@adrenalinhouse.ru: 🩵

Adrenalin House ✪
Adrenalin House ✪
Open In TikTok:
Region: AE
Sunday 26 October 2025 16:24:28 GMT
691498
43613
470
700

Music

Download

Comments

izroi2
/𝚜𝚘𝚗𝚒𝚊♡︎𝚜𝚘𝚏𝚊𝚛𝚘𝚟𝚊/ :
КТО СЧИТАЕТ ЧТО АДРЕНАЛИН ХАУСА ЛУЧШИЙ С ВАС ЛАЙК
2025-10-26 16:29:09
141
bhrmvna7
𝚏𝚣𝚡.𝚡 :
ГДЕ ТЕМАА😩
2025-10-26 16:41:28
11
user3506823494865
Музыка :
Ура артема нету
2025-10-26 16:33:15
83
isabella.hamb
𝑰𝒔𝒂𝒃𝒆𝒍𝒍𝒂 :
Соня и мусим🙏🏻🙏🏻🙏🏻
2025-10-26 17:04:55
5
shulginiks_safariks5
ᥴᥱʍьяɯу᧘ьᴦᥙных🍒 :
Никита запереживал за Сонечку так 😍
2025-10-26 19:20:45
58
pimenova_polina...0
𝑀𝒶𝓂𝒶 𝒹𝑜𝒸𝒽𝒾❤️ :
Тёмы то с ними нет😆
2025-10-27 03:48:34
6
nikitiksi
Nikitiks👾 :
почему вы такие вайбовые🥹🎀
2025-10-26 16:28:47
85
vlad564707
леся :
а я одна заметила то что тёмы нету
2025-10-26 16:39:41
33
bulgaralina_13_
alinqx :
Го эфир
2025-10-26 16:29:33
5
polakojykrg
сонечка :
бедная соня ей по руке прилетело но Мусим пожелел ее
2025-10-27 06:07:16
15
kirtik_66
//ᴄᴇᴧо ᴀɯуᴩоʙᴋᴀ//M/A🤍 :
вы самый лучший хаус в мире!!
2025-10-26 16:27:19
8
user563489211
. :
Никите очень идëт новая причëска🫶❤️🩹
2025-10-26 18:13:29
6
adrenaliniks_off
𝘼𝙙𝙧𝙚𝙣𝙖𝙡𝙞𝙣𝙞𝙠𝙨🌟 :
го эфир 🙏
2025-10-26 16:28:20
10
user53662675834504
Сестра Амика💋✅ :
СОНЯ ОДЕТЬ БЕЛЫЙ ТОП ЕСЛИ ЛЮБИШЬ НИКИТА))))) КТО СОГЛ ЛАЙККККККК
2025-10-26 16:30:49
13
anna36250
просто Аня. :
СОНЯ ОДЕТЬ БЕЛЫЙ ТОП ЕСЛИ ЛЮБИШЬ НИКИТУ
2025-10-26 16:26:59
87
r_lybly_basbi_pizdets
^^маринат|🎀 :
я из-за вас с подругой поссорился навсегда..
2025-10-26 18:50:56
23
_.catens._
melt :
Артема где-то потеряли
2025-10-26 16:36:46
16
lizqxxi628971
lizqxxi🪽 :
Без Артёма вайб пропал
2025-10-26 22:02:45
3
kiki_store26
𝓚𝓲𝓽𝔀𝓪𝓵𝓵𝓼 :
Обожаю эту песню
2025-10-26 16:43:46
3
nastya_aaa__
kkk_007 :
это выглядит так: Кира☄️🎰,Мусим☄️🎰,соня☄️🎰,Никита☄️🎰, Кристина🧌🐖
2025-11-07 05:45:22
3
tina14.09
💖Тина💖 :
в заметили что мусим обнял соня когда ударил
2025-10-29 20:04:35
3
To see more videos from user @adrenalinhouse.ru, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کراچی  *ڈسٹرکٹ سینٹرل* *ناظم آباد نمبر 1 میں پانی چور مافیا گینگ بے نقاب* ہمارے علاقے *ناظم آباد نمبر 1* فیروز آباد کالونی/ جلال آباد کالونی/ جہانگیر آباد کالونی/ مسرت کالونی/  کا سب سے سنگین،  پرانا اور دردناک مسئلہ پانی چوری، پانی مافیا اور جرائم پیشہ عناصر کی مضبوط گرفت ہے، جس نے گزشتہ بیس سال سے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ صرف پانی کی چوری کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسا منظم مافیا ہے جس نے پورے علاقے کو خوف، محرومی، بدنامی اور ظلم کے اندھیروں میں دھکیل رکھا ہے۔ پہلے *یہ مافیا ایف ٹی ایم لائن سے پانی چوری کرتا تھا*، مگر اب صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ *سی پمپ کی لائن سے بھی پانی چوری معمول بن چکا ہے*۔ اس کھلی لوٹ مار کی وجہ سے اہلِ علاقہ شدید پانی بحران کا شکار ہیں۔ *گھروں میں پانی نہ ہونے کے باعث بزرگ، خواتین، بچے، بیمار افراد، مزدور طبقہ اور روزانہ محنت مزدوری کرنے والے لوگ سخت اذیت میں مبتلا ہیں*۔ لوگ راتوں کو جاگ کر پانی کا انتظار کرتے ہیں، ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ دوسری طرف یہی چوری شدہ پانی مہنگے داموں فروخت کر کے مافیا اپنی جیبیں بھر رہا ہے۔ *یہ معاملہ کوئی خفیہ راز نہیں بلکہ کئی مرتبہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز چینل اور اخبارات میں ان پانی چوروں کے خلاف خبریں، اشتہارات، بیانات اور عوامی شکایات شائع ہو چکی ہیں۔* تھانوں میں ان کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج ہوئیں، مگر افسوس کہ *یہ عناصر آج بھی علاقے میں کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں، جبکہ سرکاری کاغذوں میں انہیں “مفرور” ظاہر کیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کون سی طاقت ہے جو ان مجرموں کو قانون سے بالاتر رکھتی ہے*؟ اہلِ علاقہ کا ماننا ہے کہ واٹر بورڈ کے بعض کرپٹ اہلکار، چند بااثر شخصیات اور کئی ایسے افراد جو پسِ پردہ مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں، ان کی سرپرستی کرتے ہیں۔ یہی لوگ اس مافیا سے فنڈنگ لیتے ہیں، ان کے لیے تحفظ کی دیوار بنتے ہیں، اور قانون کی گرفت سے بچاتے ہیں۔ یہ پانی مافیا صرف پانی چوری تک محدود نہیں بلکہ اس نے پورے علاقے میں ایک ایسا مضبوط اور خطرناک نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے جس نے نہ صرف محلے کا سکون تباہ کیا بلکہ پورے کراچی شہر میں اس علاقے کو ایک بدنام شناخت دے دی ہے۔ چند مفاد پرست عناصر کی ناجائز سرگرمیوں، غیر قانونی کاروبار، پانی چوری، گٹکا مافیا، آئس مافیا، منشیات فروشی، چوری ڈکیتی، قبضہ مافیا اور دیگر جرائم کی وجہ سے آج پورے علاقے کا نام خراب ہو رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ چند جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے پورے علاقے کے شریف، محنت کش، باعزت اور تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سرکاری اداروں میں جب اس علاقے کا نام لیا جاتا ہے تو اکثر ہر فرد کو ایک مشکوک یا کریمنل شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اکثریت ایماندار، باعزت اور محنتی لوگوں پر مشتمل ہے جو صرف اپنے بچوں کے بہتر مستقبل، روزگار، تعلیم اور پرامن زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ مگر ان مافیا کے سرپرستوں اور ان کے جرائم نے پورے علاقے کی اجتماعی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کی وجہ سے نوجوان نسل بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ جب بچے اپنے اردگرد ظلم، دھونس، ناجائز طاقت اور جرم کو کامیابی بنتے دیکھتے ہیں تو معاشرے کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ جو لوگ *اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، پانی چوری کے خلاف بولتے ہیں یا علاقے کی بہتری کی بات کرتے ہیں، انہیں دھمکایا جاتا ہے، ڈرایا جاتا ہے، جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے،عام شہری پر فائرنگ کر کہ شدید زخمی کرنا اور بعض اوقات تھانے میں جھوٹی ایف آئی آر درج کروا کر خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ مافیا صرف پیسہ نہیں کماتا بلکہ خوف پیدا کرتا ہے تاکہ کوئی ان کے خلاف کھڑا نہ ہو سکے۔ ان کے تعلقات گٹکا مافیا، آئس مافیا، منشیات فروشوں، چوروں، ڈاکوؤں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر سے بھی جڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ لوگ اپنے آپ کو ناقابلِ شکست سمجھتے ہیں*۔ یہی وجہ ہے کہ عام شہری، بزرگ اور خواتین بھی اکثر ڈر کے مارے کھل کر بات نہیں کر پاتے۔ *کچھ عرصہ قبل رینجرز، میئر کراچی Murtaza Wahab، اور دیگر متعلقہ اداروں نے ان کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا تھا، جس سے اہلِ علاقہ میں امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اب اس ناسور کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کارروائی کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ تقریباً 30 لاکھ گیلن یومیہ پانی روزانہ چوری کیا جا رہا تھا، جو نہ صرف ہمارے علاقے بلکہ پورے شہر کے لیے ایک سنگین المیہ تھا۔ کئی غیر قانونی کنکشن ختم کیے گئے، کئی افراد کے خلاف کارروائیاں ہوئیں، کچھ نیٹ ورک بے نقاب بھی ہوئے، مگر افسوس کہ وقتی دباؤ کے بعد یہ مافیا دوبارہ اسی طاقت کے ساتھ واپس آ گیا*۔ اپنی پرانی عادتوں، مالی طاقت، سیاسی پشت پناہی او
کراچی *ڈسٹرکٹ سینٹرل* *ناظم آباد نمبر 1 میں پانی چور مافیا گینگ بے نقاب* ہمارے علاقے *ناظم آباد نمبر 1* فیروز آباد کالونی/ جلال آباد کالونی/ جہانگیر آباد کالونی/ مسرت کالونی/ کا سب سے سنگین، پرانا اور دردناک مسئلہ پانی چوری، پانی مافیا اور جرائم پیشہ عناصر کی مضبوط گرفت ہے، جس نے گزشتہ بیس سال سے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ صرف پانی کی چوری کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسا منظم مافیا ہے جس نے پورے علاقے کو خوف، محرومی، بدنامی اور ظلم کے اندھیروں میں دھکیل رکھا ہے۔ پہلے *یہ مافیا ایف ٹی ایم لائن سے پانی چوری کرتا تھا*، مگر اب صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ *سی پمپ کی لائن سے بھی پانی چوری معمول بن چکا ہے*۔ اس کھلی لوٹ مار کی وجہ سے اہلِ علاقہ شدید پانی بحران کا شکار ہیں۔ *گھروں میں پانی نہ ہونے کے باعث بزرگ، خواتین، بچے، بیمار افراد، مزدور طبقہ اور روزانہ محنت مزدوری کرنے والے لوگ سخت اذیت میں مبتلا ہیں*۔ لوگ راتوں کو جاگ کر پانی کا انتظار کرتے ہیں، ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ دوسری طرف یہی چوری شدہ پانی مہنگے داموں فروخت کر کے مافیا اپنی جیبیں بھر رہا ہے۔ *یہ معاملہ کوئی خفیہ راز نہیں بلکہ کئی مرتبہ پاکستان کے سب سے بڑے نیوز چینل اور اخبارات میں ان پانی چوروں کے خلاف خبریں، اشتہارات، بیانات اور عوامی شکایات شائع ہو چکی ہیں۔* تھانوں میں ان کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج ہوئیں، مگر افسوس کہ *یہ عناصر آج بھی علاقے میں کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں، جبکہ سرکاری کاغذوں میں انہیں “مفرور” ظاہر کیا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کون سی طاقت ہے جو ان مجرموں کو قانون سے بالاتر رکھتی ہے*؟ اہلِ علاقہ کا ماننا ہے کہ واٹر بورڈ کے بعض کرپٹ اہلکار، چند بااثر شخصیات اور کئی ایسے افراد جو پسِ پردہ مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں، ان کی سرپرستی کرتے ہیں۔ یہی لوگ اس مافیا سے فنڈنگ لیتے ہیں، ان کے لیے تحفظ کی دیوار بنتے ہیں، اور قانون کی گرفت سے بچاتے ہیں۔ یہ پانی مافیا صرف پانی چوری تک محدود نہیں بلکہ اس نے پورے علاقے میں ایک ایسا مضبوط اور خطرناک نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے جس نے نہ صرف محلے کا سکون تباہ کیا بلکہ پورے کراچی شہر میں اس علاقے کو ایک بدنام شناخت دے دی ہے۔ چند مفاد پرست عناصر کی ناجائز سرگرمیوں، غیر قانونی کاروبار، پانی چوری، گٹکا مافیا، آئس مافیا، منشیات فروشی، چوری ڈکیتی، قبضہ مافیا اور دیگر جرائم کی وجہ سے آج پورے علاقے کا نام خراب ہو رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ چند جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے پورے علاقے کے شریف، محنت کش، باعزت اور تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سرکاری اداروں میں جب اس علاقے کا نام لیا جاتا ہے تو اکثر ہر فرد کو ایک مشکوک یا کریمنل شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اکثریت ایماندار، باعزت اور محنتی لوگوں پر مشتمل ہے جو صرف اپنے بچوں کے بہتر مستقبل، روزگار، تعلیم اور پرامن زندگی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ مگر ان مافیا کے سرپرستوں اور ان کے جرائم نے پورے علاقے کی اجتماعی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کی وجہ سے نوجوان نسل بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ جب بچے اپنے اردگرد ظلم، دھونس، ناجائز طاقت اور جرم کو کامیابی بنتے دیکھتے ہیں تو معاشرے کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ جو لوگ *اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، پانی چوری کے خلاف بولتے ہیں یا علاقے کی بہتری کی بات کرتے ہیں، انہیں دھمکایا جاتا ہے، ڈرایا جاتا ہے، جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے،عام شہری پر فائرنگ کر کہ شدید زخمی کرنا اور بعض اوقات تھانے میں جھوٹی ایف آئی آر درج کروا کر خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ مافیا صرف پیسہ نہیں کماتا بلکہ خوف پیدا کرتا ہے تاکہ کوئی ان کے خلاف کھڑا نہ ہو سکے۔ ان کے تعلقات گٹکا مافیا، آئس مافیا، منشیات فروشوں، چوروں، ڈاکوؤں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر سے بھی جڑے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ لوگ اپنے آپ کو ناقابلِ شکست سمجھتے ہیں*۔ یہی وجہ ہے کہ عام شہری، بزرگ اور خواتین بھی اکثر ڈر کے مارے کھل کر بات نہیں کر پاتے۔ *کچھ عرصہ قبل رینجرز، میئر کراچی Murtaza Wahab، اور دیگر متعلقہ اداروں نے ان کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا تھا، جس سے اہلِ علاقہ میں امید پیدا ہوئی تھی کہ شاید اب اس ناسور کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کارروائی کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ تقریباً 30 لاکھ گیلن یومیہ پانی روزانہ چوری کیا جا رہا تھا، جو نہ صرف ہمارے علاقے بلکہ پورے شہر کے لیے ایک سنگین المیہ تھا۔ کئی غیر قانونی کنکشن ختم کیے گئے، کئی افراد کے خلاف کارروائیاں ہوئیں، کچھ نیٹ ورک بے نقاب بھی ہوئے، مگر افسوس کہ وقتی دباؤ کے بعد یہ مافیا دوبارہ اسی طاقت کے ساتھ واپس آ گیا*۔ اپنی پرانی عادتوں، مالی طاقت، سیاسی پشت پناہی او

About