@iiam.chippp:

chip
chip
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 25 February 2025 14:40:40 GMT
350496
13502
51
3777

Music

Download

Comments

_kmy1201
Mi :
3 năm của t chỉ như trò đùa của m
2025-10-17 11:18:48
56
user1512132938392
thao vy :
6 2026
2026-09-17 06:13:58
0
npne_21
ala :
e sống với anh có tệ kh?
2026-06-08 14:20:46
0
hpdoemkhco
ur gf :
thề cảm giác biết ngta im lặng với mình để qlai với ng cũ 😅
2026-05-05 22:50:24
11
dydy.134
🍄 nhà nấm học 🍄‍🟫 :
2026-06-24 05:37:10
0
vu_minh19
AMinNè :
ng không trân trọng nhưng h kẻ phản bội đời
2026-08-20 10:34:25
0
meomeo_010.0
imuk :
lừa dối tận 3 tháng😞
2026-09-05 05:48:02
0
nairigm
𝙉𝙜𝙏𝙝𝙖𝙣𝙝'𝙨 :
tất cả là lỗi anh
2026-05-28 17:15:43
0
ryyxinhiu204
Lý Thu Đào :
“Bạn đã chấp nhận chịu đau để giữ anh ấy lại”
2025-12-21 18:42:36
8
dtn0110
🍄 :
2026-07-21 03:51:52
0
_tobi.h_
Hao Do :
Ra là vại
2025-03-01 03:48:24
5
mynchau.sunfl_
bbi bị khùm🧸ིྀ :
Cho tới hiện tại, bản thân mình mới biết mình đã từng bảo vệ cho lời nói dối ấy đến mức nào mà k hề hay biết đó thật sự là lời nói dối..
2026-01-06 16:43:22
5
jinnnjijin
Jin Jin :
7 năm. Câu hỏi này đã lặp đi lặp lại vô số lần anh à
2026-05-13 18:50:55
0
kanao._10.11
KANAO!? :
xin cap ạ
2026-05-08 23:06:15
0
qiunh076
nh quynh :
chắc đăng lại qá
2026-03-05 12:26:00
0
tnhew_luv
🤡 :
z hả
2025-02-25 16:46:47
0
feun06
Mai Phương :
why
2026-05-02 14:07:49
1
trgianhi_1508
nhj :
hài vai
2025-12-21 14:40:45
0
hjctes1tg
joep :
tội t vc
2026-09-11 05:56:23
0
fa1ryr0ss._
vi :
em có xứng đáng bị anh đối xử nthe kh
2026-01-27 12:46:29
0
nqoch.anh
A :
câu hỏi mà không biết bao giờ mới được hỏi=))
2026-02-07 11:47:18
0
twjsela
cheris_ng :
tại sao vậy chứ...
2026-02-05 14:41:18
0
izz_.h
h :
k thể hiểu nổi
2025-08-03 02:15:36
0
To see more videos from user @iiam.chippp, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے دل جیت لیے۔  گزشتہ دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی۔ پشاور کی سڑک پر ایک بزرگ بائیکیا ڈرائیور کھڑے تھے۔ ایک شخص ان کے پاس گئے اور پوچھا 'کیا حال ہے؟ اشنغری جانا ہے لیکن میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔' بزرگ نے کہا 'بیٹھ جائیں، خیر ہے، کوئی بات نہیں ہے۔ آپ اچھے ہیں یا پیسے؟'  اس کے بعد ویڈیو بنانے والے شخص نے پوچھا 'کتنے پیسے کمائے آج؟' بزرگ نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا 'یارا، آج تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ بس کھڑے ہیں۔' بات کرنے والے شخص نے بزرگ کی حالت دیکھی تو کہا 'آپ کو تو پسینہ بھی اتنا آیا ہوا ہے، گھر بیٹھیں، اتنے بزرگ ہوگئے ہیں۔' یہ سنتے ہی بزرگ خاموش ہوگئے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس شخص نے پوچھا 'بیٹے ہیں؟' یہ سن کر بزرگ نے سوال نظر انداز کیا اور کہا 'آجائیں، آپ کو چھوڑ آتا ہوں۔'  جب دوبارہ پوچھا گیا کہ 'آنکھوں میں آنسو کیوں آگئے؟' تو بزرگ نے جواب دیا 'بس مجبوری ہے یار۔۔۔' اس شخص نے پوچھا 'کیا مجبوری ہے؟' بزرگ نے بات ٹالتے ہوئے کہا 'چھوڑو یار، یہ باتیں بس اللہ کو پتا ہیں۔' اور پھر بزرگ کی بات درست ثابت ہوئی۔ اللہ کو سب معلوم تھا۔ چند لمحوں کی یہ گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ویڈیو دیکھنے والوں نے بزرگ کی آنکھوں میں چھپی وہ مجبوری دیکھی جسے وہ زبان سے بیان نہیں کر پا رہے تھے۔ اور پھر اسی وائرل ویڈیو نے حکومتی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا سید شہاب علی شاہ نے وائرل ویڈیو کا نوٹس لیا اور بزرگ سے ملاقات کی۔ انہوں نے بزرگ کی محنت اور حوصلے کو سراہا اور ان کے بیٹے کو ملازمت فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردیں۔  بات صرف ایک بزرگ بائیکیا ڈرائیور کی نہیں۔۔۔ بات اس رویے کی ہے جس کی عوام اپنے افسران سے توقع کرتی ہے کیونکہ ایک عہدہ بڑا ہونا اپنی جگہ لیکن کسی مجبور انسان کی آنکھ میں آیا ہوا آنسو دیکھ لینا اس سے کہیں بڑی بات ہے۔۔۔ کاش ہر اختیار رکھنے والا شخص اپنے دفتر کی کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھے۔۔۔ شاید کسی سڑک پر کوئی ایسا ہی بزرگ کھڑا ہو جو زبان سے کچھ نہ کہہ رہا ہو لیکن اس کی آنکھیں بہت کچھ بتا رہی ہوں۔۔۔ ادیب یوسفزئی  #KhyberPakhtunkhwa #viralreelsシ #KPK
۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ نے دل جیت لیے۔ گزشتہ دنوں ایک ویڈیو وائرل ہوئی۔ پشاور کی سڑک پر ایک بزرگ بائیکیا ڈرائیور کھڑے تھے۔ ایک شخص ان کے پاس گئے اور پوچھا 'کیا حال ہے؟ اشنغری جانا ہے لیکن میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔' بزرگ نے کہا 'بیٹھ جائیں، خیر ہے، کوئی بات نہیں ہے۔ آپ اچھے ہیں یا پیسے؟' اس کے بعد ویڈیو بنانے والے شخص نے پوچھا 'کتنے پیسے کمائے آج؟' بزرگ نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا 'یارا، آج تو کچھ بھی نہیں۔۔۔ بس کھڑے ہیں۔' بات کرنے والے شخص نے بزرگ کی حالت دیکھی تو کہا 'آپ کو تو پسینہ بھی اتنا آیا ہوا ہے، گھر بیٹھیں، اتنے بزرگ ہوگئے ہیں۔' یہ سنتے ہی بزرگ خاموش ہوگئے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس شخص نے پوچھا 'بیٹے ہیں؟' یہ سن کر بزرگ نے سوال نظر انداز کیا اور کہا 'آجائیں، آپ کو چھوڑ آتا ہوں۔' جب دوبارہ پوچھا گیا کہ 'آنکھوں میں آنسو کیوں آگئے؟' تو بزرگ نے جواب دیا 'بس مجبوری ہے یار۔۔۔' اس شخص نے پوچھا 'کیا مجبوری ہے؟' بزرگ نے بات ٹالتے ہوئے کہا 'چھوڑو یار، یہ باتیں بس اللہ کو پتا ہیں۔' اور پھر بزرگ کی بات درست ثابت ہوئی۔ اللہ کو سب معلوم تھا۔ چند لمحوں کی یہ گفتگو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ویڈیو دیکھنے والوں نے بزرگ کی آنکھوں میں چھپی وہ مجبوری دیکھی جسے وہ زبان سے بیان نہیں کر پا رہے تھے۔ اور پھر اسی وائرل ویڈیو نے حکومتی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا سید شہاب علی شاہ نے وائرل ویڈیو کا نوٹس لیا اور بزرگ سے ملاقات کی۔ انہوں نے بزرگ کی محنت اور حوصلے کو سراہا اور ان کے بیٹے کو ملازمت فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کردیں۔ بات صرف ایک بزرگ بائیکیا ڈرائیور کی نہیں۔۔۔ بات اس رویے کی ہے جس کی عوام اپنے افسران سے توقع کرتی ہے کیونکہ ایک عہدہ بڑا ہونا اپنی جگہ لیکن کسی مجبور انسان کی آنکھ میں آیا ہوا آنسو دیکھ لینا اس سے کہیں بڑی بات ہے۔۔۔ کاش ہر اختیار رکھنے والا شخص اپنے دفتر کی کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھے۔۔۔ شاید کسی سڑک پر کوئی ایسا ہی بزرگ کھڑا ہو جو زبان سے کچھ نہ کہہ رہا ہو لیکن اس کی آنکھیں بہت کچھ بتا رہی ہوں۔۔۔ ادیب یوسفزئی #KhyberPakhtunkhwa #viralreelsシ #KPK

About