@htc.166_: lòng anh nhớ nơi em cuối trời#music #xuhuongtiktok #nhachaymoingay

htc.166_
htc.166_
Open In TikTok:
Region: VN
Saturday 24 January 2026 04:30:04 GMT
284854
30620
119
2364

Music

Download

Comments

beheo.cuteeee.212
ෆq.ngannෆ :
trong đầu lên "tôi yêu em âm thầm không hy vọng" 😔
2026-02-08 12:08:27
197
afk_phong7
AFK×_×PHONG :
"Tôi yêu em.."
2026-02-11 04:24:11
48
tongnghininh
_linqa_👾 :
“Tôi yêu em âm thầm không hy vọng”🥀
2026-02-21 11:43:10
51
l.n.3003
mình ko có ác 👹 :
Hỡi các thần dân của ymir 😌
2026-02-15 09:04:12
33
bidth36
làm lại cuộc đời :
"我暗戀你,不抱任何希望。 有時膽怯,有時怨恨。我愛你,真摯而深沉。我祈禱你能找到一個像我愛你一樣愛你的人" "tôi yêu em âm thầm,không hy vọng. lúc rụt rè,khi hầm hực lòng ghen. tôi yêu em,yêu chân thành,đằm thắm. cầu cho em được người tình như tôi đã yêu em."
2026-02-17 07:51:26
8
lyly0_0.9
"Lyly🦋" :
trong đầu t "tôi yêu em âm thầm không hy vọng"
2026-02-15 05:38:47
5
taikhoandabikhoa367
. :
sớm
2026-01-24 05:59:41
4
www.tung.rat.ngoan
AnhTùng💤 :
Tôi yêu em âm thầm không hi vọng. Tiếp...!
2026-03-20 15:06:05
0
ngocha091107
haviiiii :
"Tôi yêu em âm thầm, không hi vọng Lúc rụt rè, khi hậm hực lòng ghen Tôi yêu em, yêu chân thành, đằm thắm Cầu em được người tình như tôi đã yêu em."
2026-04-21 00:15:47
1
mucsicchill_17
_ntsar.17 :
thằng đệ🗿
2026-01-24 12:34:24
3
vokkkkkkk2
mạnh🇻🇳 :
Tôi yêu em âm thầm luôn hy vọng lúc rụt rè khi hầm hực lòng ghen tôi yêu em yêu chân thành đằm thắm cầu em hiểu đc tấm lòng này của anh
2026-02-09 13:15:59
5
ancute2073
a nờ an. :
“Tôi yêu em âm thầm ko hy vong” “Lúc hầm hực thì lòng ghen” “Tôi yêu chân thành đằm thắm” “Mong em gặp đc người tình như tôi đã yêu em”
2026-02-18 14:28:22
4
gaixau083
ᥫ᭡ 𝓴𝓲𝓽𝓽𝔂 :
Tôi yêu em âm thầm không hy vọng lúc rụt rè thì hậm hực lòng ghen tôi yêu em yêu chân thành đồng thắm cầu em người tình như tôi đã yêu em
2026-02-10 13:57:46
1
biwh_thr
erikaa 🪼 :
trong đầu t " hỡi các thần dân của Ymir"
2026-02-26 04:26:51
1
thuytrangg...1401
Thùy Trangg :
"Tôi yêu em, âm thầm không hi vọng..."🥀
2026-03-06 12:05:25
1
vanhau_20
Van Hau :
🗣️: tôi có thể biết tên em không ?
2026-02-23 02:12:00
1
01th10_5
kyeuaingoaiem :
ko có "tôi yêu em " nó cứ khó chịu ấy (ykr)
2026-02-11 12:17:36
3
nthk2th4_
nthk.2th4_ :
hayy
2026-02-15 02:15:18
1
nh_y25_05
𝗡𝗵𝘂 𝘆~ :
t đang chờ j vậy
2026-02-10 05:36:08
1
soi_dau_buoi0
亗 :
bài gì vậy ạ🥰
2026-02-16 07:02:58
3
ctlyy_.15
nc mắm nam ngư :
nghe bài này lại nhớ phim :”Chiếc bật lửa và váy công chúa”
2026-03-06 13:54:05
2
t.khang354
ủmm bòooo 🐮 :
toi yeu em am tham ko hy vọng mời tiếp
2026-02-20 13:16:46
1
bo_baymau1
ng lì hợp tính 🐦‍🔥 :
-tôi yêu chị - âm thầm kh hy vọng lúc rụt rè khi hậm hực lòng ghen ~tôi yêu chị~ yêu chân thành đằm thắm ~ cầu chị được ~ ng tình như tôi đã yêu chị
2026-02-16 06:57:50
1
yianbi99
yianbi99 :
“ Anh là người xấu nhưng không làm điều xấu với em “ 🥺
2026-04-19 16:17:05
0
kayles93
𝘁𝗿. :
muộn quá 🥰
2026-02-03 15:41:31
0
To see more videos from user @htc.166_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اولاد کو بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ گھر ہی سب سے محفوظ جگہ ہوتی ہے، ماں کی گود میں سکون ہوتا ہے، باپ کے سائے میں خوف مٹ جاتے ہیں۔   مگر جب وہی ماں باپ اپنے ہاتھوں سے اس کے خواب توڑ دیں، اس کی مرضی کو روند دیں، تو دنیا میں بچے کے پاس بچتا ہی کیا ہے؟   اس کا دل، جو کبھی کسی کے لیے دھڑکتا تھا، اسے زبردستی کچل دیا گیا۔   اس کی ہنسی، جو گھر میں گونجتی تھی، اب آہوں میں بدل گئی۔   اس کی آنکھیں، جو کل تک امید سے چمکتی تھیں، اب رات بھر آنسو بہاتی ہیں۔   نہ پوچھا گیا اس سے کہ وہ کس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے،   نہ سنا گیا اس کا درد، نہ سمجھا گیا اس کا دل۔   بس ایک فیصلہ سنایا گیا، جیسے وہ کوئی بے جان چیز ہو، جسے جہاں چاہو رکھ دو۔   اور جب اس نے مزاحمت کی، جب اس نے کہا کہ میرا دل وہاں نہیں لگتا،   تو اسے ضد، بے وفائی، اور ناشکری کے طعنے ملے۔   کہا گیا،
اولاد کو بچپن سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ گھر ہی سب سے محفوظ جگہ ہوتی ہے، ماں کی گود میں سکون ہوتا ہے، باپ کے سائے میں خوف مٹ جاتے ہیں۔ مگر جب وہی ماں باپ اپنے ہاتھوں سے اس کے خواب توڑ دیں، اس کی مرضی کو روند دیں، تو دنیا میں بچے کے پاس بچتا ہی کیا ہے؟ اس کا دل، جو کبھی کسی کے لیے دھڑکتا تھا، اسے زبردستی کچل دیا گیا۔ اس کی ہنسی، جو گھر میں گونجتی تھی، اب آہوں میں بدل گئی۔ اس کی آنکھیں، جو کل تک امید سے چمکتی تھیں، اب رات بھر آنسو بہاتی ہیں۔ نہ پوچھا گیا اس سے کہ وہ کس کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہے، نہ سنا گیا اس کا درد، نہ سمجھا گیا اس کا دل۔ بس ایک فیصلہ سنایا گیا، جیسے وہ کوئی بے جان چیز ہو، جسے جہاں چاہو رکھ دو۔ اور جب اس نے مزاحمت کی، جب اس نے کہا کہ میرا دل وہاں نہیں لگتا، تو اسے ضد، بے وفائی، اور ناشکری کے طعنے ملے۔ کہا گیا، "ہم تمہارے لیے بہتر سوچتے ہیں"، مگر بہتر کا پیمانہ کبھی اس سے نہ پوچھا گیا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کے اندر کا انسان مرنے لگا۔ وہ جو کبھی سب سے باتیں کرتا تھا، اب خاموش ہو گیا۔ وہ جو ہر کام شوق سے کرتا تھا، اب بے دلی سے کرتا ہے۔ نیند اُڑ گئی، بھوک مٹ گئی، اور چہرے پر وہ مسکراہٹ کبھی واپس نہ آئی۔ کوئی نہیں دیکھتا کہ اس کے اندر ایک قبر بن گئی ہے، جہاں اس کے جذبات دفن ہیں۔ اور سب سے بڑا ظلم یہ کہ اسی حالت میں، ٹوٹے دل اور بے جان روح کے ساتھ، اسے اس انسان کے حوالے کر دیا گیا جس سے وہ نفرت کرتا تھا۔ جس کے ساتھ جینے کا سوچ کر ہی اس کی سانس رکتی تھی۔ پھر بھی گھر والے سینہ تان کر کہتے ہیں، "ہم نے جو کیا، اس کی بھلائی کے لیے کیا"۔ کس بھلائی کے لیے؟ اسے زندہ لاش بنانے کے لیے؟ اس کی عزت نفس کو خاک میں ملانے کے لیے؟ اس کی زندگی کو ایک سزا بنانے کے لیے؟ بھلائی کا نام لے کر جب ظلم کیا جائے، تو ظلم دگنا ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کے ساتھ دھوکہ بھی شامل ہو جاتا ہے۔ یہ وہ زخم ہے جو دکھتا نہیں، مگر اندر ہی اندر انسان کو کھا جاتا ہے۔ اب وہ ہر روز جیتا ہے، مگر مرتا ہے ہر لمحہ۔ مسکراتا ہے، مگر وہ مسکراہٹ کسی کے کام کی نہیں رہی۔ چلتا ہے، مگر اس کے قدموں میں وہ جان نہیں رہی۔ اور جب کبھی رات کی تاریکی میں وہ اکیلا بیٹھ کر سوچتا ہے، تو صرف ایک سوال دل چیر دیتا ہے: کیا میں واقعی اتنی برا تھا کہ میرے اپنے ہی مجھے برباد کر دیں؟ ماں باپ کا نام محبت کا استعارہ ہوتا ہے، مگر جب وہی نام ظلم کا مترادف بن جائے، تو دنیا میں بچے کے لیے کوئی پناہ نہیں بچتی۔ اس نے معاف کرنے کی کوشش کی، بھولنے کی کوشش کی، مگر دل وہ کتاب نہیں جس کے صفحے پھاڑ کر پھینک دو۔ ہر سانس کے ساتھ وہی درد دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ آج وہ زندہ ہے، مگر صرف سانس لینے کے لیے۔ جیتا ہے، مگر اس زندگی میں اس کا اپنا کچھ نہیں۔ اور گھر والے آج بھی مطمئن ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنی انا کی تسکین کر لی، اپنی مرضی چلا لی۔ مگر کاش وہ جانتے کہ ایک دن، جب وہ بوڑھے ہوں گے، جب ان کے ہاتھ کانپیں گے، تو یہی بیٹا، جس کا دل انہوں نے توڑا تھا، ان کے سامنے بے جان کھڑا ہوگا، اور آنکھوں میں صرف خالی پن ہوگا۔ نہ شکوہ، نہ شکایت، بس ایک خاموشی جو چیخ چیخ کر کہے گا: "تم نے مجھے مارا، مگر لاش کو زندہ چھوڑ دیا"۔ یہ ہے وہ سچ، جو کوئی نہیں کہتا، مگر ہزاروں گھروں میں روز دہرایا جاتا ہے۔ اولاد کے دل مار کر، انہیں ذہنی مریض بنا کر، ناپسندیدہ کے حوالے کر دینے کے بعد، لوگ کہتے ہیں، "ہم نے سب کچھ اس کی بھلائی کے لیے کیا"۔ اور یہ جملہ، یہ ایک جملہ، اس بچے کے لیے موت سے بھی بدتر ہے۔ #onemillionviews #viralvideo #haqeeqatpasnd #creatorsearchinsights #creatorsearchinsights

About