@gech_tik: መልስ#ethiopian_tik_tok

gecho funy
gecho funy
Open In TikTok:
Region: ET
Sunday 15 March 2026 15:16:34 GMT
215433
8063
71
532

Music

Download

Comments

user4858224179922
Yordi :
yimech
2026-04-27 19:15:31
0
iamgech981
Gech Aba :
awo blockizer new lela mnm yelem🥰🥰
2026-03-15 18:04:41
4
one.love9809
one 💕 love :
Aboo yemechek 🥰🥰🥰🥰
2026-03-18 20:08:14
2
desalegnashagrie3
Desalegn Ashagrie :
እውነት
2026-04-16 10:29:03
1
user85412257452484
ልደትዬ :
የምር ትለያለህ❤️❤️❤️
2026-03-17 23:16:06
2
soliayanamesrete
Soliayana Mesrete :
አረ አነተ ልጂ💖💖❤😂😂😂😂😂
2026-03-15 19:12:13
2
endelbuyirgetache
endelbu YIRgetachew :
yimechih
2026-03-17 10:25:40
1
ererererer035
ማሜ 🌷ግደለሹ🌹🌹 :
ይሜ አቦ
2026-03-16 17:58:26
2
.lake_23
ላቀ የ23 ልጅ :
እኔ ተመችቶኛል እ...
2026-03-16 05:58:34
1
user15007490951995
ያምላክ እናት የነገርኩሽን አደራሽን :
እኮ
2026-03-15 18:28:55
1
samson48335
SAMSON :
እሚቢታይዘር 💪💪💪
2026-03-16 18:27:58
0
gebrie.muche
Gebrie Muche :
Zega Yadrgh
2026-04-04 16:20:00
0
dani825400
ሸንቁጤ አንድ ቁጥር ላጤ💞💬💞 :
eko😂😂😂
2026-03-26 11:04:31
0
user4122666266818
ታሪኩ :
blockizer
2026-03-15 15:23:52
0
user5650104735461
ማንል...ል🤔 :
እኮ😁😁😁😁😂😂😂😂
2026-03-15 17:08:59
0
endalk9699
Endalk :
🥰🥰🥰
2026-04-10 20:41:26
1
dacsa.garba
dacsa garba :
🥰🥰🥰
2026-04-09 20:34:46
1
abayneh2271
abayneh2271 :
😁😁😁😁
2026-03-19 10:45:49
1
mekdes.getachew18
mekdes እያነቡ እሰክሰታ😭😂 :
😳😳😳😳😳
2026-03-19 19:52:29
1
ashenafi_tik
ተረቱ :
🙏😁😁😁
2026-03-19 12:43:57
1
gedlu1234
አብማ ማርቆስ :
🥰🥰🥰
2026-03-18 05:20:19
1
etagu235
አታጓጅው :
😂😂😂😂
2026-03-17 17:00:05
1
zola.tilahuun
Zola Tilahuun :
🥰🥰🥰
2026-03-17 16:30:06
1
user3149208275249
Berekte dc :
❤️❤️❤️
2026-03-16 20:09:19
1
yohennswerkie
yohannes :
🥰🥰🥰
2026-03-15 18:48:45
1
To see more videos from user @gech_tik, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

نواب نوروز خان زرکزئی  (پیدائش: 1875، ضلع خضدار) بلوچستان کے ایک معزز قبائلی رہنما تھے جو برطانوی دور سے ہی مزاحمتی تحریکوں میں سرگرم رہے۔ انہوں نے 1908–1910 کے دوران سرکاری ملازمت کی، مگر اپنے بھائی کی انگریزوں کے خلاف بغاوت کے بعد ملازمت چھوڑ کر جدوجہد میں شامل ہوگئے۔ 1914 سے 1932 تک وہ مختلف بغاوتوں کی قیادت کرتے رہے اور کئی بار گرفتار ہو کر مختلف جیلوں میں قید رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے ریاستِ قلات کے پاکستان سے الحاق کی مخالفت کی۔ 1958 میں جب خان آف قلات میر احمد یار خان کو گرفتار کیا گیا اور ون یونٹ نافذ ہوا تو بلوچستان میں بے چینی پھیل گئی۔ اس کے بعد نواب نوروز خان نے دوبارہ مسلح مزاحمت شروع کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ون یونٹ ختم کیا جائے، خان آف قلات کو رہا کیا جائے اور بلوچستان کی حیثیت بحال کی جائے۔ حکومت نے طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی اپنایا۔ نواب نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو پہاڑوں سے نیچے لانے کے لیے قرآن کو بطور ضمانت پیش کیا گیا۔ اس یقین دہانی پر وہ نیچے آئے، مگر بعد میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر فوجی عدالت میں بغاوت اور غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے آٹھ افراد کو سزائے موت سنائی، لیکن نواب نوروز خان کی زیادہ عمر (تقریباً 85 سال) کی وجہ سے ان کی سزا عمر قید میں بدل دی گئی۔ باقی سات افراد کو 15 جولائی 1960 کو پھانسی دے دی گئی۔ ان میں ان کا بیٹا بٹے خان سمیت دیگر ساتھی شامل تھے، جنہیں حیدرآباد اور سکھر جیلوں میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ روایات کے مطابق جب ان کے بیٹے اور ساتھیوں کی لاشیں ان کے سامنے لائی گئیں تو انہوں نے غیر معمولی صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ غم کا نہیں بلکہ فخر کا مقام ہے۔ نواب نوروز خان نے جیل میں رہتے ہوئے معافی کی تمام پیشکشیں مسترد کر دیں اور آخرکار 25 دسمبر 1965 کو حیدرآباد جیل میں وفات پا گئے۔ بعد میں انہیں قلات میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا گیا۔ یہ واقعہ بلوچستان کی تاریخ میں ایک اہم اور متنازع باب سمجھا جاتا ہے، جسے کچھ لوگ جدوجہد اور قربانی کی علامت جبکہ کچھ ریاستی بغاوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
نواب نوروز خان زرکزئی (پیدائش: 1875، ضلع خضدار) بلوچستان کے ایک معزز قبائلی رہنما تھے جو برطانوی دور سے ہی مزاحمتی تحریکوں میں سرگرم رہے۔ انہوں نے 1908–1910 کے دوران سرکاری ملازمت کی، مگر اپنے بھائی کی انگریزوں کے خلاف بغاوت کے بعد ملازمت چھوڑ کر جدوجہد میں شامل ہوگئے۔ 1914 سے 1932 تک وہ مختلف بغاوتوں کی قیادت کرتے رہے اور کئی بار گرفتار ہو کر مختلف جیلوں میں قید رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے ریاستِ قلات کے پاکستان سے الحاق کی مخالفت کی۔ 1958 میں جب خان آف قلات میر احمد یار خان کو گرفتار کیا گیا اور ون یونٹ نافذ ہوا تو بلوچستان میں بے چینی پھیل گئی۔ اس کے بعد نواب نوروز خان نے دوبارہ مسلح مزاحمت شروع کی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ون یونٹ ختم کیا جائے، خان آف قلات کو رہا کیا جائے اور بلوچستان کی حیثیت بحال کی جائے۔ حکومت نے طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی اپنایا۔ نواب نوروز خان اور ان کے ساتھیوں کو پہاڑوں سے نیچے لانے کے لیے قرآن کو بطور ضمانت پیش کیا گیا۔ اس یقین دہانی پر وہ نیچے آئے، مگر بعد میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر فوجی عدالت میں بغاوت اور غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے آٹھ افراد کو سزائے موت سنائی، لیکن نواب نوروز خان کی زیادہ عمر (تقریباً 85 سال) کی وجہ سے ان کی سزا عمر قید میں بدل دی گئی۔ باقی سات افراد کو 15 جولائی 1960 کو پھانسی دے دی گئی۔ ان میں ان کا بیٹا بٹے خان سمیت دیگر ساتھی شامل تھے، جنہیں حیدرآباد اور سکھر جیلوں میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ روایات کے مطابق جب ان کے بیٹے اور ساتھیوں کی لاشیں ان کے سامنے لائی گئیں تو انہوں نے غیر معمولی صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ غم کا نہیں بلکہ فخر کا مقام ہے۔ نواب نوروز خان نے جیل میں رہتے ہوئے معافی کی تمام پیشکشیں مسترد کر دیں اور آخرکار 25 دسمبر 1965 کو حیدرآباد جیل میں وفات پا گئے۔ بعد میں انہیں قلات میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن کیا گیا۔ یہ واقعہ بلوچستان کی تاریخ میں ایک اہم اور متنازع باب سمجھا جاتا ہے، جسے کچھ لوگ جدوجہد اور قربانی کی علامت جبکہ کچھ ریاستی بغاوت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

About