@agresya11:

Stefani_05
Stefani_05
Open In TikTok:
Region: ID
Sunday 08 June 2025 18:23:18 GMT
350
33
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @agresya11, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج سوات کبل میں ہونے والا افسوسناک سانحہ صرف ایک ضلع کا نہیں، بلکہ پورے خیبر پختونخوا کے امن پر ایک اور حملہ ہے۔ باجوڑ سے لیکر وزیرستان تک اور جنوبی اضلاع میں ایک عرصے تو مسلسل بدامنی کی واقعات رونماء ہورہے ہیں، اب بدامنی کی یہ آگ مزید پھیلنے لگا، دیر میں پیش آنے والے واقعے کے بعد اب سوات بھی بدامنی کی لپیٹ میں آ چکی ہیں،  ہم برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں، اور مسلسل اسمبلی کی فلور پر بھی اسے حوالے سے چیخ رہے ہیں، کہ اگر دہشت گردی کے خطرے کو سنجیدگی سے نہ روکا گیا تو اس کی آگ پختونخوا کی دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔ آج حالات ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرا رہے ہیں کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے بدامنی کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات اٹھائے، دہشت گردی کے خلاف واضح اور مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جائے، اور خیبر پختونخوا کے عوام کو وہ امن دیا جائے جس طرح کی امن پنجاب اور سندھ میں ہیں۔ سویلین کے ساتھ ساتھ ھمارے صوبے کی پولیس فورس جو بدامنی کی خلاف فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں، وہ بھی مسلسل انڈر اٹیک ہیں،  صرف رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران دہشت گردی کے حملوں میں 162  پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 2022 سے اب تک شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد 856 تک پہنچ گئی ہے۔یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ 856 خاندان اجڑ گئے۔ ھمارے صوبے کی عوام اور پولیس دونوں غیر محفوظ ہیں، پولیس فورس کے پاس نا جدید اسلحہ ہیں، اور نا انکی ٹریننگ دھشت گردی کے خلاف جنگ کیلے کی گئے ہیں، بدامنی کی روک تھام سیکورٹی فورسز کی آئینی فرض اور بنیادی زمداری ہیں،  سوات سانحے کے شہداء کے درجات بلند ہوں، زخمیوں کو اللہ تعالیٰ جلد مکمل شفا عطا فرمائے، اور متاثرہ خاندانوں کو صبرِ جمیل دے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان  #swat
آج سوات کبل میں ہونے والا افسوسناک سانحہ صرف ایک ضلع کا نہیں، بلکہ پورے خیبر پختونخوا کے امن پر ایک اور حملہ ہے۔ باجوڑ سے لیکر وزیرستان تک اور جنوبی اضلاع میں ایک عرصے تو مسلسل بدامنی کی واقعات رونماء ہورہے ہیں، اب بدامنی کی یہ آگ مزید پھیلنے لگا، دیر میں پیش آنے والے واقعے کے بعد اب سوات بھی بدامنی کی لپیٹ میں آ چکی ہیں، ہم برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں، اور مسلسل اسمبلی کی فلور پر بھی اسے حوالے سے چیخ رہے ہیں، کہ اگر دہشت گردی کے خطرے کو سنجیدگی سے نہ روکا گیا تو اس کی آگ پختونخوا کی دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔ آج حالات ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی کرا رہے ہیں کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بجائے بدامنی کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات اٹھائے، دہشت گردی کے خلاف واضح اور مؤثر حکمتِ عملی اپنائی جائے، اور خیبر پختونخوا کے عوام کو وہ امن دیا جائے جس طرح کی امن پنجاب اور سندھ میں ہیں۔ سویلین کے ساتھ ساتھ ھمارے صوبے کی پولیس فورس جو بدامنی کی خلاف فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں، وہ بھی مسلسل انڈر اٹیک ہیں، صرف رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران دہشت گردی کے حملوں میں 162 پولیس اہلکار شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 2022 سے اب تک شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد 856 تک پہنچ گئی ہے۔یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ 856 خاندان اجڑ گئے۔ ھمارے صوبے کی عوام اور پولیس دونوں غیر محفوظ ہیں، پولیس فورس کے پاس نا جدید اسلحہ ہیں، اور نا انکی ٹریننگ دھشت گردی کے خلاف جنگ کیلے کی گئے ہیں، بدامنی کی روک تھام سیکورٹی فورسز کی آئینی فرض اور بنیادی زمداری ہیں، سوات سانحے کے شہداء کے درجات بلند ہوں، زخمیوں کو اللہ تعالیٰ جلد مکمل شفا عطا فرمائے، اور متاثرہ خاندانوں کو صبرِ جمیل دے۔ عوامی نیشنل پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان #swat

About