@paige_hodkiewicz: Will be whipping this out in yoga the next time I go #yoga

Paige H
Paige H
Open In TikTok:
Region: US
Friday 27 March 2026 01:35:54 GMT
15114841
1070920
2190
82798

Music

Download

Comments

user12546783146
user12546783146 :
that looks easy
2026-03-29 11:31:37
111138
takinglittlestodisney
Jessica R. :
Tried it. My double chin was choking me out.
2026-03-28 02:37:05
122354
first.girlonearth.kaya
user96243353416 :
tried it. twisted my ankle n farted. you go girl
2026-03-28 03:36:23
24033
tazlynmartinez
TAZLYN :
Guess what my ego is saying rn…
2026-03-27 19:23:37
31944
soisay
D :
I was 100% convinced I could do this. Turns out I can’t.
2026-03-28 00:32:49
889
itsdanibananni
𝑫𝒂𝒏𝒊𝑩•YourFitnessCyster• :
Instructions unclear my foot is stuck in my crack
2026-03-28 01:40:27
3599
jenna_melvin
Jenna Melvin :
Alright let me get out of bed
2026-03-27 20:09:59
2880
krista.hamer
Krista Hamer :
My arms are like not long enough hahaha
2026-03-27 14:43:34
21379
manuelagudelo_
Manuela Agudelo :
Easy peasy
2026-03-29 19:22:22
3964
thelisalewis
thelisalewis :
Now I have to get out of bed and lay on my floor at 12:27am
2026-03-28 04:27:16
760
bodybyhannah_
yoga & Lagree girlie :
You make this look so easy I’ve tried and failed miserably
2026-03-27 18:42:01
3398
emily_elizabeth06
Ems🌾🐮 :
That’s easy…
2026-03-29 18:18:29
569
iva_ana001
𝓲𝓿𝓪𝓷𝓪,,, :
I could do it, trust.
2026-03-30 16:59:53
320
urfavtattedbrunette
urfavtattedbrunette :
My boobs would quite literally suffocate me if I did this
2026-03-28 20:42:06
698
madieglista
Madie Glista :
Hey so this isn’t a yoga pose. It’s a silly adaptation of one!
2026-03-28 02:09:40
150
lacyyanderson
Lacy Anderson :
Brb.. Omw to pull a muscle
2026-03-27 23:56:31
852
b.krazer
🖤🌸MiseryRogue🌸🖤 :
My ego said I could. My body said I can’t.
2026-03-29 01:13:58
110
wiener.rudi
wiener.rudi :
wait im 8 mnths pregnant, remind me in 2 months
2026-03-29 12:06:08
155
hennie.priv.brk
Hennie67🤍 :
To easy 🙄
2026-03-31 11:01:15
19
jowilliams587
jowilliams587 :
tried it..... My double chins restricted my wind pipe and I nearly died 💀
2026-03-29 15:24:07
31
redheadgemini94
redheadgemini94 :
My boobs almost killed me doing this
2026-03-28 05:50:20
677
maylen.van.glabeke
🅜🅐🅨🅛🅔🅝☆ :
i just rolled over and farted.
2026-03-28 23:52:03
89
amyh92
Amy lou :
I’d fold like a deck chair
2026-03-31 18:33:30
9
lazyyy_kayz
Kaylee :
Tried it. Almost pooped my pants.
2026-03-28 02:46:45
159
shieldmaideneowyn
Éowyn :
me with a belly full of tacos and an idea.
2026-03-27 21:24:54
83
To see more videos from user @paige_hodkiewicz, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

میں اپنے تمام گاؤں والوں سے ایک نہایت سنگین مسئلے کے حوالے سے مخاطب ہوں، جو نہ صرف ہماری تہذیب، معاشرت اور دینی اقدار کے خلاف ہے بلکہ ہماری روایات کے بھی منافی ہے۔ میں گزشتہ تقریباً دس سال سے مینی سے پشاور تک بس میں سفر کر رہا ہوں۔ بدقسمتی سے گزشتہ ایک دو سال سے بس کے عملے، خصوصاً کنڈکٹرز، کا رویہ انتہائی افسوسناک ہو چکا ہے، خاص طور پر خواتین کے معاملے میں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بس میں خواتین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے مرد حضرات کو مینی سے ہی کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ بس کو گنجائش سے زیادہ بھر لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے خواتین کو اپنی نشست تک پہنچنے کے لیے مردوں کے ہجوم میں سے گزرنا پڑتا ہے اور شدید دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ آپ ویڈیو میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ خواتین کو کس طرح بس میں سوار اور اتارا جاتا ہے۔ ویڈیو بناتے وقت رش نسبتاً کم تھا، جبکہ انبار پہنچنے سے پہلے بس میں کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہیں ہوتی۔ پھر جب پشاور میں خواتین کو اتارا جاتا ہے تو مردوں کو نشستوں کی طرف مڑنے کا کہا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود خواتین کو دوبارہ مردوں کے درمیان سے گزر کر اترنا پڑتا ہے، جو نہایت تکلیف دہ اور شرمناک صورتحال ہے۔ ہم اس پلیٹ فارم کے ذریعے تمام متعلقہ افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے۔ یہ خواتین ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں، اور اسی علاقے اور ضلع صوابی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس مسئلے سے مینی جرگہ کو بھی پہلے کئی مرتبہ آگاہ کیا جا چکا ہے، لیکن افسوس کہ اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ ہماری متعلقہ حکام اور ٹرانسپورٹ مالکان سے گزارش ہے کہ یا تو بس میں گنجائش سے زیادہ سواریاں نہ بٹھائی جائیں، یا پھر خواتین اور مردوں کے لیے الگ گاڑی کا انتظام کیا جائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم اس بس میں دوسری بسوں کی طرح ایک اضافی آؤٹ ڈور (دروازہ) فراہم کیا جائے تاکہ خواتین کو چڑھنے اور اترنے میں آسانی ہو۔ اگر اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو ہم مجبوراً ایک ہائی ایس سروس شروع کرنے پر غور کریں گے، جو اسی وقت مینی اڈے سے پشاور کے لیے روانہ ہوگی۔ ایسی صورت میں بس مالکان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ہمارا مقصد صرف اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے باعزت اور محفوظ سفر یقینی بنانا ہے۔ مجھے امید ہے کہ گاؤں کے تمام لوگ اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لیں گے اور اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت، وقار اور تحفظ کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ شکریہ۔ Addl. Assistant Commissioner Topi Deputy Commissioner Swabi @highlight Maini Press @M
میں اپنے تمام گاؤں والوں سے ایک نہایت سنگین مسئلے کے حوالے سے مخاطب ہوں، جو نہ صرف ہماری تہذیب، معاشرت اور دینی اقدار کے خلاف ہے بلکہ ہماری روایات کے بھی منافی ہے۔ میں گزشتہ تقریباً دس سال سے مینی سے پشاور تک بس میں سفر کر رہا ہوں۔ بدقسمتی سے گزشتہ ایک دو سال سے بس کے عملے، خصوصاً کنڈکٹرز، کا رویہ انتہائی افسوسناک ہو چکا ہے، خاص طور پر خواتین کے معاملے میں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بس میں خواتین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے مرد حضرات کو مینی سے ہی کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ بس کو گنجائش سے زیادہ بھر لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے خواتین کو اپنی نشست تک پہنچنے کے لیے مردوں کے ہجوم میں سے گزرنا پڑتا ہے اور شدید دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ آپ ویڈیو میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ خواتین کو کس طرح بس میں سوار اور اتارا جاتا ہے۔ ویڈیو بناتے وقت رش نسبتاً کم تھا، جبکہ انبار پہنچنے سے پہلے بس میں کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہیں ہوتی۔ پھر جب پشاور میں خواتین کو اتارا جاتا ہے تو مردوں کو نشستوں کی طرف مڑنے کا کہا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود خواتین کو دوبارہ مردوں کے درمیان سے گزر کر اترنا پڑتا ہے، جو نہایت تکلیف دہ اور شرمناک صورتحال ہے۔ ہم اس پلیٹ فارم کے ذریعے تمام متعلقہ افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے۔ یہ خواتین ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں، اور اسی علاقے اور ضلع صوابی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس مسئلے سے مینی جرگہ کو بھی پہلے کئی مرتبہ آگاہ کیا جا چکا ہے، لیکن افسوس کہ اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ ہماری متعلقہ حکام اور ٹرانسپورٹ مالکان سے گزارش ہے کہ یا تو بس میں گنجائش سے زیادہ سواریاں نہ بٹھائی جائیں، یا پھر خواتین اور مردوں کے لیے الگ گاڑی کا انتظام کیا جائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم اس بس میں دوسری بسوں کی طرح ایک اضافی آؤٹ ڈور (دروازہ) فراہم کیا جائے تاکہ خواتین کو چڑھنے اور اترنے میں آسانی ہو۔ اگر اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو ہم مجبوراً ایک ہائی ایس سروس شروع کرنے پر غور کریں گے، جو اسی وقت مینی اڈے سے پشاور کے لیے روانہ ہوگی۔ ایسی صورت میں بس مالکان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ہمارا مقصد صرف اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے باعزت اور محفوظ سفر یقینی بنانا ہے۔ مجھے امید ہے کہ گاؤں کے تمام لوگ اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لیں گے اور اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت، وقار اور تحفظ کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ شکریہ۔ Addl. Assistant Commissioner Topi Deputy Commissioner Swabi @highlight Maini Press @M

About