@thienthantarot: Có 1 người luôn lo sợ mất bạn#thongdieptarot #thinhhanh #tarot #tinhyeu #nangluongtichcuc

🍀Thông Điệp 60s🍀
🍀Thông Điệp 60s🍀
Open In TikTok:
Region: VN
Friday 29 August 2025 07:22:11 GMT
17147
1433
90
68

Music

Download

Comments

gari.694
❀𝕘𝕒𝕣𝕚 ❀ :
làm j có ai
2025-08-31 09:09:45
1
dybj3q1uxa68
B :
hoan hỷ
2025-09-04 15:03:27
0
yumie642_
Yến Yumie 💗💗 :
Claim
2025-08-31 14:32:06
0
_anhcherry98
Ánh Cherry🍒 :
Claim cực mạnh ạ🍀🍀🍀
2025-08-31 09:56:18
0
huongduongnguocna
thu hoài ☘️☘️ lc :
claim hoan hỷ đón nhận ng ấy quay lại
2025-08-31 16:05:00
0
dung.ie04
Dung Ie :
chào e,,,,iu quá,,,
2025-08-29 07:29:01
1
lequyenfood
Lệ Quyên Food :
CX họ lo đứa trẻ và sự nghiệp
2025-09-24 23:15:36
0
lyemiu021
☘️Ly 🪷 :
hoan hỉ đón nhận
2025-09-01 04:34:51
0
nguyn.tho9267
hoa hồng :
hay
2025-09-01 22:40:08
0
daip067
ĐẠI PHÁT :
Mình vừa buông bỏ rồi ạ
2025-08-31 05:43:01
0
thanh.tm.nguyn405
𝐓𝐡𝐚𝐧𝐡 𝐓â𝐦🌹 :
cảm ơn bạn 🥰🥰🥰🥰
2025-09-02 03:24:12
0
tiencnt
Tiên CNT :
Cảm ơn❤️❤️❤️
2025-09-01 09:20:04
0
thanhhoa19711
Thanh Hoà :
LDT 1/9/1976
2025-08-31 12:26:22
0
binhyenid
bình yên :
hoan hỉ đón nhận
2025-08-31 08:28:23
0
m.m1651
Mây Lang Thang :
hoan hỷ xin đón nhận 🙏
2025-09-01 12:41:21
0
thoarubyho
RUBY :
claimmmmm cực mạnh 💏
2025-08-29 09:49:18
0
hothao281008
sen đá :
hoan hỷ
2025-08-30 16:11:18
0
h.vy71546
Hoa Hồng Đen :
Hoan hỉ đón nhận
2025-08-30 22:58:03
0
linhduong2214
Linh thuỳ :
Cám on chị
2025-08-30 17:11:49
0
mai.hng8683
Mai Hương :
trải bài rất hợp năng lượng ak!
2025-09-19 12:44:44
0
o.nguyn1765
Nguyễn đo :
hoan hỉ đón nhận ạ
2025-08-31 00:05:47
0
daip067
ĐẠI PHÁT :
Rất đúng ạ. Cảm ơn ạ
2025-08-31 05:39:21
0
lan.nguyt4
Lan Nguyệt :
y như trả bài nhưng họ có thêm hai người phụ nữ khác nên mình chọn buông tay
2025-08-29 09:52:56
0
To see more videos from user @thienthantarot, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھرکے دیکھتے ہیں سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اُس کی سو ہم بھی اُس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اُس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اس کو چاند تکتا رہتا ہے ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اُسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اُس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اُس کی جو سادہ دِل ہیں اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے مائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ اِمکاں میں پلنگ زاوئیے اس کی نظر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں وہ سروقد ہے مگر بے گلِ مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں بس اِک نگاہ سے لُٹتا ہے قافلہ دل کا سو رہروانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں رُکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں چلے تو اُس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کسے نصیب کے بے پیرہن اُسے دیکھے کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں اب اس کے شہر میں ٹھہریں کے کُوچ کر جائیں فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں!!  #search
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھرکے دیکھتے ہیں سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اُس کی سو ہم بھی اُس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اُس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اس کو چاند تکتا رہتا ہے ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اُسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں سنا ہے اُس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں اس کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اُس کی جو سادہ دِل ہیں اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب سے مائل ہیں اس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ اِمکاں میں پلنگ زاوئیے اس کی نظر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں وہ سروقد ہے مگر بے گلِ مراد نہیں کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں بس اِک نگاہ سے لُٹتا ہے قافلہ دل کا سو رہروانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں رُکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں چلے تو اُس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کسے نصیب کے بے پیرہن اُسے دیکھے کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے تعبیر کر کے دیکھتے ہیں اب اس کے شہر میں ٹھہریں کے کُوچ کر جائیں فرازؔ آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں!! #search

About