@technical24qatar: تركيب منشر ملابس قابل للطي #قطر

technical24.qatar
technical24.qatar
Open In TikTok:
Region: AE
Thursday 05 March 2026 06:31:12 GMT
41133
92
37
28

Music

Download

Comments

mtda75
Mtda75 :
مناشر
2026-04-25 19:32:07
0
samiayoub.2
sami ayoub🇸🇾🇶🇦 :
ليش مافي رقم للتواصل ؟؟
2026-05-06 07:13:17
0
qa12391
qa123 :
كم السعر
2026-04-26 16:38:07
0
dyrguft3tmtm
خليفة 🇶🇦 :
ارسل
2026-05-04 11:48:04
0
user94281915556781
ام مبارك :
منشر
2026-04-23 12:13:59
0
free_syria_suport
.سورية.حرة.للابد :
السعر لو سمحت
2026-04-23 14:11:02
0
samiraelsammak1
Samira Elsammak :
كام سعره
2026-04-24 13:19:02
0
jeo_992
﮼سيدالناس :
السعر
2026-04-25 17:33:02
0
samiayoub.2
sami ayoub🇸🇾🇶🇦 :
مناشر مناشر مناشر
2026-05-06 07:12:56
0
sajah383
sajah :
كم السعر
2026-05-01 11:47:12
0
mtda75
Mtda75 :
كم السعر
2026-04-25 19:32:17
0
user8433494190463
احمد الملطاوي :
كم السعر
2026-04-24 07:54:13
0
user5163295237123
user5163295237123 :
مناشر
2026-04-23 19:13:37
0
dyrguft3tmtm
خليفة 🇶🇦 :
مناشر
2026-05-04 11:48:10
0
userhl27
Hozayfa :
مناشر
2026-04-24 13:53:35
0
allahisthegreatest697
im :
مناشر
2026-05-03 07:29:23
0
dhawams
﮼ض✨ :
مناشر
2026-04-26 14:27:04
0
sk_yh
اسلوب راقي حنيا الغيث :
منتشر بكم
2026-05-01 09:10:09
0
To see more videos from user @technical24qatar, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Yeh zameen teri nahin, meri nahi tere aaba ki nahin meri nahi ..  تشریح  اَلارضُ لِلّہ   پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب مطلب: ان چار اشعار پر مشتمل اس نظم کا بنیادی موضوع زمین کی ملکیت کا مسئلہ ہے ۔ احکام قرآنی اور تعلیمات اسلامی کے حوالے سے اقبال یہاں کہتے ہیں کہ زمین کا مالک زمنیدار اور جاگیردار نہیں بلکہ خدائے ذوالجلال ہے ۔ اور جو کاشتکار اپنی اپنی محنت سے اس کی آبیاری کر کے فصل اگاتا ہے وہ اگر کسی کے سامنے جوابدہ ہے تو وہ محض ذات خداوندی ہے ۔ لہذا زمیندار اور جاگیردار وں کو جنہوں نے تمام زمینوں پر اپنی اجارہ داری کر کے مزارعین اور کاشتکاروں کو اپنا غلام بنایا ہے اور ان لوگوں کی خون پسینے کی کمائی سے ہی اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور پھر عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ سو اقبال زمینداروں اور جاگیرداروں سے استفسار کرتے ہیں کہ براہ کرم اتنا تو بتا دو کہ وہ کون ہے جو زمین پر ہل چلا کر وہاں فصل اگانے کے لیے بیج ڈالتا ہے اورا س عمل کے لیے کس نے اسے اتنی صلاحیت عطا کی ہے پھر اس بیج کی پرورش کون کرتا ہے اور وہ کون ہے جو دریاؤں اور سمندروں کی موجوں سے پانی کشید کر کے بادلوں میں محفوظ کرتا ہے اور پھر ان محفوظ ذخائر اگتی ہوئی فصلوں کو تازگی اور نشوونما کے مراحل سے گزارتا ہے ۔   کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار خاک یہ کس کی ہےکس کا ہے یہ نورِ آفتاب مطلب: اس سوال کا جواب بھی دے کہ انہی فصلوں کی پرداخت کے لیے مغرب سے جو ہوائیں آتی ہیں وہ کس کے حکم سے آتی ہیں ۔ یہ زمین کس کی ہے اور سورج جو روشنی فراہم کرتا ہے کس کے حکم سے کرتا ہے ۔   کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہَ گندم کی جیب موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب مطلب: وہ کون سی قوت ہے جو وقتا فوقتا موسموں میں تبدیلی لاتی ہے اور گندم کی فصل پکنے پر اس کے سنہری خوشے موتیوں جیسے دانوں سے بھر دیتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ وہ خدا کے علاوہ کوئی نہیں ۔   دہِ خدایا! یہ ز میں تیری نہیں ، تیری نہیں  تیرے آبا کی نہیں ، تیری نہیں ، میری نہیں  مطلب: اے زمینوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے والے شخص! یہ حقیقت تجھ پر واضح کرنی ضروری ہے کہ یہ زمین نہ تیری ہے نا تیرے آباء و اجداد اس کے مالک ہیں ۔ نہ میری ہے بلکہ اس زمین کا مالک حقیقی تو وہ رب ذوالجلال ہے جس نے ہم سب کو اور پوری کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ #allamaiqbal  #ziamohyeddin  #zameen
Yeh zameen teri nahin, meri nahi tere aaba ki nahin meri nahi .. تشریح اَلارضُ لِلّہ پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون کون دریاؤں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب مطلب: ان چار اشعار پر مشتمل اس نظم کا بنیادی موضوع زمین کی ملکیت کا مسئلہ ہے ۔ احکام قرآنی اور تعلیمات اسلامی کے حوالے سے اقبال یہاں کہتے ہیں کہ زمین کا مالک زمنیدار اور جاگیردار نہیں بلکہ خدائے ذوالجلال ہے ۔ اور جو کاشتکار اپنی اپنی محنت سے اس کی آبیاری کر کے فصل اگاتا ہے وہ اگر کسی کے سامنے جوابدہ ہے تو وہ محض ذات خداوندی ہے ۔ لہذا زمیندار اور جاگیردار وں کو جنہوں نے تمام زمینوں پر اپنی اجارہ داری کر کے مزارعین اور کاشتکاروں کو اپنا غلام بنایا ہے اور ان لوگوں کی خون پسینے کی کمائی سے ہی اپنی تجوریاں بھرتے ہیں اور پھر عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ سو اقبال زمینداروں اور جاگیرداروں سے استفسار کرتے ہیں کہ براہ کرم اتنا تو بتا دو کہ وہ کون ہے جو زمین پر ہل چلا کر وہاں فصل اگانے کے لیے بیج ڈالتا ہے اورا س عمل کے لیے کس نے اسے اتنی صلاحیت عطا کی ہے پھر اس بیج کی پرورش کون کرتا ہے اور وہ کون ہے جو دریاؤں اور سمندروں کی موجوں سے پانی کشید کر کے بادلوں میں محفوظ کرتا ہے اور پھر ان محفوظ ذخائر اگتی ہوئی فصلوں کو تازگی اور نشوونما کے مراحل سے گزارتا ہے ۔ کون لایا کھینچ کر پچھم سے بادِ سازگار خاک یہ کس کی ہےکس کا ہے یہ نورِ آفتاب مطلب: اس سوال کا جواب بھی دے کہ انہی فصلوں کی پرداخت کے لیے مغرب سے جو ہوائیں آتی ہیں وہ کس کے حکم سے آتی ہیں ۔ یہ زمین کس کی ہے اور سورج جو روشنی فراہم کرتا ہے کس کے حکم سے کرتا ہے ۔ کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہَ گندم کی جیب موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب مطلب: وہ کون سی قوت ہے جو وقتا فوقتا موسموں میں تبدیلی لاتی ہے اور گندم کی فصل پکنے پر اس کے سنہری خوشے موتیوں جیسے دانوں سے بھر دیتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ وہ خدا کے علاوہ کوئی نہیں ۔ دہِ خدایا! یہ ز میں تیری نہیں ، تیری نہیں تیرے آبا کی نہیں ، تیری نہیں ، میری نہیں مطلب: اے زمینوں پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے والے شخص! یہ حقیقت تجھ پر واضح کرنی ضروری ہے کہ یہ زمین نہ تیری ہے نا تیرے آباء و اجداد اس کے مالک ہیں ۔ نہ میری ہے بلکہ اس زمین کا مالک حقیقی تو وہ رب ذوالجلال ہے جس نے ہم سب کو اور پوری کائنات کو پیدا کیا ہے ۔ #allamaiqbal #ziamohyeddin #zameen

About