@saras22331: #ساره_السوريه

ساره سوريا
ساره سوريا
Open In TikTok:
Region: IQ
Wednesday 08 October 2025 20:47:55 GMT
250186
20091
159
1238

Music

Download

Comments

hestrangeststories
التركماني :
2025-10-09 09:00:14
8
dy3e4qtdm0jn1
محمد 🌺 :
هاااا 😂
2025-10-08 21:03:17
4
saefalmurshdy
saefalmurshdy :
ماكو وحده منفصله
2025-10-09 20:07:44
3
heder94
المحمداوي☞ :
فدوه الله
2025-10-09 06:00:22
3
tofe.62
أبـ🦅ـو غـضـب الـرافـ`🥷🏻`ـضي :
وردي✌
2025-10-09 05:49:48
3
user154869671195
محمدالمرعي :
هههههههههههه 😏😏😏
2025-10-29 18:39:54
3
mmmwwwxx0
فائز البديري :
💕💕💕💕
2025-10-10 19:25:56
2
ha_zn199
غـزِواטּ.🪐◖. :
يحزنك المنتخب وتفرحك هاي الصاكة ❤️😂
2025-10-15 17:52:51
2
snm194
رجل مهمات :
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤
2025-10-09 09:11:00
2
ahit90alhop
🧚‍♀️༺آهات الحب༻🧚‍♀️ :
تشبهيني هوايه 🥰💕🌹
2025-10-29 11:08:25
2
user45740401850681
ابن تكريت العبيدي :
🌹🌹🌹
2025-10-11 16:55:13
2
krimee3
krimee3 :
💪💪💪💪💪
2025-10-09 12:10:08
2
user1790838135180
امير الدليمي ✌️✌️✌️ :
❤❤❤
2025-10-08 22:19:57
2
user3932580063511
ابراهيم رعد :
🥰🥰🥰🥰🥰
2025-10-10 19:22:51
2
usergmi2gt4fx4
بكر صالح :
❤️❤️❤
2025-10-10 18:52:48
2
as56_0
ᘓᒧj᎗ɕɹ̇ᓄ :
🌹🌹🌹
2025-10-10 14:39:48
2
a80800h
خليل حياتي ❤️‍🔥❤️‍🔥 :
2025-10-09 16:09:08
2
user1658421319607
آحمـد گريـﮯمـ :
🥰🥰🥰
2025-10-09 17:03:05
2
user3932580063511
ابراهيم رعد :
الو
2025-10-10 19:21:47
2
www.tiom.co
.مالك العراقي :
🥰🥰🥰
2025-10-13 08:00:20
1
.9191477
الزعيم احمد المولى 919 :
❤❤❤
2025-10-10 08:08:58
1
usbo.p
ابو مصطفى :
❤❤❤❤❤❤❤
2025-10-16 21:05:24
1
user6865532110034
زينب علي :
🦋🦋🦋
2025-10-10 11:46:03
1
sa.yf.ss
sayf :
🥰
2025-10-15 07:28:12
1
dyxgehgbopfh
صقر كردستان :
🙏
2025-10-14 17:30:06
1
To see more videos from user @saras22331, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط ماں جی میری عمر نو دس برس کی تھی جب ابا نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گھر سے بے گھرکر دیا تھا۔ میں چیخ چیخ کر تمہیں پکارتا رہا مگر تم بےحس وحرکت سہمی ہوئی مجھے تکتی رہیں۔ واحد روانی تمہارے آنسوؤں کی تھی جو ابا کے غیض و غضب کے آگے بھی تھمنے کو تیار نہ تھے۔ تمہارا ہر آنسو اس بات کا ثبوت تھا کہ تم ابا کے اس فعل سے بہت نالاں تھی مگر ابا کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرنے پر مجبور بھی۔ محلے والوں کے طعنے، رشتے داروں کے طنز اور لوگوں کی چبھتی ہوئی نگاہوں سے جب ابا بے قابو ہو جاتے تو پھر اپنی کالے چمڑے کی چپل سے میری چمڑی ادھیڑتے۔ اپنے جسم پر چپل سے بنائے گئے نقش لیے میں اس کال کوٹھڑی کی جانب بھاگتا جو پورے گھر میں میری واحد پناہ گاہ بن گئی تھی۔ پٹائی کا دن جب رات میں ڈھلتا تو تم ابا سے چھپ کر دبے پاؤں آتیں۔ مجھے سینے سے لگاتی، اپنے دوپٹے سے میرے زخموں کی ٹکور کرتی۔ میرا سر اپنی گود میں لیے گھنٹوں میرے پاس بیٹھی رہتی۔ مجھے چپ کراتے کراتے تمہاری اپنی سسکیاں بندھ جاتیں۔ آہوں اور سسکیوں کی گونج کے علاوہ اس کال کوٹھڑی میں کچھ سنائی نہ دیتا۔ ہم دونوں آنسوؤں کی زبان میں بات کرتے۔ میرے آنسوؤں میں ان گنت سوال ہوتے۔ کہ آخر کیوں ابا کی نفرت کی خاص عنایت مجھ پر ہی ہے؟ آخر کیوں گھر میں مہمانوں کے آتے ہی اسٹور کے تنگ وتاریک کمرے میں گھر کے ہر فالتو سامان کے ساتھ مجھے بند کردیا جاتا ہے اور جب تک اللہ کی رحمت ہمارے گھر سے چلی نہیں جاتی مجھے رہائی کا پروانہ کیوں نہیں دیا جاتا۔ یہ رحمت ہر بار میرے لیے زحمت کیوں بن جاتی ہے؟ مگر اماں میرے ہر سوال کے جواب میں تم خاموشی سے میرے اوپر محبت بھری نگاہ ڈالتی اور کچھ نہ بولتیں۔ بس کبھی تم میرے ماتھے کا بوسہ لیتی اور کبھی میرے ہاتھوں کو چوم کر اس بات کی گواہی دیتی کہ میں تو اپنے راجہ بیٹے سے بہت پیار کرتی ہوں۔ ایک سوال کرتے کرتے میں تھک جاتا اور نیند کی آغوش میں چلا جاتا کہ آخر میرے سے ایسی کیا خطا ہوئی جو میں اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح ابا کے پیار کا حقدار نہیں۔ ہاں تمہاری گود میں سو جانے سے پہلے میں یہ دعا بھی کرتا کہ یہ رات کبھی ختم نہ ہو مگر صبح ہوتی اور تم پھر اس عورت کا لبادہ اوڑھ لیتی جو ابا اور معاشرے کے خوف سے مجھے پیار کرتے ڈرتی تھی۔ جس دن ابا نے مجھے گھر سے نکالا اس دن میرا ے پیشے کا نام دے دیا۔ میں گرو کے پاس سے کئی بار بھاگا، در در نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا مگر مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ ہر بار گرو کے در پر ہی پناہ ملی۔ ہمارا وجود معاشرے میں گالی سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں تو کسی کو بددعا بھی دینی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ جا تیرے گھر بھی مجھ جیسا پیدا ہو۔ حالانکہ ہماری رگوں میں بھی سرخ رنگ کا خون دوڑتا ہے۔ ہمیں بنانے والا بھی تو وہی ہے جس نے ان کو پیدا کیا۔ ان کے سینے میں بھی دل ہماری طرح ہی دھڑکتا ہے۔ تو پھر ہمیں کس بات کی سزا دی جاتی ہے ؟ہمارا جرم کیا ہوتا ہے؟ شاید ہمارا جرم یہ ہوتا ہے کہ ہمارا خون سرخ ہے اور معاشرے کا سفید۔ ماں میں ساری زندگی جینے کی چاہ میں مرتا چلا گیا۔ سفید خون رکھنے والے لوگ کبھی مذہب کی آڑ لے کر تو کبھی جسم فروشی سے انکار پر ہمارے جسموں میں گولیاں اتار دیتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، مجھے بھی گولیاں ماری گئی
مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط ماں جی میری عمر نو دس برس کی تھی جب ابا نے مجھے زمین پر گھسیٹتے ہوئے گھر سے بے گھرکر دیا تھا۔ میں چیخ چیخ کر تمہیں پکارتا رہا مگر تم بےحس وحرکت سہمی ہوئی مجھے تکتی رہیں۔ واحد روانی تمہارے آنسوؤں کی تھی جو ابا کے غیض و غضب کے آگے بھی تھمنے کو تیار نہ تھے۔ تمہارا ہر آنسو اس بات کا ثبوت تھا کہ تم ابا کے اس فعل سے بہت نالاں تھی مگر ابا کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرنے پر مجبور بھی۔ محلے والوں کے طعنے، رشتے داروں کے طنز اور لوگوں کی چبھتی ہوئی نگاہوں سے جب ابا بے قابو ہو جاتے تو پھر اپنی کالے چمڑے کی چپل سے میری چمڑی ادھیڑتے۔ اپنے جسم پر چپل سے بنائے گئے نقش لیے میں اس کال کوٹھڑی کی جانب بھاگتا جو پورے گھر میں میری واحد پناہ گاہ بن گئی تھی۔ پٹائی کا دن جب رات میں ڈھلتا تو تم ابا سے چھپ کر دبے پاؤں آتیں۔ مجھے سینے سے لگاتی، اپنے دوپٹے سے میرے زخموں کی ٹکور کرتی۔ میرا سر اپنی گود میں لیے گھنٹوں میرے پاس بیٹھی رہتی۔ مجھے چپ کراتے کراتے تمہاری اپنی سسکیاں بندھ جاتیں۔ آہوں اور سسکیوں کی گونج کے علاوہ اس کال کوٹھڑی میں کچھ سنائی نہ دیتا۔ ہم دونوں آنسوؤں کی زبان میں بات کرتے۔ میرے آنسوؤں میں ان گنت سوال ہوتے۔ کہ آخر کیوں ابا کی نفرت کی خاص عنایت مجھ پر ہی ہے؟ آخر کیوں گھر میں مہمانوں کے آتے ہی اسٹور کے تنگ وتاریک کمرے میں گھر کے ہر فالتو سامان کے ساتھ مجھے بند کردیا جاتا ہے اور جب تک اللہ کی رحمت ہمارے گھر سے چلی نہیں جاتی مجھے رہائی کا پروانہ کیوں نہیں دیا جاتا۔ یہ رحمت ہر بار میرے لیے زحمت کیوں بن جاتی ہے؟ مگر اماں میرے ہر سوال کے جواب میں تم خاموشی سے میرے اوپر محبت بھری نگاہ ڈالتی اور کچھ نہ بولتیں۔ بس کبھی تم میرے ماتھے کا بوسہ لیتی اور کبھی میرے ہاتھوں کو چوم کر اس بات کی گواہی دیتی کہ میں تو اپنے راجہ بیٹے سے بہت پیار کرتی ہوں۔ ایک سوال کرتے کرتے میں تھک جاتا اور نیند کی آغوش میں چلا جاتا کہ آخر میرے سے ایسی کیا خطا ہوئی جو میں اپنے دوسرے بہن بھائیوں کی طرح ابا کے پیار کا حقدار نہیں۔ ہاں تمہاری گود میں سو جانے سے پہلے میں یہ دعا بھی کرتا کہ یہ رات کبھی ختم نہ ہو مگر صبح ہوتی اور تم پھر اس عورت کا لبادہ اوڑھ لیتی جو ابا اور معاشرے کے خوف سے مجھے پیار کرتے ڈرتی تھی۔ جس دن ابا نے مجھے گھر سے نکالا اس دن میرا ے پیشے کا نام دے دیا۔ میں گرو کے پاس سے کئی بار بھاگا، در در نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا مگر مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ ہر بار گرو کے در پر ہی پناہ ملی۔ ہمارا وجود معاشرے میں گالی سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں تو کسی کو بددعا بھی دینی ہو تو ہم کہتے ہیں کہ جا تیرے گھر بھی مجھ جیسا پیدا ہو۔ حالانکہ ہماری رگوں میں بھی سرخ رنگ کا خون دوڑتا ہے۔ ہمیں بنانے والا بھی تو وہی ہے جس نے ان کو پیدا کیا۔ ان کے سینے میں بھی دل ہماری طرح ہی دھڑکتا ہے۔ تو پھر ہمیں کس بات کی سزا دی جاتی ہے ؟ہمارا جرم کیا ہوتا ہے؟ شاید ہمارا جرم یہ ہوتا ہے کہ ہمارا خون سرخ ہے اور معاشرے کا سفید۔ ماں میں ساری زندگی جینے کی چاہ میں مرتا چلا گیا۔ سفید خون رکھنے والے لوگ کبھی مذہب کی آڑ لے کر تو کبھی جسم فروشی سے انکار پر ہمارے جسموں میں گولیاں اتار دیتے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، مجھے بھی گولیاں ماری گئی

About