@jvmingbags: Portable Travel Storage Bag Set, Organize Clothes & Accessories, Ideal for Luggage & Suitcases, Essential Travel Essentials #toiletrybag #cruisemusthaves #travelbags #bagsmarttravel #luggagereview #luggageorganizer #travelgeargoals #travelaccessory #diaperbagpacking #travelselfieessentials

bagmaster
bagmaster
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 15 March 2026 15:41:46 GMT
322
0
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @jvmingbags, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام ابو یوسف سے شکوہ کیا کہ حضرت! کیا وجہ ہے کہ اب مدرسے میں بچوں کا داخلہ کم ہو گیا ہے اور لوگ اپنے بچوں کو دین کی تعلیم کے لیے پہلے کی طرح نہیں بھیج رہے؟ امام ابو یوسف نے خلیفہ کی بات سن کر مسکرا دیا اور فرمایا کہ آپ کے اس سوال کا جواب اگلے سال دوں گا۔ کچھ دن گزرے عید آ گئی۔ خلیفہ ہارون الرشید نمازِ عید کے لیے عیدگاہ پہنچا تو اس نے دیکھا کہ مصلےسے امام صاحب غائب ہیں۔ خلیفہ کے انتظار اور بلاوے کے باوجود امام صاحب نہیں آئے۔ سورج بلند ھونے لگا، خلیفہ نے سختی سے لوگوں کو بھیجا تو لوگ آ کر کہنے لگے کہ انہوں نے شرط رکھی ہے کہ میں باہر تب آؤں گا، جب میری پالکی کے ایک کونے کو خود خلیفہ ہارون الرشید اپنے کندھے پر اٹھا کر لے جائے۔  ہارون الرشید ایک عالم دوست حکمران تھا، وزراء اور لوگوں کی حیرانگی اور منع کرنے کے باوجود شرط مان لی اور آگے بڑھ کر امام ابویوسف کی پالکی کا ایک کونا اپنے کندھے پر اٹھا کر بھرے ھوئے عید گاہ کیطرف چلنا شروع دیا۔ عیدگاہ میں پہلے ہی ہزاروں کا مجمہ تھا لیکن خلیفہ اور امام صاحب کے مطالبات کا سن کر مجمہ بیسیوں گنا بڑھ چکا تھا۔ جب پالکی عید گاہ پہنچی تو امام صاحب نے اسے رکوانے کا حکم دیا، وہ نیچے اترے اور ہارون الرشید کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ بادشاہ سلامت! یاد ہے آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ مدرسے میں بچوں کا داخلہ کیوں کم ہو گیا ہے؟ اب اپنے چاروں طرف اس ہجوم کو دیکھو۔ جب لوگوں نے یہ منظر دیکھ لیا ہے کہ دین کا علم پڑھنے والے کی پالکی کو وقت کا بادشاہ کندھا دے رہا ہے، تو اگلے سال نہیں،کل صبح ہی دیکھنا کہ لوگ اپنے بچوں کو بازوؤں سے پکڑ پکڑ کر مدرسے لائیں گے تاکہ ان کے بچے بھی علمِ دین حاصل کر کے اس بلند مقام پر پہنچ سکیں۔ ۔ پاکستان میں 2024، 25 اور 26 کے تین سالوں کے صدارتی ایوارڈز میں سے 73 ایوارڈز اداکاروں، فنکاروں، گلوکاروں، سوشل میڈیا انفلوانسرز اور فلمی ڈائریکٹرز کو، 10 ایوارڈز سائنٹسٹ اور ایجوکیشنسٹ کو اور 4 ایوارڈز مختلف مسالک کے علماء کو ملے۔ حکومتی ترجیحات فیصلہ کرتی ہیں کہ ملک چند سالوں میں کس پوزیشن پہ کھڑا ھو گا۔  اب ہمارا ملک کس سمت میں جا رہا ہے یا جائے گا اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ۔
ایک مرتبہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام ابو یوسف سے شکوہ کیا کہ حضرت! کیا وجہ ہے کہ اب مدرسے میں بچوں کا داخلہ کم ہو گیا ہے اور لوگ اپنے بچوں کو دین کی تعلیم کے لیے پہلے کی طرح نہیں بھیج رہے؟ امام ابو یوسف نے خلیفہ کی بات سن کر مسکرا دیا اور فرمایا کہ آپ کے اس سوال کا جواب اگلے سال دوں گا۔ کچھ دن گزرے عید آ گئی۔ خلیفہ ہارون الرشید نمازِ عید کے لیے عیدگاہ پہنچا تو اس نے دیکھا کہ مصلےسے امام صاحب غائب ہیں۔ خلیفہ کے انتظار اور بلاوے کے باوجود امام صاحب نہیں آئے۔ سورج بلند ھونے لگا، خلیفہ نے سختی سے لوگوں کو بھیجا تو لوگ آ کر کہنے لگے کہ انہوں نے شرط رکھی ہے کہ میں باہر تب آؤں گا، جب میری پالکی کے ایک کونے کو خود خلیفہ ہارون الرشید اپنے کندھے پر اٹھا کر لے جائے۔ ہارون الرشید ایک عالم دوست حکمران تھا، وزراء اور لوگوں کی حیرانگی اور منع کرنے کے باوجود شرط مان لی اور آگے بڑھ کر امام ابویوسف کی پالکی کا ایک کونا اپنے کندھے پر اٹھا کر بھرے ھوئے عید گاہ کیطرف چلنا شروع دیا۔ عیدگاہ میں پہلے ہی ہزاروں کا مجمہ تھا لیکن خلیفہ اور امام صاحب کے مطالبات کا سن کر مجمہ بیسیوں گنا بڑھ چکا تھا۔ جب پالکی عید گاہ پہنچی تو امام صاحب نے اسے رکوانے کا حکم دیا، وہ نیچے اترے اور ہارون الرشید کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ بادشاہ سلامت! یاد ہے آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ مدرسے میں بچوں کا داخلہ کیوں کم ہو گیا ہے؟ اب اپنے چاروں طرف اس ہجوم کو دیکھو۔ جب لوگوں نے یہ منظر دیکھ لیا ہے کہ دین کا علم پڑھنے والے کی پالکی کو وقت کا بادشاہ کندھا دے رہا ہے، تو اگلے سال نہیں،کل صبح ہی دیکھنا کہ لوگ اپنے بچوں کو بازوؤں سے پکڑ پکڑ کر مدرسے لائیں گے تاکہ ان کے بچے بھی علمِ دین حاصل کر کے اس بلند مقام پر پہنچ سکیں۔ ۔ پاکستان میں 2024، 25 اور 26 کے تین سالوں کے صدارتی ایوارڈز میں سے 73 ایوارڈز اداکاروں، فنکاروں، گلوکاروں، سوشل میڈیا انفلوانسرز اور فلمی ڈائریکٹرز کو، 10 ایوارڈز سائنٹسٹ اور ایجوکیشنسٹ کو اور 4 ایوارڈز مختلف مسالک کے علماء کو ملے۔ حکومتی ترجیحات فیصلہ کرتی ہیں کہ ملک چند سالوں میں کس پوزیشن پہ کھڑا ھو گا۔ اب ہمارا ملک کس سمت میں جا رہا ہے یا جائے گا اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ۔

About