@whowhatwear: “have fun with all this” #pamelaanderson #wwd #goldenglobes #redcarpet

whowhatwear
whowhatwear
Open In TikTok:
Region: US
Saturday 10 January 2026 06:05:37 GMT
30288
811
17
21

Music

Download

Comments

levenindeserpent
Le serpenta deux têtes :
Marylin Monroe
2026-01-11 12:22:38
5
t_doucier
Tineke 😊 :
Pamela Monroe 😍😍😍
2026-01-11 17:02:36
2
emve1960
emve1960 :
❤️Pamela A 👍
2026-01-11 07:22:59
3
fatty6495
Ram1210 :
Can’t wait I’ll buy
2026-01-10 19:47:53
1
user11814954624351
Татьяна :
Красотка😍
2026-02-16 19:37:26
0
vstexas21
Victoria :
Icon
2026-01-11 01:50:46
3
candyfob
Ellefob :
Too much already
2026-01-10 21:07:43
4
jonathantyler50
jonathantyler239 :
🥰🥰🥰🥰😇😇😇
2026-01-10 19:54:09
1
user8753874241056
Małgosia Siedlecka :
😍😍😍
2026-01-10 17:53:40
0
user1969712913887
coco :
❤👍
2026-01-12 12:16:44
0
gabriela.nitu0
Gabriela Nitu :
🙂👍
2026-01-12 07:40:49
0
elnakarin2
ElnaKarin :
👏❤️❤️
2026-01-11 10:56:35
0
george20217
george20217 :
👑👑👑👑👑👑👑👑👑
2026-01-11 19:06:58
0
char974
Char carr :
🥰🥰
2026-01-10 21:52:07
0
sergianehorn
Sergiane Horn :
trop belle 🥰🥰🥰🥰
2026-01-15 18:47:00
0
musermusically....lak2
musermusically....lak2 :
Botox.
2026-02-12 16:55:33
0
To see more videos from user @whowhatwear, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

حب کو روس کی دوستی کے الزام میں شہید کیا گیا، آجا وہی لوگ روس کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ ہیلہ نجیب اللہ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات نظريات نہیں بلکہ مفادات بدلتے ہیں اور انہی بدلتے ہوئے مفادات کی قیمت بے شمار خاندانوں کو اپنے پیاروں کی قربانیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہیلہ نجیب اللہ کا یہ جملہ محض ایک ذاتی دکھ کا اظہار نہیں بلکہ ہماری سیاسی تاریخ کے ایک تلخ تضاد کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگوں کو محض کسی نظریاتی وابستگی یا الزام کی بنیاد پر دشمن قرار دیا جاتا تھا، ان کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی تھی اور بعض اوقات انہیں اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی قوتیں اور وہی حلقے اپنے سیاسی اور سفارتی مفادات کے تحت انہی تعلقات کو قبول کر لیتے ہیں جن کی بنیاد پر کبھی دوسروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کل کسی تعلق یا نظریے کی بنیاد پر لوگوں کو قربان کیا گیا، تو آج انہی پالیسیوں اور تعلقات کو اختیار کرنے والوں سے کوئی سوال کیوں نہیں کیا جاتا؟ تاریخ کا انصاف یہی ہے کہ اسے یکساں پیمانے سے پرکھا جائے، نہ کہ وقتی مفادات کے مطابق قوموں کی ترقی انتقام الزام تراشی اور دوہرے معیار سے نہیں بلکہ سچائی کا سامنا کرنے، ماضی سے سبق سیکھنے اور انسانی جان کی حرمت کو تسلیم کرنے سے ممکن ہوتی ہے۔ جن خاندانوں نے اپنے عزیز کھوئے ہیں، ان کے زخم اس وقت تک نہیں بھرتے جب تک تاریخ کے ان تلخ ابواب کا دیانت داری سے جائزہ نہ لیا جائے۔
حب کو روس کی دوستی کے الزام میں شہید کیا گیا، آجا وہی لوگ روس کے دوست بنے ہوئے ہیں۔ ہیلہ نجیب اللہ تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات نظريات نہیں بلکہ مفادات بدلتے ہیں اور انہی بدلتے ہوئے مفادات کی قیمت بے شمار خاندانوں کو اپنے پیاروں کی قربانیوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہیلہ نجیب اللہ کا یہ جملہ محض ایک ذاتی دکھ کا اظہار نہیں بلکہ ہماری سیاسی تاریخ کے ایک تلخ تضاد کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگوں کو محض کسی نظریاتی وابستگی یا الزام کی بنیاد پر دشمن قرار دیا جاتا تھا، ان کے خلاف نفرت پھیلائی جاتی تھی اور بعض اوقات انہیں اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی قوتیں اور وہی حلقے اپنے سیاسی اور سفارتی مفادات کے تحت انہی تعلقات کو قبول کر لیتے ہیں جن کی بنیاد پر کبھی دوسروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کل کسی تعلق یا نظریے کی بنیاد پر لوگوں کو قربان کیا گیا، تو آج انہی پالیسیوں اور تعلقات کو اختیار کرنے والوں سے کوئی سوال کیوں نہیں کیا جاتا؟ تاریخ کا انصاف یہی ہے کہ اسے یکساں پیمانے سے پرکھا جائے، نہ کہ وقتی مفادات کے مطابق قوموں کی ترقی انتقام الزام تراشی اور دوہرے معیار سے نہیں بلکہ سچائی کا سامنا کرنے، ماضی سے سبق سیکھنے اور انسانی جان کی حرمت کو تسلیم کرنے سے ممکن ہوتی ہے۔ جن خاندانوں نے اپنے عزیز کھوئے ہیں، ان کے زخم اس وقت تک نہیں بھرتے جب تک تاریخ کے ان تلخ ابواب کا دیانت داری سے جائزہ نہ لیا جائے۔

About