@thcytei._: #joycegomez08

thzvlxt
thzvlxt
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 18 November 2025 15:57:30 GMT
1113858
100403
90
13184

Music

Download

Comments

sandyzotri_
đáng nhớ hơn cả hằng đẳng thức :
giữ không được rùi,anh chán mìnhh
2025-11-19 03:13:59
189
duytan110208
Duy Tân :
Rep em
2025-11-18 16:02:31
58
noilendieukhongthenoi
noilendieukhongthenoi :
Nếu các bạn buồn hãy trải lòng cùng NIC nhé, mình luôn lắng nghe !!
2025-11-21 14:06:02
1
_cobehuongnoi07_
Su thúi :
Sớm c iu ơi
2025-11-18 15:59:56
1
bb.iuuu_
bb :
đg nuôi ck con khác
2025-11-21 11:27:25
2
_nqoz._.dieg_
️Ngọc Diệp :
chỉ còn một góc áo níu lại vẫn tuột mất
2025-11-19 12:22:09
3
._ntlinh294
ily🦛 :
chấp nhận dần nhee
2025-11-30 13:58:40
0
_biic.uynee_
Bich Uyen :
dựa vào thái độ của a:))
2025-11-19 14:16:01
6
venusbocap1
Venus BÒ cạp 1978 :
Bài hát một thời kỷ niệm
2025-11-21 02:37:09
1
hhvy02.10
_miss Vy 🌙 :
chỉ sợ mình kh còn là chính mình thôi😌
2025-11-19 08:29:12
2
khanhngoc22110
Kn. :
Di di ko níu
2025-11-19 10:51:31
0
tuongvy.nguyenthi4
✧Tuong_Zyy🍄 :
chứ giữ cũng có đc đâuuu,ảnh hết tcam ròiiii☺️
2025-11-21 05:46:34
4
ph_quynn0709
Phương Quyền :
2 ngày trc tui cũng ghép nhạc này 2 ngày sau ảnh đòi ct luôn 🥰
2025-12-06 14:12:32
0
babitat_
khó dỗ dành :
giữ k nổi rồii
2025-11-29 13:02:08
0
hnngc2513
h :
giữ kh đc rồi
2025-11-29 11:31:24
0
phunhannhahoyoo
아린은 우주를 사랑해 :
ảnh đx ct ghost mình ln😭💔
2025-12-01 15:00:30
0
huynjeamin_27
ɴoʟovᴇ :
anh đi r còn đâu bỏe em r..
2025-11-23 01:28:51
0
b.ngoc.__
Nguyễn Tổng :
Hồi xưa nghe vui vui thôi giờ lớn lên mới thấm cái lyrics =)))))
2026-02-16 05:01:05
1
tietxuongiuhoa
Tiết Xương 🌷🐷 :
giữ ko đc nữa thì mình buông thứ j muốn đi có muốn giữ cũng ko đc :))
2025-11-22 14:16:51
7
dethuongmakicuc
Moon :
sợ quá th e đi trc vậy😿
2025-11-29 14:28:24
5
qanhhyyiuu1809
bốn mắt mít ướt :
sợ
2025-11-21 11:32:39
0
truongquynhanh136
em boii >< :
nhật kí tui
2025-11-21 07:40:44
0
doanthuylinh.2403
27. :
nhắn k rep thì giữ bằng niềm tinn à.
2025-11-21 12:30:13
0
pthn_2o7
hn. :
có giữ đc đâu 😂
2025-11-29 10:00:06
0
tuelam3111
nnao cug dc… :
xem hộ nky vói aaa☺
2025-11-19 15:04:47
0
To see more videos from user @thcytei._, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پھر مجھے گھر والوں سے نفرت ہو گئی۔ یہ احساس ایک دن میں پیدا نہیں ہوا   کئی سالوں سے دل میں کچھ باتیں جمع ہوتی رہیں جو کہنے کا موقع ہی نہ ملا۔   ہر بار جب میں نے اپنی بات رکھنی چاہی تو مجھے چپ کرا دیا گیا۔   میرے فیصلوں کا مذاق اڑایا گیا اور میرے خوابوں کو بچگانہ کہا گیا۔   گھر میں سب کی رائے کی اہمیت تھی مگر میری آواز ہمیشہ دب جاتی تھی۔   جب بھی میں نے محبت مانگی تو مجھے ذمہ داری کا طعنہ ملا۔   ہر غلطی پر مجھے سب کے سامنے شرمندہ کیا گیا۔   میرے دکھ کو کبھی سمجھا ہی نہیں گیا بلکہ کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔   دوسروں کے بچوں سے میرا موازنہ روز کا معمول بن گیا تھا۔   میں جتنا بھی اچھا کر لیتی تعریف کے بجائے خامی نکالی جاتی۔   آہستہ آہستہ میں نے گھر میں رہتے ہوئے بھی خود کو اجنبی محسوس کرنا شروع کر دیا۔   کھانے کی میز پر سناٹا میرا دوست بن گیا اور کمرے کی دیواریں میرا سہارا۔   مجھے لگنے لگا کہ میری موجودگی یا غیر موجودگی سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔   جب میں بیمار پڑا تو دوا دے دی گئی مگر کسی نے ماتھا نہیں چوما۔   میری کامیابی پر مبارک باد کے دو لفظ بھی بھاری لگتے تھے۔   مگر میری ناکامی پر پورا گھر جج بن کر بیٹھ جاتا تھا۔   میں نے ہر رشتے کو نبھانے کی کوشش کی مگر بدلے میں صرف توقعات ملیں۔   محبت کے نام پر کنٹرول کیا گیا اور عزت کے نام پر میری خودی کچلی گئی۔   میں نے چیخنا چاہا مگر تہذیب کے نام پر ہونٹ سی لیے گئے۔   اندر ہی اندر سب کچھ ٹوٹتا رہا اور میں مسکراتی رہی   پھر ایک دن صبر جواب دے گیا۔   دل نے کہا کہ اب بس بہت ہو گیا۔   وہ لمحہ آیا جب میں نے خود سے سوال کیا کہ میں کیوں سہوں۔   جواب میں صرف خاموشی ملی اور وہی خاموشی نفرت بن گئی۔   یہ نفرت کسی ایک بات کی وجہ سے نہیں تھی۔   یہ برسوں کے نظرانداز کیے گئے آنسوؤں کا حساب تھا۔   یہ ان لفظوں کا زہر تھا جو کبھی کہے گئے اور جو کبھی کہے ہی نہ گئے۔   مجھے نفرت اس بات سے ہوئی کہ مجھے انسان نہیں سمجھا گیا۔   صرف ایک کردار سمجھا گیا جسے گھر کی عزت کے لیے جینا ہے۔   میری خوشی، میرا غم، میرا وجود سب غیر اہم تھا۔   اب جب وہ مجھے بلاتے ہیں تو دل دروازہ بند کر لیتا ہے۔   اب ان کی آواز میں وہ اپنائیت نہیں ملتی جس کی تلاش تھی۔   میں نے خود کو ان سے دور کر لیا ہے تاکہ سانس لے سکوں۔   تنہائی اذیت دیتی ہے مگر روز کے طعنوں سے بہتر ہے۔   کاش وہ سمجھ سکتے کہ اولاد صرف فرض نہیں ہوتی۔   اسے محبت، توجہ اور عزت بھی چاہیے ہوتی ہے۔   جب یہ نہیں ملتا تو رشتے نام کے رہ جاتے ہیں اور دل میں نفرت جنم لیتی ہے۔ #unfreezemyaccount #creatorsearchinsight #viralvideo
پھر مجھے گھر والوں سے نفرت ہو گئی۔ یہ احساس ایک دن میں پیدا نہیں ہوا کئی سالوں سے دل میں کچھ باتیں جمع ہوتی رہیں جو کہنے کا موقع ہی نہ ملا۔ ہر بار جب میں نے اپنی بات رکھنی چاہی تو مجھے چپ کرا دیا گیا۔ میرے فیصلوں کا مذاق اڑایا گیا اور میرے خوابوں کو بچگانہ کہا گیا۔ گھر میں سب کی رائے کی اہمیت تھی مگر میری آواز ہمیشہ دب جاتی تھی۔ جب بھی میں نے محبت مانگی تو مجھے ذمہ داری کا طعنہ ملا۔ ہر غلطی پر مجھے سب کے سامنے شرمندہ کیا گیا۔ میرے دکھ کو کبھی سمجھا ہی نہیں گیا بلکہ کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ دوسروں کے بچوں سے میرا موازنہ روز کا معمول بن گیا تھا۔ میں جتنا بھی اچھا کر لیتی تعریف کے بجائے خامی نکالی جاتی۔ آہستہ آہستہ میں نے گھر میں رہتے ہوئے بھی خود کو اجنبی محسوس کرنا شروع کر دیا۔ کھانے کی میز پر سناٹا میرا دوست بن گیا اور کمرے کی دیواریں میرا سہارا۔ مجھے لگنے لگا کہ میری موجودگی یا غیر موجودگی سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔ جب میں بیمار پڑا تو دوا دے دی گئی مگر کسی نے ماتھا نہیں چوما۔ میری کامیابی پر مبارک باد کے دو لفظ بھی بھاری لگتے تھے۔ مگر میری ناکامی پر پورا گھر جج بن کر بیٹھ جاتا تھا۔ میں نے ہر رشتے کو نبھانے کی کوشش کی مگر بدلے میں صرف توقعات ملیں۔ محبت کے نام پر کنٹرول کیا گیا اور عزت کے نام پر میری خودی کچلی گئی۔ میں نے چیخنا چاہا مگر تہذیب کے نام پر ہونٹ سی لیے گئے۔ اندر ہی اندر سب کچھ ٹوٹتا رہا اور میں مسکراتی رہی پھر ایک دن صبر جواب دے گیا۔ دل نے کہا کہ اب بس بہت ہو گیا۔ وہ لمحہ آیا جب میں نے خود سے سوال کیا کہ میں کیوں سہوں۔ جواب میں صرف خاموشی ملی اور وہی خاموشی نفرت بن گئی۔ یہ نفرت کسی ایک بات کی وجہ سے نہیں تھی۔ یہ برسوں کے نظرانداز کیے گئے آنسوؤں کا حساب تھا۔ یہ ان لفظوں کا زہر تھا جو کبھی کہے گئے اور جو کبھی کہے ہی نہ گئے۔ مجھے نفرت اس بات سے ہوئی کہ مجھے انسان نہیں سمجھا گیا۔ صرف ایک کردار سمجھا گیا جسے گھر کی عزت کے لیے جینا ہے۔ میری خوشی، میرا غم، میرا وجود سب غیر اہم تھا۔ اب جب وہ مجھے بلاتے ہیں تو دل دروازہ بند کر لیتا ہے۔ اب ان کی آواز میں وہ اپنائیت نہیں ملتی جس کی تلاش تھی۔ میں نے خود کو ان سے دور کر لیا ہے تاکہ سانس لے سکوں۔ تنہائی اذیت دیتی ہے مگر روز کے طعنوں سے بہتر ہے۔ کاش وہ سمجھ سکتے کہ اولاد صرف فرض نہیں ہوتی۔ اسے محبت، توجہ اور عزت بھی چاہیے ہوتی ہے۔ جب یہ نہیں ملتا تو رشتے نام کے رہ جاتے ہیں اور دل میں نفرت جنم لیتی ہے۔ #unfreezemyaccount #creatorsearchinsight #viralvideo

About