@xxww304: #طرب #دبكه #ريمكس🔥🖤 #الترند_الجديد #اغاني

♬ اوتار🎼
♬ اوتار🎼
Open In TikTok:
Region: SA
Sunday 07 December 2025 15:38:31 GMT
290083
4300
95
717

Music

Download

Comments

user5286917192908
معروف لا يعرف الوحش :
الله الله هذا الصوت الجميل
2026-06-10 15:02:07
0
.1154m6
ربك كريم :
علي بحر سدر تلقنا صدفه كنه ليلت قدر 🥰🥰✌✌
2026-05-22 11:36:19
0
nasrmsah
king :
ما
2026-01-13 17:15:27
1
user327323284751
خالد بيانوني :
2026
2026-01-31 19:03:10
0
moedzreg
علي علي :
حبت🥰🥰
2026-03-03 13:47:56
0
user8218132270255
أمير الهمداني :
ايه والله
2026-04-13 05:05:07
0
user67226108041348
بو شعبان 🔥 :
ما
2026-03-09 01:22:42
0
user5424830149183
ابو يزن الشريف الشريف :
2026-01-15 19:25:53
0
user9963682241543
غزال البر✌✌✌ :
😂
2025-12-23 16:49:43
2
user2436815144210
عايدالحديدي :
✌️✌️✌️
2026-03-23 17:37:32
1
user6104121352450
بو آلمـآضـيـﮯ ♥🤲🏻 :
🥰
2026-06-02 23:54:44
0
user7381814999885
احمد المخزومي :
🥰🥰🥰
2026-04-14 19:01:26
0
user84230296105753
عياد المصباحي :
🥰
2026-05-30 13:02:25
0
asd10636
بوعه :
😂
2026-06-03 00:03:15
0
user14232427823166
ابراهيم عفانة :
🔥🔥🔥🔥🔥🔥
2026-05-14 20:18:31
0
bxjidgeiihdjidbdi
bxjidgeiihdjidbdi :
@ .
2026-05-09 08:24:16
0
f_rh64
ابو عذاري :
🥺🥺🥺
2026-04-16 11:02:49
0
user8618305992151
مختار صديق احمد حسين :
😁
2026-04-04 19:04:43
0
user1358859267328
وجع قلب :
♥️
2026-04-05 07:26:50
0
user8618305992151
مختار صديق احمد حسين :
🥰
2026-04-04 19:04:47
0
user8618305992151
مختار صديق احمد حسين :
😁
2026-04-04 19:04:47
0
user8618305992151
مختار صديق احمد حسين :
😂
2026-04-04 19:04:43
0
user4614807951240
لا تخش المنيه :
😁😁😁
2026-05-27 07:01:13
0
user8618305992151
مختار صديق احمد حسين :
🥰
2026-04-04 19:04:38
0
user31134506592088
محمد الراعي الخليلي :
😭
2025-12-17 20:40:15
0
To see more videos from user @xxww304, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وہ دونوں جب ملیر کورٹ کی سیڑھیاں اتر رہے تھے تو ان کے چہروں پر عجیب سا سکون تھا۔ جیسے برسوں کی جنگ کے بعد کسی نے انہیں جینے کا حق دے دیا ہو۔ لڑکی کے ہاتھ میں عدالت کے کاغذات تھے، اور لڑکے کی آنکھوں میں ایک چھوٹا سا گھر۔ ایک ایسا گھر جہاں شام کو چائے ٹھنڈی ہو جایا کرے اور جھگڑے صرف اس بات پر ہوں کہ بچے کا نام کون رکھے گا۔ وہ دونوں محبت کرتے تھے بس اتنا ہی جرم تھا۔ شہر کراچی ہمیشہ کی طرح شور میں ڈوبا ہوا تھا۔ سڑکوں پر گاڑیاں تھیں دھواں تھا، جلدی میں بھاگتے لوگ تھے، لیکن ان دونوں کے لیے وقت جیسے رک گیا تھا۔ لڑکی نے آہستہ سے کہا اب کوئی ہمیں جدا نہیں کر سکے گا نا؟ لڑکے نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اب قانون بھی ہمارے ساتھ ہے۔
وہ دونوں جب ملیر کورٹ کی سیڑھیاں اتر رہے تھے تو ان کے چہروں پر عجیب سا سکون تھا۔ جیسے برسوں کی جنگ کے بعد کسی نے انہیں جینے کا حق دے دیا ہو۔ لڑکی کے ہاتھ میں عدالت کے کاغذات تھے، اور لڑکے کی آنکھوں میں ایک چھوٹا سا گھر۔ ایک ایسا گھر جہاں شام کو چائے ٹھنڈی ہو جایا کرے اور جھگڑے صرف اس بات پر ہوں کہ بچے کا نام کون رکھے گا۔ وہ دونوں محبت کرتے تھے بس اتنا ہی جرم تھا۔ شہر کراچی ہمیشہ کی طرح شور میں ڈوبا ہوا تھا۔ سڑکوں پر گاڑیاں تھیں دھواں تھا، جلدی میں بھاگتے لوگ تھے، لیکن ان دونوں کے لیے وقت جیسے رک گیا تھا۔ لڑکی نے آہستہ سے کہا اب کوئی ہمیں جدا نہیں کر سکے گا نا؟ لڑکے نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اب قانون بھی ہمارے ساتھ ہے۔" مگر وہ شاید بھول گئے تھے کہ اس ملک میں قانون کتابوں میں رہتا ہے، اور فیصلے بندوقیں کرتی ہیں۔ گاڑی ابھی ملیر کورٹ سے کچھ ہی دور نکلی تھی کہ پیچھے سے آنے موٹر سائیکل سوار نے گاڑی کے ساتھ بائیک جوڑی۔ لڑکی نے چونک کر دیکھا۔ وہ چہرے جانے پہچانے تھے۔۔۔۔۔ اپنے لوگ۔ وہ لوگ جنہوں نے بچپن میں اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا۔ پہلا فائر شاید لڑکے کو لگا۔ دوسرا لڑکی کے سینے میں اترا۔ اور پھر گولیوں کی آواز اتنی بڑھ گئی کہ محبت کی آخری چیخ بھی سنائی نہ دی۔ سڑک پر لوگ رکے کچھ نے ویڈیو بنائی کچھ نے کہا غلط کیا ہوگا تبھی مارے گئے۔ اور شہر دوبارہ اپنی رفتار میں چلنے لگا۔ کل صبح کو خبر سوشل میڈیا پر زندہ رہی گی پھر کسی نئے اسکینڈل نے اسے دفن کر دینا ہے۔ لیکن آج رات کراچی کے آسمان پر ایک سوال بہت دیر تک منڈلاتا رہے گا آخر محبت سے اتنا خوف کیوں ہے؟ یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں قاتل غیرت مند کہلاتے ہیں اور محبت کرنے والے مجرم؟ جہاں ماں باپ اولاد کو پیدا تو کر سکتے ہیں مگر ان کی مرضی سے جینے کا حق نہیں دے سکتے۔ جہاں مسجدوں میں رحم کی باتیں ہوتی ہیں مگر گھروں میں نفرت پالی جاتی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں انسان مرنے سے پہلے نہیں مرتا، وہ تب مر جاتا ہے جب اسے اپنی پسند سے جینے کی اجازت نہیں ملتی۔ یہ معاشرہ شاید واقعی ناقابل اصلاح ہے۔ کیونکہ یہاں مسئلہ قانون کا نہیں، ذہنوں کا ہے۔ اور جن ذہنوں میں محبت جرم بن جائے، وہاں قتل ہمیشہ عبادت سمجھا جاتا #fyp

About