلام قبول کرنے والوں میں یہ خیال پختہ ہونے لگا تھا کہ "فتح صرف خالد بن ولید کی وجہ سے ہوتی ہے" سیدنا حضرت فاروقِ اعظم کو لوگوں کے ان عقیدوں اور خیالات کے متعلق جب علم ہوا تو وہ چاہتے تھے کہ لوگوں کا ایمان اللہ کی ذات پر پختہ رہے کہ فتح و نصرت کا حقیقی مالک صرف اللہ تعالی ہے خالد کی تلوار نہیں" اس لیے آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر بنا کر بھیجا اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ اس کے بعد فتوحات رک نہیں گئیں بلکہ اللہ نے مزید فتوحات کا دروازہ مسلمانوں پر کھول دیا جب ابو عبیدہ بن الجراح شام پہنچے تو سیدنا خالد بن ولید نے امیر المومنین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حکم کا احترام کرتے ہوئے دل سے آپ کے فیصلے کو قبول کیا اور عوام الناس سے کہا " اس امت کے امین(ابو عبیدہ بن الجراح)کو تمھارا امیر بنا کر بھیجا گیا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: " اس امت کا امین ابو عبیدہ بن جراح ہے " سیدنا ابو عبیدہ نے کہا: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: خالد، اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے اور وہ اپنے قبیلے کا بہترین نوجوان ہے" سبحان اللہ! صحابہ کرام آپس میں شیر و شکر تھے اور ایک دوسرے کے بارے میں صاف دل تھے اس کے بعد حضرت خالد بن ولید عام سپاہی بن کر لڑتے رہے اور دین اسلام کی خدمات سر انجام دیتے رہے پوری دنیا کی تاریخ میں کوئی حکمران ایسا دکھا دو جیسے مدینے کا حکمران خلیفہءِ دوم سیدنا حضرت فاروقِ اعظم تھے خلیفہ بننے کے بعد بھی آپ کی عاجزی و سادگی بے مثال تھی اگر آپ کی معاشرتی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو آپ کی قمیض پر دس دس پیوند لگے ہوتے تھے ایک جوڑا سردی کا تھا ایک جوڑا گرمی کا اور اسی کو دھو دھو کر پہنتے تھے پوری پوری رات گلیوں میں گشت کرتے تھے تاکہ اگر کوئی بھوکا ہو کوئی ضرورت مند ہو یا کوئی مسافر ہو تو اس کی مدد کی جائے دن کو سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے، راتوں کو گلیوں میں گشت کرنے والے، کاندھوں پر پانی کے مشک اٹھا کر لوگوں کی خدمت کرنے والے، مسلمانوں کے سردار امیر المومنین خاک کے فرش پر تکیہ رکھ کر سو جاتے تھے بائیس لاکھ مربع میل سلطنت کے اس حکمران کا کوئی پروٹوکول نہ تھا بازاروں میں، بیابانوں میں کہیں بھی جاتے جریدہ و تنہا جاتے ، باریک کپڑے کی بجائے ٹاٹ کا کپڑا استعمال کرتے، چھنا ہوا آٹا نہ کھاتے، اپنے مکان کا دروازہ کھلا رکھتے اور دروازے پر کوئی دربان مقرر نہ تھا تاکہ اگر کوئی ضرورت مند آئے تو بلا روک ٹوک آئے بیماروں کی عیادت کرتے جنازوں میں شرکت کرتے۔۔۔ جاری ہے۔۔۔ #fypage #foryoupage #islamic_video #islamicpost #hazrat_muhammad_s_a_w_w

About