@dermbeautydoc: Why is everything so droopy 😫

✨🩺Dr.Howard-Verović🩺✨
✨🩺Dr.Howard-Verović🩺✨
Open In TikTok:
Region: US
Thursday 10 July 2025 16:30:46 GMT
62321
1670
125
93

Music

Download

Comments

taysoalias
Tavia :
I do the is in my 30s hehe 😜
2025-07-10 16:37:45
25
sheeshpow
Mariah :
Girl 40’s where?!
2025-07-10 16:34:39
33
rii_.1227
rii_.1227 :
You’re one of the most beautiful women I’ve seen I hope my beauty sustains the way yours has when I’m your age💕💕💕
2025-07-10 16:36:51
7
shaivarmu
Shai :
Late 40
2025-09-02 13:51:07
0
nicolec___
Cole 🌹 :
Gosh, this is me! 🙈🤦🏽‍♀️🤣🤣🤣
2025-07-10 16:35:44
1
page.green6
Page Green :
Okay so when is my appointment 🤣🤣🤣💚💚💚
2025-07-10 16:46:14
2
queen.j236790
Queen J :
can you fix it though
2025-08-16 10:20:10
1
ghazymount
Ghazy :
Tell me what to do please?
2025-07-11 16:11:26
2
skinsaviornyc
Morgan | Brooklyn Esthetician :
Me but in my mid 20s😂😩
2025-07-10 17:53:04
1
danith0617
user5549543078581 :
Omg!! Literally me!!🙄
2025-07-11 18:52:45
3
sobeautiful76
Tasha Sobeautiful Reddick :
Just trying to visit my younger self, ion remember her no moe 🤣
2025-07-12 03:55:22
10
shayeshizzo
Mrs. Burgado-González :
Omg you have been watching me. 😭🤣
2025-08-01 00:02:57
2
iamjadapen
jadapen :
You look amazing
2025-07-10 22:51:18
2
_danaoliver
_danaoliver :
Turning 40 next month and I need to ramp up my game 😂😂
2025-07-11 12:59:41
4
jasamazink
JassAmazInk ♑️ :
😩 yes … 49 here
2025-07-11 20:46:49
1
luxuriouspassport
Alexandria :
I don’t but my pores are so large like dang how do i fix my skin
2025-07-11 17:38:26
1
theworthonomicscompany
Rai Lachelle :
every single day 😆😆😆
2025-07-10 20:27:00
1
thehandwritingartist
thehandwritingartist :
So me 🤣
2025-07-11 16:11:00
1
dreakiss
Dreakiss_808 :
I do the same thing - i thought I was the only one ❤️
2025-08-23 13:14:25
1
myciaj
MyciaJ :
🤣🤣🤣 I don’t care that too… like just a little lift and look
2025-07-31 01:52:26
1
expatnurse45
Nurse Consultant :
Yes, I do. Just got tox yesterday. 🥰🥰🥰
2025-07-11 12:48:49
1
imhighly_favored
imhighly_favored :
Omg, I’m doing this daily, as if it will just magically stick in place 🤦‍♀️
2025-07-11 19:44:16
1
mkovac18
Maria_kovac :
All the time lol
2025-08-26 17:39:34
0
flor174767
fiordelacruz290 :
Ok , so I’m not the only one? Thank you I feel much better now 😉😂
2025-08-26 12:09:02
0
wtw1985
What the what :
Sculptra! 👑
2025-08-19 03:55:59
0
To see more videos from user @dermbeautydoc, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میرا نام مہرین ہے۔ میری بیٹی عنایہ چھ سال کی ہے۔ وہ اسلام آباد کے ایک مشہور نجی سکول میں پڑھتی تھی۔ بڑا گیٹ، صاف کلاس رومز، مہنگی فیس، اور والدین کو مطمئن کر دینے والا ماحول۔ مگر چند ہفتوں سے عنایہ بدلنے لگی تھی۔ صبح سکول کا نام آتے ہی اُس کا چہرہ اتر جاتا۔ “امی، آج سکول نہ جائیں؟” “امی، پیٹ میں درد ہے۔” “امی، مس شازیہ غصہ کرتی ہیں۔” میں نے ہر بار یہی سمجھا کہ نئی کلاس ہے، عادت ہو جائے گی۔ پھر اُس شام میں اسے نہلا رہی تھی۔ میں نے اُس کا بازو اٹھایا تو میری سانس رک گئی۔ اوپر بازو پر چار نیلے نشان تھے۔ بالکل انگلیوں جیسے۔ میں نے بہت نرمی سے پوچھا: “عنایہ، یہ کس نے کیا؟” وہ فوراً چپ ہو گئی۔ نظریں جھکا لیں۔ پھر بہت آہستہ سے بولی: “مس شازیہ۔” میرے اندر جیسے سب کچھ جم گیا۔ “کب؟” “جب میں نے کاپی غلط صفحے پر کھول لی تھی۔” پھر اُس نے فوراً میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ “امی، سکول میں مت بتانا۔ مس نے کہا تھا کوئی یقین نہیں کرے گا۔” اُس رات میں نے اُس کے بازو کی تصویریں لیں۔ تاریخ کے ساتھ۔ اگلی صبح میں اپنے شوہر عادل کے ساتھ عنایہ کو لے کر سکول گئی۔ پرنسپل مسز نادیہ قریشی نے ہمیں بٹھایا اور بہت نرم لہجے میں کہا: “عنایہ بہت حساس بچی ہے۔ بعض بچے معمولی ڈانٹ کو بھی دل پر لے لیتے ہیں۔” میں نے فون اُن کے سامنے رکھ دیا۔ تصویر کھولی۔ عنایہ کے بازو پر انگلیوں کے نشان صاف نظر آ رہے تھے۔ میں نے کہا: “یہ ڈانٹ نہیں ہے۔ یہ ہاتھ ہے۔” عادل نے بھی سخت لہجے میں کہا: “ہمیں کلاس روم کی سی سی ٹی وی فوٹیج چاہیے۔” پرنسپل کا لہجہ فوراً بدل گیا۔ “یہ ممکن نہیں۔ سکول پالیسی اجازت نہیں دیتی۔” اسی وقت مس شازیہ اندر آئیں۔ انہوں نے عنایہ کی طرف جھک کر کہا: “بیٹا، امی ابو کو بتاؤ نا، مس آپ سے پیار کرتی ہیں؟” عنایہ فوراً میرے پیچھے چھپ گئی۔ اُس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ عادل نے یہ دیکھا تو اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پرنسپل نے بات سنبھالنے کی کوشش کی۔ “دیکھیے، آپ پہلے والدین نہیں ہیں جو ایسی شکایت لے کر آئے ہیں۔ سکول کا نام خراب کرنے سے پہلے سوچ لیجیے گا۔” میں نے فوراً پوچھا: “پہلے والدین نہیں؟” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ اُنہیں احساس ہو چکا تھا کہ زبان پھسل گئی ہے۔ عادل نے بہت سکون سے کہا: “تو اس کا مطلب ہے شکایت پہلے بھی آئی ہے۔ اب معاملہ صرف ہماری بچی کا نہیں رہا۔” ہم وہاں سے نکل آئے۔ اس بار ہم خاموش نہیں رہے۔ سب سے پہلے عنایہ کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ میڈیکل رپورٹ بنوائی۔ پھر اُس رات عنایہ نے مجھے ایک اور بات بتائی۔ “امی… حورین کو بھی مس شازیہ نے ایسے ہی پکڑا تھا۔” حورین اُس کی کلاس فیلو تھی جو دو ہفتے پہلے اچانک سکول چھوڑ گئی تھی۔ اگلے دن عادل نے حورین کے والد کا نمبر پرانے والدین گروپ سے ڈھونڈا۔ جب ہم نے بات کی تو دوسری طرف لمبی خاموشی ہوئی۔ پھر حورین کی امی روتے ہوئے بولیں: “ہماری بچی نے بھی یہی بتایا تھا… مگر سکول نے کہا وہ بہت حساس ہے۔” اسی دن ہم دونوں خاندان ملے۔ عنایہ کے بازو کی تصویریں تھیں۔ حورین کی پرانی تصاویر تھیں۔ دونوں بچیوں کی باتیں ایک جیسی تھیں۔ دونوں کو ڈرایا گیا تھا۔ دونوں کو کہا گیا تھا: “گھر میں بتایا تو کوئی یقین نہیں کرے گا۔” اب یہ صرف شکایت نہیں رہی تھی۔ یہ ثبوت بن چکا تھا۔ ہم نے مل کر چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن پر شکایت کی۔ ایجوکیشن اتھارٹی کو درخواست دی۔ پولیس میں رپورٹ جمع کروائی۔ اور سکول کو قانونی نوٹس بھجوایا۔ دو دن بعد ایک تیسرا والد بھی سامنے آ گیا۔ اُس کے بچے نے بھی شکایت کی سکول نے پہلے اسے غلط فہمی کہا۔ پھر اندرونی انکوائری کی ۔ اور آخرکار جب دباؤ بڑھا تو مس شازیہ کو کلاس سے ہٹا دیا گیا۔ سی سی ٹی وی کی مکمل فوٹیج تو ہمیں نہ دی گئی، مگر اتنا ضرور سامنے آ گیا کہ شکایت صرف ہماری نہیں تھی۔ پرنسپل کے خلاف بھی کارروائی شروع ہوئی، کیونکہ شکایات پہلے سے موجود تھیں اور دبائی جا رہی تھیں۔ عنایہ نے سکول بدل دیا۔ شروع کے دن آسان نہیں تھے۔ نئے سکول کے گیٹ پر وہ میرا ہاتھ زور سے پکڑتی اور پوچھتی: “امی، یہ والی میم اچھی ہیں نا؟” میں ہر بار جھک کر کہتی: “بیٹا، اگر کوئی بھی تمہیں ڈرائے، ہاتھ لگائے، یا کہے کہ امی ابو کو نہ بتانا… تو سب سے پہلے ہمیں بتانا۔” آہستہ آہستہ اُس کی ہنسی واپس آنے لگی۔ وہ گاڑی میں پھر نظمیں پڑھنے لگی۔ ایک دن گھر آ کر بولی: “امی، آج میں نے کلاس میں نظم سنائی۔” میں نے اُسے سینے سے لگا لیا۔ کیونکہ وہ صرف نظم نہیں تھی۔ وہ میری بچی کی واپسی تھی ماں باپ کیلئے سب سے بڑا درد یہ نہیں ہوتا کہ بچہ زخمی ہوا۔ سب سے بڑا درد یہ ہوتا ہے کہ بچہ کئی دن ڈرتا رہا… اور ہم اُسے نخرہ سمجھتے رہے۔ میں نے ایک بات سیکھ لی ہے۔ جب بچہ بار بار کہے “پیٹ درد ہے۔” “سکول نہیں جانا۔” “میم اچھی نہیں لگتیں۔” تو اسے ہمیشہ ضد نہ سمجھیں۔ بچوں کو صرف بڑے سکولوں میں داخل نہ کروائیں۔ اُنہیں یہ یقین بھی دیں کہ اُن کی بات گھر میں سنی جائے گی
میرا نام مہرین ہے۔ میری بیٹی عنایہ چھ سال کی ہے۔ وہ اسلام آباد کے ایک مشہور نجی سکول میں پڑھتی تھی۔ بڑا گیٹ، صاف کلاس رومز، مہنگی فیس، اور والدین کو مطمئن کر دینے والا ماحول۔ مگر چند ہفتوں سے عنایہ بدلنے لگی تھی۔ صبح سکول کا نام آتے ہی اُس کا چہرہ اتر جاتا۔ “امی، آج سکول نہ جائیں؟” “امی، پیٹ میں درد ہے۔” “امی، مس شازیہ غصہ کرتی ہیں۔” میں نے ہر بار یہی سمجھا کہ نئی کلاس ہے، عادت ہو جائے گی۔ پھر اُس شام میں اسے نہلا رہی تھی۔ میں نے اُس کا بازو اٹھایا تو میری سانس رک گئی۔ اوپر بازو پر چار نیلے نشان تھے۔ بالکل انگلیوں جیسے۔ میں نے بہت نرمی سے پوچھا: “عنایہ، یہ کس نے کیا؟” وہ فوراً چپ ہو گئی۔ نظریں جھکا لیں۔ پھر بہت آہستہ سے بولی: “مس شازیہ۔” میرے اندر جیسے سب کچھ جم گیا۔ “کب؟” “جب میں نے کاپی غلط صفحے پر کھول لی تھی۔” پھر اُس نے فوراً میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ “امی، سکول میں مت بتانا۔ مس نے کہا تھا کوئی یقین نہیں کرے گا۔” اُس رات میں نے اُس کے بازو کی تصویریں لیں۔ تاریخ کے ساتھ۔ اگلی صبح میں اپنے شوہر عادل کے ساتھ عنایہ کو لے کر سکول گئی۔ پرنسپل مسز نادیہ قریشی نے ہمیں بٹھایا اور بہت نرم لہجے میں کہا: “عنایہ بہت حساس بچی ہے۔ بعض بچے معمولی ڈانٹ کو بھی دل پر لے لیتے ہیں۔” میں نے فون اُن کے سامنے رکھ دیا۔ تصویر کھولی۔ عنایہ کے بازو پر انگلیوں کے نشان صاف نظر آ رہے تھے۔ میں نے کہا: “یہ ڈانٹ نہیں ہے۔ یہ ہاتھ ہے۔” عادل نے بھی سخت لہجے میں کہا: “ہمیں کلاس روم کی سی سی ٹی وی فوٹیج چاہیے۔” پرنسپل کا لہجہ فوراً بدل گیا۔ “یہ ممکن نہیں۔ سکول پالیسی اجازت نہیں دیتی۔” اسی وقت مس شازیہ اندر آئیں۔ انہوں نے عنایہ کی طرف جھک کر کہا: “بیٹا، امی ابو کو بتاؤ نا، مس آپ سے پیار کرتی ہیں؟” عنایہ فوراً میرے پیچھے چھپ گئی۔ اُس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ عادل نے یہ دیکھا تو اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پرنسپل نے بات سنبھالنے کی کوشش کی۔ “دیکھیے، آپ پہلے والدین نہیں ہیں جو ایسی شکایت لے کر آئے ہیں۔ سکول کا نام خراب کرنے سے پہلے سوچ لیجیے گا۔” میں نے فوراً پوچھا: “پہلے والدین نہیں؟” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ اُنہیں احساس ہو چکا تھا کہ زبان پھسل گئی ہے۔ عادل نے بہت سکون سے کہا: “تو اس کا مطلب ہے شکایت پہلے بھی آئی ہے۔ اب معاملہ صرف ہماری بچی کا نہیں رہا۔” ہم وہاں سے نکل آئے۔ اس بار ہم خاموش نہیں رہے۔ سب سے پہلے عنایہ کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ میڈیکل رپورٹ بنوائی۔ پھر اُس رات عنایہ نے مجھے ایک اور بات بتائی۔ “امی… حورین کو بھی مس شازیہ نے ایسے ہی پکڑا تھا۔” حورین اُس کی کلاس فیلو تھی جو دو ہفتے پہلے اچانک سکول چھوڑ گئی تھی۔ اگلے دن عادل نے حورین کے والد کا نمبر پرانے والدین گروپ سے ڈھونڈا۔ جب ہم نے بات کی تو دوسری طرف لمبی خاموشی ہوئی۔ پھر حورین کی امی روتے ہوئے بولیں: “ہماری بچی نے بھی یہی بتایا تھا… مگر سکول نے کہا وہ بہت حساس ہے۔” اسی دن ہم دونوں خاندان ملے۔ عنایہ کے بازو کی تصویریں تھیں۔ حورین کی پرانی تصاویر تھیں۔ دونوں بچیوں کی باتیں ایک جیسی تھیں۔ دونوں کو ڈرایا گیا تھا۔ دونوں کو کہا گیا تھا: “گھر میں بتایا تو کوئی یقین نہیں کرے گا۔” اب یہ صرف شکایت نہیں رہی تھی۔ یہ ثبوت بن چکا تھا۔ ہم نے مل کر چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن پر شکایت کی۔ ایجوکیشن اتھارٹی کو درخواست دی۔ پولیس میں رپورٹ جمع کروائی۔ اور سکول کو قانونی نوٹس بھجوایا۔ دو دن بعد ایک تیسرا والد بھی سامنے آ گیا۔ اُس کے بچے نے بھی شکایت کی سکول نے پہلے اسے غلط فہمی کہا۔ پھر اندرونی انکوائری کی ۔ اور آخرکار جب دباؤ بڑھا تو مس شازیہ کو کلاس سے ہٹا دیا گیا۔ سی سی ٹی وی کی مکمل فوٹیج تو ہمیں نہ دی گئی، مگر اتنا ضرور سامنے آ گیا کہ شکایت صرف ہماری نہیں تھی۔ پرنسپل کے خلاف بھی کارروائی شروع ہوئی، کیونکہ شکایات پہلے سے موجود تھیں اور دبائی جا رہی تھیں۔ عنایہ نے سکول بدل دیا۔ شروع کے دن آسان نہیں تھے۔ نئے سکول کے گیٹ پر وہ میرا ہاتھ زور سے پکڑتی اور پوچھتی: “امی، یہ والی میم اچھی ہیں نا؟” میں ہر بار جھک کر کہتی: “بیٹا، اگر کوئی بھی تمہیں ڈرائے، ہاتھ لگائے، یا کہے کہ امی ابو کو نہ بتانا… تو سب سے پہلے ہمیں بتانا۔” آہستہ آہستہ اُس کی ہنسی واپس آنے لگی۔ وہ گاڑی میں پھر نظمیں پڑھنے لگی۔ ایک دن گھر آ کر بولی: “امی، آج میں نے کلاس میں نظم سنائی۔” میں نے اُسے سینے سے لگا لیا۔ کیونکہ وہ صرف نظم نہیں تھی۔ وہ میری بچی کی واپسی تھی ماں باپ کیلئے سب سے بڑا درد یہ نہیں ہوتا کہ بچہ زخمی ہوا۔ سب سے بڑا درد یہ ہوتا ہے کہ بچہ کئی دن ڈرتا رہا… اور ہم اُسے نخرہ سمجھتے رہے۔ میں نے ایک بات سیکھ لی ہے۔ جب بچہ بار بار کہے “پیٹ درد ہے۔” “سکول نہیں جانا۔” “میم اچھی نہیں لگتیں۔” تو اسے ہمیشہ ضد نہ سمجھیں۔ بچوں کو صرف بڑے سکولوں میں داخل نہ کروائیں۔ اُنہیں یہ یقین بھی دیں کہ اُن کی بات گھر میں سنی جائے گی

About