@baovudayreview: Gậy chụp hình quay phim gấp gọn mang theo đi du lịch tiện lợi #baovudayreview #xuhuongtiktok #gaychupanh #phukiendulich

Bảo Vũ đây
Bảo Vũ đây
Open In TikTok:
Region: VN
Thursday 01 January 2026 16:09:08 GMT
7351
23
0
25

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @baovudayreview, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پھر مجھے گھر والوں سے نفرت ہو گئی۔ یہ احساس ایک دن میں پیدا نہیں ہوا   کئی سالوں سے دل میں کچھ باتیں جمع ہوتی رہیں جو کہنے کا موقع ہی نہ ملا۔   ہر بار جب میں نے اپنی بات رکھنی چاہی تو مجھے چپ کرا دیا گیا۔   میرے فیصلوں کا مذاق اڑایا گیا اور میرے خوابوں کو بچگانہ کہا گیا۔   گھر میں سب کی رائے کی اہمیت تھی مگر میری آواز ہمیشہ دب جاتی تھی۔   جب بھی میں نے محبت مانگی تو مجھے ذمہ داری کا طعنہ ملا۔   ہر غلطی پر مجھے سب کے سامنے شرمندہ کیا گیا۔   میرے دکھ کو کبھی سمجھا ہی نہیں گیا بلکہ کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔   دوسروں کے بچوں سے میرا موازنہ روز کا معمول بن گیا تھا۔   میں جتنا بھی اچھا کر لیتی تعریف کے بجائے خامی نکالی جاتی۔   آہستہ آہستہ میں نے گھر میں رہتے ہوئے بھی خود کو اجنبی محسوس کرنا شروع کر دیا۔   کھانے کی میز پر سناٹا میرا دوست بن گیا اور کمرے کی دیواریں میرا سہارا۔   مجھے لگنے لگا کہ میری موجودگی یا غیر موجودگی سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔   جب میں بیمار پڑا تو دوا دے دی گئی مگر کسی نے ماتھا نہیں چوما۔   میری کامیابی پر مبارک باد کے دو لفظ بھی بھاری لگتے تھے۔   مگر میری ناکامی پر پورا گھر جج بن کر بیٹھ جاتا تھا۔   میں نے ہر رشتے کو نبھانے کی کوشش کی مگر بدلے میں صرف توقعات ملیں۔   محبت کے نام پر کنٹرول کیا گیا اور عزت کے نام پر میری خودی کچلی گئی۔   میں نے چیخنا چاہا مگر تہذیب کے نام پر ہونٹ سی لیے گئے۔   اندر ہی اندر سب کچھ ٹوٹتا رہا اور میں مسکراتی رہی   پھر ایک دن صبر جواب دے گیا۔   دل نے کہا کہ اب بس بہت ہو گیا۔   وہ لمحہ آیا جب میں نے خود سے سوال کیا کہ میں کیوں سہوں۔   جواب میں صرف خاموشی ملی اور وہی خاموشی نفرت بن گئی۔   یہ نفرت کسی ایک بات کی وجہ سے نہیں تھی۔   یہ برسوں کے نظرانداز کیے گئے آنسوؤں کا حساب تھا۔   یہ ان لفظوں کا زہر تھا جو کبھی کہے گئے اور جو کبھی کہے ہی نہ گئے۔   مجھے نفرت اس بات سے ہوئی کہ مجھے انسان نہیں سمجھا گیا۔   صرف ایک کردار سمجھا گیا جسے گھر کی عزت کے لیے جینا ہے۔   میری خوشی، میرا غم، میرا وجود سب غیر اہم تھا۔   اب جب وہ مجھے بلاتے ہیں تو دل دروازہ بند کر لیتا ہے۔   اب ان کی آواز میں وہ اپنائیت نہیں ملتی جس کی تلاش تھی۔   میں نے خود کو ان سے دور کر لیا ہے تاکہ سانس لے سکوں۔   تنہائی اذیت دیتی ہے مگر روز کے طعنوں سے بہتر ہے۔   کاش وہ سمجھ سکتے کہ اولاد صرف فرض نہیں ہوتی۔   اسے محبت، توجہ اور عزت بھی چاہیے ہوتی ہے۔   جب یہ نہیں ملتا تو رشتے نام کے رہ جاتے ہیں اور دل میں نفرت جنم لیتی ہے۔ #unfreezemyaccount #creatorsearchinsight #viralvideo
پھر مجھے گھر والوں سے نفرت ہو گئی۔ یہ احساس ایک دن میں پیدا نہیں ہوا کئی سالوں سے دل میں کچھ باتیں جمع ہوتی رہیں جو کہنے کا موقع ہی نہ ملا۔ ہر بار جب میں نے اپنی بات رکھنی چاہی تو مجھے چپ کرا دیا گیا۔ میرے فیصلوں کا مذاق اڑایا گیا اور میرے خوابوں کو بچگانہ کہا گیا۔ گھر میں سب کی رائے کی اہمیت تھی مگر میری آواز ہمیشہ دب جاتی تھی۔ جب بھی میں نے محبت مانگی تو مجھے ذمہ داری کا طعنہ ملا۔ ہر غلطی پر مجھے سب کے سامنے شرمندہ کیا گیا۔ میرے دکھ کو کبھی سمجھا ہی نہیں گیا بلکہ کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ دوسروں کے بچوں سے میرا موازنہ روز کا معمول بن گیا تھا۔ میں جتنا بھی اچھا کر لیتی تعریف کے بجائے خامی نکالی جاتی۔ آہستہ آہستہ میں نے گھر میں رہتے ہوئے بھی خود کو اجنبی محسوس کرنا شروع کر دیا۔ کھانے کی میز پر سناٹا میرا دوست بن گیا اور کمرے کی دیواریں میرا سہارا۔ مجھے لگنے لگا کہ میری موجودگی یا غیر موجودگی سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔ جب میں بیمار پڑا تو دوا دے دی گئی مگر کسی نے ماتھا نہیں چوما۔ میری کامیابی پر مبارک باد کے دو لفظ بھی بھاری لگتے تھے۔ مگر میری ناکامی پر پورا گھر جج بن کر بیٹھ جاتا تھا۔ میں نے ہر رشتے کو نبھانے کی کوشش کی مگر بدلے میں صرف توقعات ملیں۔ محبت کے نام پر کنٹرول کیا گیا اور عزت کے نام پر میری خودی کچلی گئی۔ میں نے چیخنا چاہا مگر تہذیب کے نام پر ہونٹ سی لیے گئے۔ اندر ہی اندر سب کچھ ٹوٹتا رہا اور میں مسکراتی رہی پھر ایک دن صبر جواب دے گیا۔ دل نے کہا کہ اب بس بہت ہو گیا۔ وہ لمحہ آیا جب میں نے خود سے سوال کیا کہ میں کیوں سہوں۔ جواب میں صرف خاموشی ملی اور وہی خاموشی نفرت بن گئی۔ یہ نفرت کسی ایک بات کی وجہ سے نہیں تھی۔ یہ برسوں کے نظرانداز کیے گئے آنسوؤں کا حساب تھا۔ یہ ان لفظوں کا زہر تھا جو کبھی کہے گئے اور جو کبھی کہے ہی نہ گئے۔ مجھے نفرت اس بات سے ہوئی کہ مجھے انسان نہیں سمجھا گیا۔ صرف ایک کردار سمجھا گیا جسے گھر کی عزت کے لیے جینا ہے۔ میری خوشی، میرا غم، میرا وجود سب غیر اہم تھا۔ اب جب وہ مجھے بلاتے ہیں تو دل دروازہ بند کر لیتا ہے۔ اب ان کی آواز میں وہ اپنائیت نہیں ملتی جس کی تلاش تھی۔ میں نے خود کو ان سے دور کر لیا ہے تاکہ سانس لے سکوں۔ تنہائی اذیت دیتی ہے مگر روز کے طعنوں سے بہتر ہے۔ کاش وہ سمجھ سکتے کہ اولاد صرف فرض نہیں ہوتی۔ اسے محبت، توجہ اور عزت بھی چاہیے ہوتی ہے۔ جب یہ نہیں ملتا تو رشتے نام کے رہ جاتے ہیں اور دل میں نفرت جنم لیتی ہے۔ #unfreezemyaccount #creatorsearchinsight #viralvideo

About