@maini.press: میں اپنے تمام گاؤں والوں سے ایک نہایت سنگین مسئلے کے حوالے سے مخاطب ہوں، جو نہ صرف ہماری تہذیب، معاشرت اور دینی اقدار کے خلاف ہے بلکہ ہماری روایات کے بھی منافی ہے۔ میں گزشتہ تقریباً دس سال سے مینی سے پشاور تک بس میں سفر کر رہا ہوں۔ بدقسمتی سے گزشتہ ایک دو سال سے بس کے عملے، خصوصاً کنڈکٹرز، کا رویہ انتہائی افسوسناک ہو چکا ہے، خاص طور پر خواتین کے معاملے میں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بس میں خواتین کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے مرد حضرات کو مینی سے ہی کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ بس کو گنجائش سے زیادہ بھر لیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے خواتین کو اپنی نشست تک پہنچنے کے لیے مردوں کے ہجوم میں سے گزرنا پڑتا ہے اور شدید دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسا کہ آپ ویڈیو میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ خواتین کو کس طرح بس میں سوار اور اتارا جاتا ہے۔ ویڈیو بناتے وقت رش نسبتاً کم تھا، جبکہ انبار پہنچنے سے پہلے بس میں کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہیں ہوتی۔ پھر جب پشاور میں خواتین کو اتارا جاتا ہے تو مردوں کو نشستوں کی طرف مڑنے کا کہا جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود خواتین کو دوبارہ مردوں کے درمیان سے گزر کر اترنا پڑتا ہے، جو نہایت تکلیف دہ اور شرمناک صورتحال ہے۔ ہم اس پلیٹ فارم کے ذریعے تمام متعلقہ افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ اس مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے۔ یہ خواتین ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں، اور اسی علاقے اور ضلع صوابی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اس مسئلے سے مینی جرگہ کو بھی پہلے کئی مرتبہ آگاہ کیا جا چکا ہے، لیکن افسوس کہ اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ ہماری متعلقہ حکام اور ٹرانسپورٹ مالکان سے گزارش ہے کہ یا تو بس میں گنجائش سے زیادہ سواریاں نہ بٹھائی جائیں، یا پھر خواتین اور مردوں کے لیے الگ گاڑی کا انتظام کیا جائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم اس بس میں دوسری بسوں کی طرح ایک اضافی آؤٹ ڈور (دروازہ) فراہم کیا جائے تاکہ خواتین کو چڑھنے اور اترنے میں آسانی ہو۔ اگر اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو ہم مجبوراً ایک ہائی ایس سروس شروع کرنے پر غور کریں گے، جو اسی وقت مینی اڈے سے پشاور کے لیے روانہ ہوگی۔ ایسی صورت میں بس مالکان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ہمارا مقصد صرف اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے باعزت اور محفوظ سفر یقینی بنانا ہے۔ مجھے امید ہے کہ گاؤں کے تمام لوگ اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لیں گے اور اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت، وقار اور تحفظ کے لیے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔ شکریہ۔ Addl. Assistant Commissioner Topi Deputy Commissioner Swabi @highlight Maini Press @M