@nb7cv: اختبارات ضروريه ومطلوبه من حديثين التخرج ‼️ #خريجين #اختبارات #وظائف_السعودية

Najd
Najd
Open In TikTok:
Region: SA
Thursday 27 November 2025 20:59:15 GMT
26650
653
12
119

Music

Download

Comments

mnol1411
Memo :
أنا متخرجه كليه دبلوم IT وش الاختبار الي يفيدني علماً ابغى اكلم بكالوريوس
2025-11-28 09:48:13
5
no0or_777
Noura777 :
دبلوم يختبر رخصه مهنيه ؟؟؟
2026-04-30 10:16:39
1
anaml_mobdah4
انامل خياطه وتطريز 👗🪡(تبوك) :
الخريج من الثانويه الصناعيه التقنيه اولاد ايش يختبر اختبار قدرات مسار علمي والا ادبي والا ايش ؟؟؟
2026-01-24 03:25:32
0
itt.911
itt.911 :
ايلتس وجاهزيه
2026-02-10 09:58:38
1
lllll_p4
R🇸🇦 :
كيف اعرف مواعيد التسجيل
2026-01-25 17:10:53
0
tiachii_6
tiaa˚˖𓍢ִ໋🪽𝄞⋆ :
😁😁😁
2026-01-23 13:55:10
0
mas.mendow
AHMAD IRHAM🇮🇩🇸🇦 :
suara
2025-11-28 08:45:48
0
To see more videos from user @nb7cv, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وہ بیٹھا سوچ رہا تھا رب کہاں ہے ؟ وہ جس نے مجھے بنایا ، مجھے تخلیق کیا جس کو میری نگاہ تلاشتی ہے آخر کہاں ملے گا وہ مجھے ؟ بڑے سجدے کیے ، بڑے وظیفے کیے ، بڑا ماتھا رگڑا مگر مراد بر نہیں آئی ۔ اک روز تنہائی میں بیٹھا ہلکان ہو رہا تھا تو شیطان اور نفس نے مل کے وار کیا اور جال بنا پھر ذہن میں ڈال دیا کہ اتنا تلاشا ہے کوئی جواب نہیں آیا جانے ہے بھی کہ نہیں نہ تو دیکھا ہے اور نہ کبھی سنا ہے وگرنہ کتنے ہی پیچھے گزرے ہیں کہ جنہیں کبھی پیغام آیا کہ رب نے سلام بھیجا ہے تو وہ بشر حافی ہو گیا ، کسی کو مسجد میں پاؤں پھیلا کر بیٹھے پایا تو غیب سے آواز آئی جس پر اس کا نام سفیان ثوری پڑ گیا ۔ میں بھی تو اسی کا بندہ ہوں چلو گناہگار ہی سہی ، بدکار ہی سہی پر ہوں تو اس کا اپنا ہی میری طرف بھی توجہ کرے نہ ۔ نفس و شیطان حاوی کیسے ہوتے کیونکہ ان کی رسائی فقط دماغ تک ہے یا دل کے کسی اوپرے کنارے پر مگر دل کے اندر سے آواز آئی یہ کیا ظلم کر رہا ہے وہ رب ہے تیرا رب جس سے محبت کرتا ہے اسی کے بارے میں اتنا غلط گمان کچھ حیاء کر ۔ بس پھر سجدے میں گر گیا کیا بولتا جب کہ وہ تو دلوں کی سرگوشیاں بھی جانتا ہے ۔ کہا اے میری جاں کے مالک اگر تیری چاہ کر ہی لی ہے تو یوں خود سے محروم نہ کر ، تجھ سے محبت کا دعویٰ کر ہی بیٹھا ہوں تو یہ ہجر کی آگ کو ہوا نہ دے ، گناہگار ہوں مگر تجھے راضی کرنا چاہتا ہوں مجھے خود سے محروم نہ کر میرے رب محروم نہ کر ، سسکیاں بندھ گئیں ، سر سجدے میں ہے اور آنکھیں بہہ رہی ہیں ۔ بس پھر کرم ہو گیا ، رحمت جوش میں آ گئی ، دل کے کسی کونے سے صدا آئی ، آگ جو بھرے بیٹھا تھا اندر بھڑک اٹھی دل جلال میں آ گیا اور بولا جاہل کس کی طلب میں ہلکان ہو رہا ہے ؟ وہ جس نے کہا تیری ہی ذات میں بستا ہے وہ ، کس کی دید میں مر رہا ہے ؟ وہ جو الست بربکم کا پردہ گرا تھا وہاں کس کی دید پر حامی بھری تھی ، کس کی ملاقات میں کافر ہوا جا رہا ہے ؟ جس نے خود کو تیری ہی شاہ رگ سے زیادہ قریب رکھا ہے ۔۔۔ ہوش کر کہاں تلاشتا پھر رہا ہے وہ تجھ میں ہے ۔ اس نے رو کر کہا مجھے پردے کے اس پار جانا ہے اے دل تو دل نرم پڑ گیا بھلا وہ تجھ سے پرده داری کیوں رکھے گا ناسمجھ خود پہ غور کر اور دیکھ اپنے آس پاس کوئی فرق نظر آتا ہے کہ نہیں ؟ جب دل نے یہ کہا تو اس نے دیکھا اور جب دیکھا تو شرم سے پانی پانی ہو گیا ، ہچکیاں لیتے ہوئے سر پھر سجدے میں رکھ دیا اور اپنے رب سے اپنی غفلت کی معافی مانگی کہ وہ رب سے ملاقات کے لیے رب کے بلاوے سے پہلے حاضر ہو جاتا ہے ، اس کی زبان پر اپنے محبوب کا ذکر رکھا ہے ، جب سارا جہاں سو رہا ہوتا ہے تو اسے اپنی رحمت میں ڈھانپ کر اس کے سارے دکھ سنتا ہے اور بڑے پیار سے فرماتا ہے تو مانگتا جا بس دینا میرا کام ہے اسے سمجھ آ گئی کہ رب اس کے بڑا ہی قریب ہے اور ہر گھڑی اس کے ساتھ ہے بس وہ خود ہی کم عقل تھا مگر جس دل میں عشق بھرا ہے اس نے ملا دیا ۔
وہ بیٹھا سوچ رہا تھا رب کہاں ہے ؟ وہ جس نے مجھے بنایا ، مجھے تخلیق کیا جس کو میری نگاہ تلاشتی ہے آخر کہاں ملے گا وہ مجھے ؟ بڑے سجدے کیے ، بڑے وظیفے کیے ، بڑا ماتھا رگڑا مگر مراد بر نہیں آئی ۔ اک روز تنہائی میں بیٹھا ہلکان ہو رہا تھا تو شیطان اور نفس نے مل کے وار کیا اور جال بنا پھر ذہن میں ڈال دیا کہ اتنا تلاشا ہے کوئی جواب نہیں آیا جانے ہے بھی کہ نہیں نہ تو دیکھا ہے اور نہ کبھی سنا ہے وگرنہ کتنے ہی پیچھے گزرے ہیں کہ جنہیں کبھی پیغام آیا کہ رب نے سلام بھیجا ہے تو وہ بشر حافی ہو گیا ، کسی کو مسجد میں پاؤں پھیلا کر بیٹھے پایا تو غیب سے آواز آئی جس پر اس کا نام سفیان ثوری پڑ گیا ۔ میں بھی تو اسی کا بندہ ہوں چلو گناہگار ہی سہی ، بدکار ہی سہی پر ہوں تو اس کا اپنا ہی میری طرف بھی توجہ کرے نہ ۔ نفس و شیطان حاوی کیسے ہوتے کیونکہ ان کی رسائی فقط دماغ تک ہے یا دل کے کسی اوپرے کنارے پر مگر دل کے اندر سے آواز آئی یہ کیا ظلم کر رہا ہے وہ رب ہے تیرا رب جس سے محبت کرتا ہے اسی کے بارے میں اتنا غلط گمان کچھ حیاء کر ۔ بس پھر سجدے میں گر گیا کیا بولتا جب کہ وہ تو دلوں کی سرگوشیاں بھی جانتا ہے ۔ کہا اے میری جاں کے مالک اگر تیری چاہ کر ہی لی ہے تو یوں خود سے محروم نہ کر ، تجھ سے محبت کا دعویٰ کر ہی بیٹھا ہوں تو یہ ہجر کی آگ کو ہوا نہ دے ، گناہگار ہوں مگر تجھے راضی کرنا چاہتا ہوں مجھے خود سے محروم نہ کر میرے رب محروم نہ کر ، سسکیاں بندھ گئیں ، سر سجدے میں ہے اور آنکھیں بہہ رہی ہیں ۔ بس پھر کرم ہو گیا ، رحمت جوش میں آ گئی ، دل کے کسی کونے سے صدا آئی ، آگ جو بھرے بیٹھا تھا اندر بھڑک اٹھی دل جلال میں آ گیا اور بولا جاہل کس کی طلب میں ہلکان ہو رہا ہے ؟ وہ جس نے کہا تیری ہی ذات میں بستا ہے وہ ، کس کی دید میں مر رہا ہے ؟ وہ جو الست بربکم کا پردہ گرا تھا وہاں کس کی دید پر حامی بھری تھی ، کس کی ملاقات میں کافر ہوا جا رہا ہے ؟ جس نے خود کو تیری ہی شاہ رگ سے زیادہ قریب رکھا ہے ۔۔۔ ہوش کر کہاں تلاشتا پھر رہا ہے وہ تجھ میں ہے ۔ اس نے رو کر کہا مجھے پردے کے اس پار جانا ہے اے دل تو دل نرم پڑ گیا بھلا وہ تجھ سے پرده داری کیوں رکھے گا ناسمجھ خود پہ غور کر اور دیکھ اپنے آس پاس کوئی فرق نظر آتا ہے کہ نہیں ؟ جب دل نے یہ کہا تو اس نے دیکھا اور جب دیکھا تو شرم سے پانی پانی ہو گیا ، ہچکیاں لیتے ہوئے سر پھر سجدے میں رکھ دیا اور اپنے رب سے اپنی غفلت کی معافی مانگی کہ وہ رب سے ملاقات کے لیے رب کے بلاوے سے پہلے حاضر ہو جاتا ہے ، اس کی زبان پر اپنے محبوب کا ذکر رکھا ہے ، جب سارا جہاں سو رہا ہوتا ہے تو اسے اپنی رحمت میں ڈھانپ کر اس کے سارے دکھ سنتا ہے اور بڑے پیار سے فرماتا ہے تو مانگتا جا بس دینا میرا کام ہے اسے سمجھ آ گئی کہ رب اس کے بڑا ہی قریب ہے اور ہر گھڑی اس کے ساتھ ہے بس وہ خود ہی کم عقل تھا مگر جس دل میں عشق بھرا ہے اس نے ملا دیا ۔

About