@ali.debortoli: Io la sapevo già questa canzone per merito al mio fidanzato ciao

Alice De Bortoli
Alice De Bortoli
Open In TikTok:
Region: IT
Thursday 12 June 2025 06:47:59 GMT
293271
30919
23
106

Music

Download

Comments

riccardolovullo
Riki❄️ :
Quanto la soffro
2025-06-12 10:47:25
83
now.marta
Marta ☆ :
La più bona
2025-06-12 10:07:05
57
marta.travaglinii19
marta :
semplicemente stupenda
2025-06-12 15:25:19
3
matteo_carminati_9
matteocarminati93 :
Messi 2022 + Cristiano Ronaldo 2017
2025-06-12 07:38:23
5
marty22929
_martiilliano_ :
No bro non la posso conoscere
2025-06-12 09:38:47
7
mike_the90
Mike- the90 :
Più della Champions League ❤️
2025-06-12 16:59:04
1
sophi3f___
Sophie Frey 🤍🇫🇷 :
Ciaooo alii
2025-06-12 06:53:06
2
eriona._.berisha
𝑬𝒓𝒊𝒐𝒏𝒂 :
ma la bellezza 😍😍
2025-06-21 05:41:46
0
serenahauc
serena :
dal colleggio
2025-06-12 18:09:19
3
388tehhk6vo
388tehhk6vo :
not the end
2025-06-12 20:57:27
5
lidiamessinaa2
lidiamessinaa2 :
😘😘😘
2025-06-16 19:41:58
0
aliceyeah7
Aliciona :
🥰🥰🥰
2025-06-19 19:31:12
0
emmaoberti
emmaa :
🍀🍀🍀
2025-06-17 14:30:42
0
claudiogervasio1
Claudio Gervasio :
☺️
2025-06-12 10:42:06
0
vic96rus
Victor Russo :
🔥🔥🔥
2025-06-13 14:32:15
0
kurghenbzz
Kurghen :
😁
2025-07-06 20:43:19
0
ninacastelloo
ninaaas :
😭😭😭
2025-06-22 15:59:43
0
daniele_santiag05
Daniel :
Quanto ti soffro😍😂
2025-06-12 07:00:29
1
user_67_67
user898989 :
spoiler: è lei la Champions League 😂
2025-06-12 08:27:57
1
stebunny_
Ste :
5 a 0🤡🤡🤡
2025-06-12 11:44:02
0
davidepuzio0
davidee :
sta tornando nel prime
2025-06-12 12:51:41
0
To see more videos from user @ali.debortoli, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

۔ مقصد یہ تھا کہ پشتون اپنی مادری زبان اور تعلیم سے دور ہو جائیں۔ یہ پشتون دھرتی اور ثقافت کو کچلنے کا ایک منظم برطانوی منصوبہ تھا۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق، 1901ء میں جب پشتونخوا الگ صوبہ بنا، تو پہلے چیف کمشنر سر ہیرالڈ ڈین نے وائسرائے کو خفیہ خط لکھا:
۔ مقصد یہ تھا کہ پشتون اپنی مادری زبان اور تعلیم سے دور ہو جائیں۔ یہ پشتون دھرتی اور ثقافت کو کچلنے کا ایک منظم برطانوی منصوبہ تھا۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق، 1901ء میں جب پشتونخوا الگ صوبہ بنا، تو پہلے چیف کمشنر سر ہیرالڈ ڈین نے وائسرائے کو خفیہ خط لکھا: "اگر ان افغانوں کو پشتو میں تعلیم دی گئی، تو ان کا قومی فخر کبھی ختم نہیں ہوگا اور یہ ہمارے لیے خطرہ رہیں گے۔ ان پر قابو پانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پشتو کو اسکولوں اور سرکاری دفاتر سے نکال دیا جائے۔" اس چال کے تحت پشتو کے بجائے اردو کو زبردستی اسکولوں کی زبان بنا دیا گیا، جبکہ اس وقت وہاں اردو کوئی نہیں جانتا تھا۔ انگریز نے ایک طرف عام پشتونوں کے لیے تعلیم کا راستہ روکا، اور دوسری طرف اپنے وفادار خان بہادروں کے بچوں کے لیے ایڈورڈز اور اسلامیہ کالج بنا کر انگریزی نافذ کر دی۔ یہ بالکل ویسا ہی وار تھا جیسا 1849ء میں پنجاب پر قبضے کے بعد وہاں کے مقامی تعلیمی نظام کو مٹانے کے لیے کیا گیا تھا۔ جب انگریز کی اس سازش نے پشتونوں کو ان پڑھ بنانا شروع کیا، تو خان عبدالغفار خان (باچا خان) نے اس خطرے کو بھانپ لیا۔ انہوں نے 1921ء میں پورے صوبے میں "آزاد اسکول" کھولے، جہاں بچوں کو ان کی مادری زبان پشتو میں پڑھایا جانے لگا۔ بالکل اسی وقت جنوبی پشتونخوا (بلوچستان) میں خان عبدالصمد خان اچکزئی (خانِ شہید) نے بھی یہی کام شروع کیا اور پشتونوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم، املا اور بیداری سے جوڑا۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ جو قوم اپنی زبان بھول جائے، وہ اپنی غیرت اور تاریخ بھی کھو دیتی ہے۔ انگریز سرکار اس بیداری سے اتنی ڈر گئی کہ اسکول بند کر دیے، اساتذہ کو جیلوں میں ڈالا اور ان رہنماؤں کو سخت قید کی سزا دی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ 1947ء میں انگریز کے جانے کے بعد بھی یہ پالیسی نہیں بدلی اور پنجابی مقتدرہ (اسٹیبلشمنٹ) نے اسی طریقے کو جاری رکھا۔ "ایک زبان، ایک قوم" کے زبردستی نفاذ کے لیے پشتو، سندھی اور بلوچی کو پیچھے دھکیل دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آج کا پشتون بچہ گھر میں پشتو بولتا ہے، اسکول میں اردو پڑھتا ہے اور نوکری کے لیے انگریزی کا محتاج ہے۔ اسی لسانی ظلم نے پشتونوں کو اپنی ہی دھرتی پر اجنبی اور مقتدرہ کا دستِ نگر بنا دیا ہے۔ آج اگر پشتو زبان زندہ سلامت ہم تک پہنچی ہے، تو یہ ان عظیم پشتون رہنماؤں، شاعروں اور ادیبوں کی وجہ سے ہے جنہوں نے تمام خطروں، ریاستی سختیوں اور جیلوں کے باوجود اس کا وجود برقرار رکھا۔ ہم دل سے شکرگزار ہیں باچا خان، خان شہید عبدالصمد خان اور قاضی عطا اللہ کی تعلیمی محنتوں کے، حمزہ بابا کی لافانی غزلوں کے، غنی خان کے انقلابی فلسفے کے، قلندر مومند کی علمی تحقیق کے، اجمل خٹک کی لرزہ خیز نظموں کے، اور جنوبی پشتونخوا میں سائیں کمال خان شیرانی کی انتھک فکری جدوجہد کے۔ ان سب محسنوں نے انگریز اور (پنجابی) مقتدرہ کے لسانی ظلم کے خلاف اپنے قلم کو مورچہ بنائے رکھا۔ سلامِ عقیدت ان تمام اساتذہ اور ادیبوں کو جنہوں نے پشتو زبان کو مٹنے نہیں دیا۔ #foryoupage❤️❤️ #ilyaskhankp #walikhan #bachakhan #ANP @Aimal Wali Khan @Nisar Baaz 🦅

About