@camabagabut: #CapCut

Cilll
Cilll
Open In TikTok:
Region: ID
Friday 06 June 2025 14:45:26 GMT
3424
206
2
0

Music

Download

Comments

farfans1
F🅰️resriskiandi :
cakepp bgt kakk🔥🔥🔥
2025-06-06 15:10:46
0
lifeafterbreakfasttt
A :
😻
2025-06-06 15:35:31
0
To see more videos from user @camabagabut, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

جب ڈورنڈ لائن کھینچی گئی تو اس میں پشاور کا ذکر تک نہیں تھا، بلکہ افغان امیروں نے خود باجوڑ کے علاقے اسمار، دولت پور، وزیروں کے علاقے برمل، چترال کے زیر تسلط نورستان اور دیر کے زیر اثر کنڑ پر قبضے کیے تھے۔ ​تاریخی دعوؤں، جذباتی نعروں اور لسانی و نسلی تعصب نے سرحد کے دونوں طرف بسنے والے لوگوں، خصوصاً پشتونوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ پچھلے 50 سال سے ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں اور افغان جنگوں کی وجہ سے ہم اس آگ میں جل رہے ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ماضی کی شکایات اور جذباتی نعروں کے بجائے حقائق، ذمہ داری اور مستقبل کی ضرورتوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ مذہب یا پشتون قومیت کے نام پر مسلح گروہوں کی حمایت نے امن کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ معصوم لوگوں کا خون مسجد، مدرسے، حجرے، بازار اور اسکولوں میں بہایا گیا، جو اسلام اور پختون روایت دونوں کے خلاف ہے۔ ​ہم ہر قسم کے لسانی اور نسلی تعصب کے سخت خلاف ہیں۔ پشتونوں کو مذہب، پشتون قومیت، زبان یا نسل کے نام پر تقسیم کرنا انتہائی نقصان دہ ہے۔ پنجابیوں یا دیگر اقوام کے خلاف نفرت انگیز رویے اور افغانستان کے اندر مختلف نسلی گروہوں کے درمیان لسانی تقسیم کی سیاست تباہ کن ہے۔ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے خطبۂ حجۃ الوداع میں واضح تعلیمات عطا فرمائی ہیں کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کسی کالے کو گورے پر کوئی برتری حاصل ہے، سوائے تقویٰ کے۔ نبی کریم ﷺ نے عصبیت اور تعصب کو گندے کیڑے سے تشبیہ دی ہے۔ اس لیے قومیت، زبان اور نسل کو نفرت اور سیاسی مفادات کا ذریعہ بنانے کے بجائے باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے۔ ​پاکستان معاشی لحاظ سے ایک بڑا اور مضبوط ملک ہے جس کی معیشت کا حجم 450 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کی برآمدات پوری دنیا کی منڈیوں تک پہنچتی ہیں، جن میں 19 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ، عالمی سطح پر نمبر ون سرجیکل آلات، کھیلوں کا بہترین سامان اور ذائقہ دار پھل شامل ہیں۔ دوسری طرف، غلط پالیسیوں اور فرضی لکیر کی رٹ لگانے کی وجہ سے پشتون سرحد کے دونوں طرف تباہ ہوا ہے، خواہ وہ پرچمی ہو، خلقی ہو، شوریٰ ہو، کمیونسٹ ہو، مجاہد ہو، طالبان ہو یا امریکہ نواز ہو۔ سب نے پختونوں کو نقصان پہنچایا ہے ، یہ افغانی دنیا میں انسائیت کے نام پر پناہ لیتے ہیں وہاں یہ نہیں بتاتے کہ ہمارا پانچ ہزار سال تاریخ کے  لیکن یہاں لسانی کارڈ کھیلا جاتا ہے۔ دنیا میں زبان اور مذہب کے نام پر سیاست نہیں ہوتی بلکہ انسان کی فلاح پر ہوتی ہے۔ ​سرحدی کشیدگی اور تجارت کی بندش سے سرحد کے دونوں طرف کے تاجروں، کسانوں، مریضوں، طلبہ اور عام شہریوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ پختون کا گڑ اور تمباکو افغانستان نہیں جا سکتا اور نہ وہاں کا انار یہاں آ سکتا ہے۔ تاہم تجارت کی بندش سے پاکستان کو معاشی طور پر کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا بلکہ اسمگلنگ میں کمی آئی ہے اور بعض اشیاء کی قیمتوں پر مثبت اثر پڑا ہے۔ باقاعدہ تجارت اور تعلقات کی بحالی تب ہی ممکن ہے جب افغان حکومت دہشت گردوں اور مسلح گروہوں کے خلاف سنجیدگی سے کارروائی کرے۔ ​پشتون قوم کی اصل غیرت جنگ، اسلحے، بارود اور مسلسل تصادم میں نہیں ہے، بلکہ تعلیم، سائنس، تحقیق، ٹیکنالوجی، کاروبار اور معاشی ترقی میں ہے۔ پشتون نوجوانوں کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، استاد اور محقق بننا چاہیے۔ پنجاب اور پاکستان کی بڑی یونیورسٹیوں میں پشتون وائس چانسلرز اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تعلیم ہی کامیابی، خوشحالی اور قوم کے وقار کی اصل علامت ہے۔ ​ماضی کی غلطیوں اور جذباتی نعروں سے نکل کر ہمیں اپنے بچوں کے روشن، امن پسند اور معاشی طور پر مستحکم مستقبل کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔ #پختونخوا_زماوطن💞_پختونخوا  #لراوبریوافغان  #pakistan  #khyberpakhtunkhwa  #پختون🇦🇫🇵🇰
جب ڈورنڈ لائن کھینچی گئی تو اس میں پشاور کا ذکر تک نہیں تھا، بلکہ افغان امیروں نے خود باجوڑ کے علاقے اسمار، دولت پور، وزیروں کے علاقے برمل، چترال کے زیر تسلط نورستان اور دیر کے زیر اثر کنڑ پر قبضے کیے تھے۔ ​تاریخی دعوؤں، جذباتی نعروں اور لسانی و نسلی تعصب نے سرحد کے دونوں طرف بسنے والے لوگوں، خصوصاً پشتونوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ پچھلے 50 سال سے ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں اور افغان جنگوں کی وجہ سے ہم اس آگ میں جل رہے ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ماضی کی شکایات اور جذباتی نعروں کے بجائے حقائق، ذمہ داری اور مستقبل کی ضرورتوں کو سامنے رکھنا ہوگا۔ مذہب یا پشتون قومیت کے نام پر مسلح گروہوں کی حمایت نے امن کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ معصوم لوگوں کا خون مسجد، مدرسے، حجرے، بازار اور اسکولوں میں بہایا گیا، جو اسلام اور پختون روایت دونوں کے خلاف ہے۔ ​ہم ہر قسم کے لسانی اور نسلی تعصب کے سخت خلاف ہیں۔ پشتونوں کو مذہب، پشتون قومیت، زبان یا نسل کے نام پر تقسیم کرنا انتہائی نقصان دہ ہے۔ پنجابیوں یا دیگر اقوام کے خلاف نفرت انگیز رویے اور افغانستان کے اندر مختلف نسلی گروہوں کے درمیان لسانی تقسیم کی سیاست تباہ کن ہے۔ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اپنے خطبۂ حجۃ الوداع میں واضح تعلیمات عطا فرمائی ہیں کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر، نہ کسی گورے کو کالے پر اور نہ کسی کالے کو گورے پر کوئی برتری حاصل ہے، سوائے تقویٰ کے۔ نبی کریم ﷺ نے عصبیت اور تعصب کو گندے کیڑے سے تشبیہ دی ہے۔ اس لیے قومیت، زبان اور نسل کو نفرت اور سیاسی مفادات کا ذریعہ بنانے کے بجائے باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے۔ ​پاکستان معاشی لحاظ سے ایک بڑا اور مضبوط ملک ہے جس کی معیشت کا حجم 450 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان کی برآمدات پوری دنیا کی منڈیوں تک پہنچتی ہیں، جن میں 19 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ، عالمی سطح پر نمبر ون سرجیکل آلات، کھیلوں کا بہترین سامان اور ذائقہ دار پھل شامل ہیں۔ دوسری طرف، غلط پالیسیوں اور فرضی لکیر کی رٹ لگانے کی وجہ سے پشتون سرحد کے دونوں طرف تباہ ہوا ہے، خواہ وہ پرچمی ہو، خلقی ہو، شوریٰ ہو، کمیونسٹ ہو، مجاہد ہو، طالبان ہو یا امریکہ نواز ہو۔ سب نے پختونوں کو نقصان پہنچایا ہے ، یہ افغانی دنیا میں انسائیت کے نام پر پناہ لیتے ہیں وہاں یہ نہیں بتاتے کہ ہمارا پانچ ہزار سال تاریخ کے لیکن یہاں لسانی کارڈ کھیلا جاتا ہے۔ دنیا میں زبان اور مذہب کے نام پر سیاست نہیں ہوتی بلکہ انسان کی فلاح پر ہوتی ہے۔ ​سرحدی کشیدگی اور تجارت کی بندش سے سرحد کے دونوں طرف کے تاجروں، کسانوں، مریضوں، طلبہ اور عام شہریوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ پختون کا گڑ اور تمباکو افغانستان نہیں جا سکتا اور نہ وہاں کا انار یہاں آ سکتا ہے۔ تاہم تجارت کی بندش سے پاکستان کو معاشی طور پر کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا بلکہ اسمگلنگ میں کمی آئی ہے اور بعض اشیاء کی قیمتوں پر مثبت اثر پڑا ہے۔ باقاعدہ تجارت اور تعلقات کی بحالی تب ہی ممکن ہے جب افغان حکومت دہشت گردوں اور مسلح گروہوں کے خلاف سنجیدگی سے کارروائی کرے۔ ​پشتون قوم کی اصل غیرت جنگ، اسلحے، بارود اور مسلسل تصادم میں نہیں ہے، بلکہ تعلیم، سائنس، تحقیق، ٹیکنالوجی، کاروبار اور معاشی ترقی میں ہے۔ پشتون نوجوانوں کو ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، استاد اور محقق بننا چاہیے۔ پنجاب اور پاکستان کی بڑی یونیورسٹیوں میں پشتون وائس چانسلرز اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تعلیم ہی کامیابی، خوشحالی اور قوم کے وقار کی اصل علامت ہے۔ ​ماضی کی غلطیوں اور جذباتی نعروں سے نکل کر ہمیں اپنے بچوں کے روشن، امن پسند اور معاشی طور پر مستحکم مستقبل کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔ #پختونخوا_زماوطن💞_پختونخوا #لراوبریوافغان #pakistan #khyberpakhtunkhwa #پختون🇦🇫🇵🇰

About